منگل 17 فروری 2026 - 17:07
امریکہ سن لے! جنگی بحری جہاز سے زیادہ خطرناک وہ ہتھیار ہے جو اسے سمندر کی تہہ میں پہنچا سکتا ہے: رہبرِ انقلاب

حوزہ/ آیت‌ اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے امریکہ کی جنگی دھمکیوں کا دوٹوک جواب دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ایران دفاعی اور ڈیفینس صلاحیت کے لحاظ سے مکمل طور پر تیار ہے، اور اگر کسی نے غلطی کی تو اسے ایسا سخت جواب ملے گا کہ دنیا کی طاقتور ترین فوج بھی سنبھل نہ سکے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، رہبر معظم آیت‌ اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے امریکہ کی دھمکیوں کے جواب میں فرمایا: جنگی بحری جہاز بلاشبہ خطرناک ہوتا ہے، لیکن اس سے زیادہ خطرناک وہ ہتھیار ہے جو اسے سمندر کی تہہ میں بھیج دے۔

رہبر انقلاب اسلامی نے آج صبح تبریز اور صوبہ مشرقی آذربائیجان کے ہزاروں افراد سے ملاقات میں رواں سال کو غیر معمولی اور پُرحادثہ قرار دیا اور “بارہ روزہ جنگ میں قوم کی کامیابی”، “گزشتہ ماہ کے سنگین فتنہ کو خاک میں ملادینا” اور “۲۲ دی اور ۲۲ بہمن کی حیرت انگیز عوامی ریلیوں میں شاندار شرکت” کو ملتِ عزیز ایران کی قوت اور زندہ دلی کی علامتیں قرار دیا۔ انہوں نے قومی آمادگی، بیداری اور اتحاد کو برقرار رکھنے پر زور دیتے ہوئے فرمایا کہ سوائے فتنہ کے سرغنہ اور دشمن سے وابستہ مفسد عناصر کے، فسادات میں جاں بحق ہونے والے سب افراد کو ہم اپنا بیٹا سمجھتے ہیں؛ چاہے وہ امن و امان کے محافظ ہوں، بے گناہ راہگیر ہوں یا وہ سادہ لوح لوگ جو جذبات میں آکر فتنہ کے ساتھ ہوگئے۔ ہم سب کے غم میں شریک اور ان کے لیے دعاگو ہیں۔

انہوں نے حکومتی ذمہ داران کو ہدایت کی کہ وہ عوامی مشکلات کے حل، مہنگائی پر قابو پانے اور قومی کرنسی کی قدر کے تحفظ کے لیے دوچند کوشش کریں۔ امریکی عہدیداروں اور میڈیا کی جانب سے ایران پر حملے کی دھمکیوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ خود بھی جانتے ہیں کہ ان باتوں اور اقدامات کی تاب نہیں رکھتے۔ جو فوج خود کو دنیا کی طاقتور ترین فوج کہتی ہے، وہ بھی ایسا زوردار طمانچہ کھا سکتی ہے کہ دوبارہ کھڑی نہ ہو سکے۔ متعلقہ ادارے ہر خطرے کے مقابلے کے لیے تیار ہیں، لہٰذا قوم اطمینان کے ساتھ اپنی زندگی جاری رکھے۔

29 بہمن 1356 کے تاریخی قیام کی سالگرہ کے موقع پر ہونے والی اس ملاقات میں رہبر معظم نے وقت شناسی، بروقت اقدام اور قربانی کو اس قیام کی نمایاں خصوصیات قرار دیا اور نوجوان نسل کی فعال موجودگی کو خوش آئند قرار دیا۔ انہوں نے فرمایا کہ 22 بہمن کی ریلی میں تبریز کے عوام کی دوگنی شرکت اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ قوم بیدار اور پُرعزم ہے اور دشمن کے فریب میں نہیں آئے گی۔

انہوں نے گزشتہ مہینے کے فتنے کو ایک منصوبہ بند بغاوت قرار دیا جسے امریکی اور صہیونی خفیہ اداروں نے بعض دیگر ممالک کی مدد سے ترتیب دیا۔ شرپسند عناصر کو بیرون ملک تربیت، اسلحہ اور مالی وسائل فراہم کیے گئے تاکہ فوجی اور سرکاری مراکز پر حملے کریں۔ انہوں نے سادہ لوح نوجوانوں کو آگے کیا اور خود مسلح ہوکر داعش جیسی سفاکیت کے ساتھ آتش زنی، قتل اور تخریب کاری کی۔ تاہم پولیس، بسیج، سپاہ اور عوام کی مزاحمت سے یہ سازش ناکام ہوگئی اور ملت سرخرو ہوئی۔

رہبر انقلاب اسلامی نے فرمایا کہ فسادات میں تین گروہ شہید ہوئے: امن کے محافظ، بے گناہ راہگیر، اور وہ فریب خوردہ افراد جو سادگی سے شامل ہوئے۔ سب کے لیے ہم رحمت و مغفرت کے طالب ہیں۔ بعض فریب خوردہ افراد نے ندامت کے خطوط بھی لکھے ہیں۔

امریکہ کے زوال کی نشانیوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے فرمایا کہ ان کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ وہ ایران کو نگلنا چاہتے ہیں، لیکن ملتِ ایران اس کے راستے میں رکاوٹ ہے۔ امام حسینؑ کے اس تاریخی جملے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ “مجھ جیسا شخص یزید جیسے کی بیعت نہیں کر سکتا”، آپ نے کہا کہ ملتِ ایران بھی فاسد حکمرانوں کی بالادستی قبول نہیں کرے گی۔

دفاعی صلاحیت اور قوت کو ضروری قرار دیتے ہوئے رہبر معظم نے فرمایا کہ ہر ملک کو اپنے تحفظ کے لیے ہتھیار رکھنے کا حق ہے۔ امریکہ کا یہ کہنا کہ ایران فلاں قسم کا میزائل نہ رکھے، سراسر مداخلت ہے۔ اسی طرح پُرامن جوہری صنعت، علاج، زراعت اور توانائی کے لیے ایران کا مسلمہ حق ہے جسے International Atomic Energy Agency کے قواعد بھی تسلیم کرتے ہیں۔ مذاکرات کی دعوت دے کر پہلے سے نتیجہ مسلط کرنا حماقت ہے۔

انہوں نے امریکی صدر کے اس اعتراف کا ذکر کیا کہ وہ 47 سال میں اسلامی جمہوریہ کو ختم نہ کر سکے، اور فرمایا کہ آئندہ بھی کامیاب نہیں ہوں گے کیونکہ یہ نظام عوام سے جدا نہیں بلکہ ایک زندہ اور مضبوط قوم پر قائم ہے۔ ابتدا میں ایک ننھا پودا تھا جسے دشمن اکھاڑ نہ سکا، اور آج ایک تناور، بابرکت اور ثمرآور درخت بن چکا ہے۔

اختتام پر آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے حکام کو تاکید کی کہ مہنگائی اور کرنسی کی گراوٹ جیسے غیر منطقی مسائل کو درست کریں، کاروباری فضا کو پُرسکون بنائیں، اور قوم میں اعتماد اور سکون کو فروغ دیں۔ متعلقہ ادارے ہر خطرے کو ناکام بنانے کے لیے موجود ہیں، لہٰذا عوام اطمینان کے ساتھ تعلیم، تجارت اور زندگی کے امور میں مشغول رہیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha