حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران کے صوبہ لرستان میں رہبر معظم کے نمائندے اور خرم آباد کے امام جمعہ حجۃ الاسلام والمسلمین سید احمدرضا شاہرخی نے جامعۃ المصطفیٰ العالمیہ کو اہل بیتؑ کے معارف کے چشمۂ جوشاں سے ابھرنے والا عظیم علمی و دینی ادارہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ دین اور علم کا باہمی امتزاج ہی اسلامی تمدن و ثقافت کی بنیاد ہے۔
انہوں نے جامعۃ المصطفیٰ العالمیہ کے معاون برائے روابط و بین الاقوامی امور حجۃ الاسلام والمسلمین قنبری اور ان کے وفد سے ملاقات میں شہدائے انقلاب اسلامی، شہدائے مزاحمت، کمانڈروں اور شہید بچوں کو خراج عقیدت پیش کیا۔
حجۃ الاسلام والمسلمین سید احمدرضا شاہرخی نے کہا کہ ادارہ جامعۃ المصطفیٰ کی اہم خصوصیت یہ ہے کہ یہ دین اور جدید علوم دونوں کو ساتھ لے کر چلتا ہے، کیونکہ علم کے بغیر دین انسان کو پسماندگی کی طرف لے جاتا ہے، جبکہ دین سے خالی علم آج دنیا میں ظلم، استکبار اور تباہی کا سبب بن رہا ہے۔
انہوں نے غزہ میں جاری اسرائیلی مظالم کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آج بعض طاقتیں معنویت سے خالی ٹیکنالوجی اور سائنس کے ذریعے انسانیت کے خلاف سنگین جرائم انجام دے رہی ہیں، اور غزہ کے حالات اسی “غیر اخلاقی علم” کا نتیجہ ہیں۔
امام جمعہ خرم آباد نے کہا کہ جامعۃ المصطفیٰ دنیا بھر میں اسلامِ رحمت کے پیغام کو مؤثر انداز میں پہنچانے کی کوشش کر رہا ہے اور اس مقصد کے لیے اندرون و بیرونِ ملک تمام صلاحیتوں سے استفادہ کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے دفاع مقدس کے دوران لرستان کے مجاہدین کی قربانیوں کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ آپریشن حاج عمران اور خرمشہر کی آزادی میں لرستان کے جوانوں نے بے مثال قربانیاں پیش کیں۔ ان کے مطابق شہداء کی کامیابی کا راز طاقت نہیں بلکہ اخلاص تھا۔
آخر میں انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اسلام کا پیغام پوری انسانیت کے لیے رحمت کا پیغام ہے، جسے صحیح، دلنشیں اور مؤثر انداز میں دنیا تک پہنچانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔









آپ کا تبصرہ