تحریر: سیدہ نصرت نقوی
حوزہ نیوز ایجنسی| رشد انسانی بقا کی ضمانت ہے۔ انسان وقتاً فوقتاً رشد کرتا ہے اور یہی انسانی جسم، عقل اور روح کی ایک اہم علامت ہے؛ لیکن اگر رشد کے راستے روک دیئے جائیں تو انسان کی بقا بدترین خطروں میں گھر جاتی ہے۔ اپنی سوچ و فکر کو روز بروز ترقی دینا ہماری زندگی کی اہم ترین حقیقت ہے۔
انسان کی سب سے بڑی خصوصیت یہی ہے کہ وہ رکتا نہیں، وہ بڑھتا ہے۔ جسم، عقل اور روح ۔ تینوں سطحوں پر رشد اگر رک جائے تو انسان زندہ تو رہ سکتا ہے، مگر "زندگی" نہیں گزار سکتا۔ وہ ایک قسم کی مردہ زندگی گزارنے لگتا ہے، جس میں سانس تو چلتی رہتی ہے، مگر وجود کی حرارت، جوش اور معنی ختم ہو جاتے ہیں۔
آج کے دور میں سب سے بڑا خطرہ یہی ہے کہ بہت سے لوگ رشد کے راستے خود بند کر لیتے ہیں۔ وہ نئی کتاب نہیں پڑھتے، نئی سوچ نہیں اپناتے، اپنی غلطیوں سے نہیں سیکھتے، اپنے ایمان اور کردار کی اصلاح کی طرف نہیں بڑھتے، تنقیدی سوچ اور تخلیقی صلاحیت کو پروان نہیں چڑھاتے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جسم بڑھتا ہے، عمر بڑھتی ہے، مگر اندر سے انسان سکڑتا چلا جاتا ہے۔
یہ صرف ایک نصیحت نہیں، بلکہ بقا کا فارمولا ہے۔ جو شخص ہر روز تھوڑا سا بھی بہتر سوچنے، بہتر سمجھنے اور بہتر بننے کی کوشش کرتا ہے، وہ دراصل اپنی انسانی حیثیت کو زندہ رکھتا ہے۔
اگر ہم اس موضوع کو تحقیقی انداز میں دیکھیں تو ایک مکالمہ ذہن میں ابھرتا ہے:
"کیا انسان صرف عمر کے بڑھنے سے بالغ ہوتا ہے؟"
جواب آتا ہے: "نہیں، انسان غور و فکر سے بالغ ہوتا ہے۔"
"کیا تعلیم صرف ڈگری کا نام ہے؟"
جواب: "نہیں، تعلیم دراصل سوچ کے دروازے کھولنے کا نام ہے۔"
"کیا رشد خود بخود ہوتی ہے؟"
جواب: "نہیں، رشد شعوری کوشش سے پیدا ہوتی ہے۔"
رشد کو جاری رکھنے کے لیے سب سے پہلا اور اہم کام غور و فکر ہے۔ غور و فکر ذہن کو حرکت دیتا ہے، ذہنی خلیات کو فعال بناتا ہے، سوچ کے نئے زاویے پیدا کرتا ہے۔ جب انسان اپنے اطراف میں دیکھتا ہے، فطرت کا مطالعہ کرتا ہے، قدرتی مناظر پر غور کرتا ہے، خدا کی دی ہوئی نعمتوں کو پہچانتا ہے تو اس کے اندر فکری بلوغت پیدا ہوتی ہے۔ یہی رشد کا ابتدائی مرحلہ ہے۔
کتابوں کا مطالعہ بھی رشد کا اہم ذریعہ ہے۔ مختلف افکار سے واقفیت انسان کے ذہن کو وسعت دیتی ہے۔ تاریخ کا مطالعہ انسان کو تجربات دیتا ہے، فلسفہ انسان کو سوال کرنے کا ہنر دیتا ہے، اور قرآن کا مطالعہ انسان کو حکمت دیتا ہے۔ جب انسان قرآن کو سمجھ کر پڑھتا ہے تو زندگی کے بہت سے راز اس پر واضح ہو جاتے ہیں۔
سفر بھی رشد کا ایک بڑا ذریعہ ہے۔ مختلف لوگوں سے ملنا، مختلف ثقافتوں کو دیکھنا، مختلف تجربات سے گزرنا انسان کے ذہن کو کھول دیتا ہے۔ انسان جب اپنی ذات کی محدود لکیر سے باہر نکلتا ہے تو اس کے اندر نئی جہتیں پیدا ہوتی ہیں۔
رشد کو روکنے والی چیزیں بھی واضح ہیں۔
جب انسان سوال کرنا چھوڑ دیتا ہے
جب انسان سوچنا چھوڑ دیتا ہے
جب انسان سیکھنا چھوڑ دیتا ہے
جب انسان خود کو مکمل سمجھ لیتا ہے
تو پھر اس کی رشد رک جاتی ہے۔
رشد کو بڑھانے کی عملی ورزشیں:
1. روزانہ پانچ منٹ خاموش بیٹھ کر غور و فکر کریں۔
2. ہر دن ایک نئی بات سیکھنے کا عہد کریں۔
3. روزانہ کم از کم دو صفحات کسی اچھی کتاب کے پڑھیں۔
4. قدرتی مناظر کو غور سے دیکھیں اور ان پر سوچیں۔
5. اپنے دن کا مختصر جائزہ لکھیں کہ آج کیا سیکھا۔
6. مختلف لوگوں سے مثبت گفتگو کریں۔
7. سوال پوچھنے کی عادت پیدا کریں۔
8. اپنی غلطیوں کو نوٹ کریں اور ان سے سیکھیں۔
9. قرآن کی ایک آیت ترجمے کے ساتھ پڑھ کر اس پر غور کریں۔
10. ہفتے میں ایک دن خود احتسابی کے لیے مخصوص کریں۔
یہ چھوٹی چھوٹی مشقیں انسان کے ذہن کو متحرک کرتی ہیں اور روح کو تازگی دیتی ہیں۔ رشد ایک دن میں حاصل نہیں ہوتی، بلکہ یہ ایک مسلسل عمل ہے۔ جو انسان اس عمل کو جاری رکھتا ہے وہ وقت کے ساتھ مضبوط، بالغ اور بامعنی شخصیت بن جاتا ہے۔
آخر میں یہی حقیقت ہے کہ انسان کی بقا رشد میں ہے۔ جو بڑھنا چھوڑ دیتا ہے وہ پیچھے رہ جاتا ہے، اور جو سیکھنا جاری رکھتا ہے وہ زندگی کی اصل روح کو پا لیتا ہے۔ اپنی سوچ و فکر کو روز بروز ترقی دیں، یہی ہماری زندگی کی اہم ترین حقیقت ہے، اور یہی انسانی بقا کی ضمانت بھی۔









آپ کا تبصرہ