جمعرات 5 فروری 2026 - 19:49
زمانۂ غیبت میں خواتین کی اصل ذمہ داری معرفتِ امامؑ، خودسازی اور نسل سازی ہے: عالمہ سیدہ تصویر فاطمہ

حوزہ/ مدرسہ بنتُ الہدیٰ ہریانہ الہند کے زیرِ اہتمام منعقدہ آن لائن درسِ اخلاق میں عالمۂ سیدہ تصویر فاطمہ نے «زمانۂ غیبت میں خواتین کی ذمہ داریاں — کردار سازی سے تمدّن سازی تک» کے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے خواتین کی دینی تربیت، معرفتِ امامؑ اور معاشرتی کردار کی اہمیت کو اجاگر کیا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مدرسہ بنتُ الہدیٰ (رجسٹرڈ)، ہریانہ الہند کے زیرِ اہتمام گوگل میٹ پلیٹ فارم پر ایک بامقصد اور فکری آن لائن درسِ اخلاق کا انعقاد کیا گیا، جس کا عنوان «زمانۂ غیبت میں خواتین کی ذمہ داریاں — کردار سازی سے تمدّن سازی تک» تھا۔

پروگرام کا آغاز تلاوتِ کلامِ مجید سے ہوا، جس کے بعد بارگاہِ رسالت مآب ﷺ میں عقیدت سے لبریز نعتیہ کلام پیش کیا گیا۔ بعد ازاں تمہیدی کلمات کے ذریعے سامعین کو موضوع کی فکری و اخلاقی اہمیت کی جانب متوجہ کیا گیا۔

اس موقع پر اعظم گڑھ سے تشریف فرما مہمان عالمۂ محترمہ سیدہ تصویر فاطمہ نے خطاب کرتے ہوئے زمانۂ غیبت میں خواتین کے دینی، اخلاقی اور سماجی کردار پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ زمانۂ غیبت محض ایک تاریخی مرحلہ نہیں بلکہ ایک مسلسل دینی امتحان ہے، جس میں خواتین کی ذمہ داری خصوصاً نئی نسل کی دینی و اخلاقی تربیت کے حوالے سے نہایت اہم ہے۔

انہوں نے خواتین کو تلقین کی کہ وہ معرفتِ امامِ زمانہؑ کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں، مستند دینی علم سے وابستہ رہیں اور گھروں میں مہدوی فکر، دعا اور اہلِ بیتؑ کی تعلیمات کو فروغ دیں۔ ان کے مطابق خواتین کی خودسازی، نسل سازی اور فکری استحکام ہی ایک صالح معاشرے کی بنیاد ہیں۔

خطاب کے اختتام پر دعا کی گئی کہ اللہ تعالیٰ خواتینِ مؤمنات کو اپنی دینی ذمہ داریوں کا صحیح شعور اور ان پر عمل کی توفیق عطا فرمائے اور سب کو امامِ زمانہؑ کے سچے منتظرین میں شامل کرے۔

زمانۂ غیبت میں خواتین کی اصل ذمہ داری معرفتِ امامؑ، خودسازی اور نسل سازی ہے: عالمہ سیدہ تصویر فاطمہ

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha