حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، پاکستان کے شہر کراچی میں جامع مسجد و امام بارگاہ نورِ ایمان میں "استقبال ماہ محرم" کی مناسبت سے علمی نشست کا انعقاد کیا گیا۔ جس میں جامعۃ المصطفیٰ کراچی کے مدیر حجت الاسلام والمسلمین سید عمار ہمدانی نے خطاب کیا۔
انہوں نے کہا: واقعۂ کربلا کی بقا اور اس کے پیغام کے تحفظ میں خواتین کا کردار نہایت اہم اور تاریخی حیثیت رکھتا ہے۔ اگرچہ مردوں نے میدانِ کربلا میں عظیم قربانیاں پیش کیں، لیکن ان قربانیوں کو زندہ رکھنے، ان کے پیغام کو نسل در نسل منتقل کرنے اور حق کی آواز کو ایوانِ اقتدار تک پہنچانے کا فریضہ خواتینِ اہلِ بیتؑ نے انجام دیا۔
حجت الاسلام والمسلمین سید عمار ہمدانی نے کہا: کہا جاتا ہے کہ "کسی تحریک کو برپا کرنے والوں سے زیادہ، اسے زندہ اور مؤثر رکھنے والوں کی ضرورت ہوتی ہے۔" خواتینِ کربلا نے اس ذمہ داری کو بہترین انداز میں نبھایا۔ اس سلسلے میں درج ذیل نکات قابلِ توجہ ہیں:
1۔ وفاداری، حمایت اور ہمراہی
خواتین نے مدینہ سے مکہ، مکہ سے کربلا اور پھر کربلا سے شام تک ہر مرحلے میں امام حسینؑ اور ان کے اصحاب کا بھرپور ساتھ دیا۔ انہوں نے ہر مشکل اور آزمائش میں وفاداری اور استقامت کی مثال قائم کی۔
2۔ حوصلہ افزائی اور عزم کی تقویت
کربلا کی خواتین نے ہر موقع پر اصحابِ امام حسینؑ کی حوصلہ افزائی کی، ان کے عزم و استقلال کو مضبوط کیا اور راہِ حق میں ثابت قدم رہنے کی ترغیب دی۔
3۔ شجاعت و بہادری کا مظاہرہ
سانحۂ کربلا کے تمام مراحل میں خواتین نے بے مثال شجاعت، صبر اور استقامت کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے ظلم و جبر کے سامنے سر جھکانے کے بجائے حق و صداقت کا پرچم بلند رکھا۔
4۔ سفیرانِ کربلا
کربلا کے بعد خواتین، خصوصاً حضرت زینب کبریٰؑ، پیغامِ کربلا کی عظیم سفیر بن کر سامنے آئیں۔ کربلا سے کوفہ اور کوفہ سے شام تک کا سفر درحقیقت ایک عظیم سفارتی اور تبلیغی سفر تھا۔ حضرت زینبؑ کے خطبات کا مطالعہ ہمیں یہ سمجھاتا ہے کہ کس طرح انہوں نے یزیدی پروپیگنڈے کو ناکام بنایا اور حقائقِ کربلا کو دنیا کے سامنے آشکار کیا۔ ان خطبات کے اہم نکات بیان کرکے سامعین کو غور و فکر کی دعوت دی جائے۔
انہوں نے موجودہ دور کی خواتین کی ذمہ داریوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: گھر کے ماحول کو سادہ، باوقار اور عزادارانہ بنایا جائے تاکہ اہلِ خانہ محرم الحرام کی معنویت کو محسوس کر سکیں۔ اسی طرح گھر میں ایک کمرہ یا مخصوص جگہ عزاداری کے لیے مختص کی جائے۔ اگر متعدد علم موجود نہ ہوں تو ایک علمِ مبارک اور چند مناسب اشیاء رکھ کر اہلِ خانہ اکٹھے ہوں اور واقعاتِ کربلا کا تذکرہ کریں۔ گھروں اور محلوں میں باقاعدگی کے ساتھ مجالسِ عزاء کا اہتمام کیا جائے۔
مدیر جامعۃ المصطفیٰ کراچی نے کہا: رہبرِ معظم انقلاب حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای دامت برکاتہ فرماتے ہیں کہ جب بھی کوئی مشکل پیش آتی، مجالسِ اہلِ بیتؑ کے انعقاد سے معنوی قوت حاصل ہوتی، فضائل و مصائب بیان ہوتے اور روحانی فضا قائم ہوتی۔
انہوں اپنی گفتگو کے دوران بچوں کی حسینی تربیت کی جانب توجہ دلاتے ہوئے درج ذیل نکات کی طرف توجہ دلائی:
الف) باطنی و اخلاقی تربیت
بچوں کو ائمۂ معصومینؑ کی سیرت، حالاتِ زندگی اور واقعات سے آگاہ کیا جائے۔ ان کے اندر اعلیٰ اخلاقی صفات کو پروان چڑھایا جائے۔ شجاعت، حق گوئی اور دین سے مخلص وابستگی پیدا کی جائے۔ ایثار، قربانی اور دوسروں کے لیے جینے کا جذبہ فروغ دیا جائے۔
ب) ذہنی و فکری تربیت
بچوں کو مجالسِ عزاء میں ساتھ لے جایا جائے تاکہ وہ معارفِ اہلِ بیتؑ سے آشنا ہوں۔ مجالس میں سنی جانے والی باتیں ان کے ذہنوں میں نقش ہو جاتی ہیں اور ان کے شعور و فکر کی تعمیر میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ تربیت کا عملی پیغام دیا جائے اور اس مقصد کے لیے موجود مستقل تربیتی پلیٹ فارمز سے استفادہ کیا جائے۔ عزاداری درحقیقت ایک عظیم تربیتی یونیورسٹی ہے۔
انہوں نے منبر پر ذاکرین کے لیے اہم رہنما اصول کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: ذاکری اور تبلیغ کے میدان میں درج ذیل چار امور کو ہمیشہ پیشِ نظر رکھا جائے:
1۔ شجاعت
حق بات کو بے خوفی کے ساتھ بیان کرنا اور سامعین میں بھی جراتِ اظہار اور حق پسندی پیدا کرنا۔
2۔ جذبات و احساسات
مصائبِ اہلِ بیتؑ کو مؤثر انداز میں بیان کرکے سامعین کے قلوب کو اہلِ بیتؑ کی محبت سے منور کرنا۔
3۔ عقلانی گفتگو
واقعات و معارف کو منطقی، علمی اور فکری انداز میں پیش کرنا۔
4۔ تربیتی گفتگو
ایسی گفتگو جو سامعین کی عملی زندگی میں مثبت تبدیلی اور کردار سازی کا سبب بنے۔
مدیر جامعۃ المصطفیٰ کراچی نے مزید کہا: مطالعے کی عادت کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں اور اپنے علاقے میں کتاب خوانی کی مہم شروع کریں تاکہ زیادہ سے زیادہ افراد علمی و فکری سرمایہ سے استفادہ کر سکیں۔ البتہ کتابوں کے انتخاب میں احتیاط ضروری ہے۔ اس سلسلے میں علماء اور اہلِ علم سے مشورہ لیا جا سکتا ہے تاکہ مفید، معتبر اور معیاری کتب کا انتخاب ہو سکے۔









آپ کا تبصرہ