ہفتہ 7 مارچ 2026 - 17:37
قم المقدسہ میں رہبر معظم کی یاد میں مجلس عزا و جلوس عزا؛ ہندوستانی علماء و طلاب کی بڑی تعداد میں شرکت

حوزہ/ قم المقدسہ میں مسجد مدرسہ مبارکہ حجتیہ میں نائب امام زمانہؑ، ولی فقیہ زمان اور عالم تشیع کے عظیم رہنما آیت اللہ العظمیٰ امام سید علی حسینی خامنہ ایؒ کی مظلومانہ شہادت کی یاد میں ایک باوقار مجلس عزا منعقد ہوئی، جس کے اختتام پر سوگواران اہل بیتؑ نے جلوس عزاداری کی صورت میں حرم مطہر کی جانب روانگی اختیار کی۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، قم المقدسہ میں مقیم ہندوستانی علما اور طلبہ کی جانب سے مسجد مدرسہ مبارکہ حجتیہ میں رہبر انقلاب آیت اللہ العظمیٰ سید علی حسینی خامنہ ایؒ کی یاد میں ایک باوقار مجلس عزا کا انعقاد کیا گیا، جس میں بڑی تعداد میں مؤمنین نے شرکت کی۔ مجلس کے اختتام پر عزاداران نے جلوس عزاداری کی شکل میں حرم مطہر کی طرف روانگی اختیار کی۔

یہ مجلس جمعہ، 16 رمضان المبارک 1447 ہجری کو نماز مغربین کے بعد منعقد ہوئی۔ پروگرام میں قم میں مقیم ہندوستانی علما و طلاب کے ساتھ ساتھ دیگر مؤمنین نے بھی بھرپور شرکت کی، جبکہ خواتین کے لیے پردے کا مناسب انتظام بھی کیا گیا تھا۔

قم المقدسہ میں رہبر معظم کی یاد میں مجلس عزا و جلوس عزا؛ ہندوستانی علماء و طلاب کی بڑی تعداد میں شرکت

مجلس کا آغاز مولانا فرزان رضوی زید پوری کی تلاوت کلام پاک سے ہوا جبکہ نظامت کے فرائض مولانا علی مہدی نے انجام دیے۔ اس موقع پر شعراء نے بھی منظوم خراج عقیدت پیش کیا جن میں مولانا سید شفیع حیدر بھیک پوری، مولانا سید عابد رضا نوشاد اور عامر نوگانوی شامل تھے۔ مجلس کے اختتام پر حجۃالاسلام مولانا سید مراد حسین رضوی نے خطاب کیا۔

اس موقع پر سابق نمائندہ ولی فقیہ در ہند حجت الاسلام والمسلمین مہدی مہدوی پور نے اپنے خطاب میں کہا کہ دشمن طاقتوں نے نیٹو کی مدد اور جدید ترین سازوسامان کے ساتھ اس خطے میں آ کر ایران کے اسلامی نظام کو کمزور کرنے اور ختم کرنے کی کوشش کی، لیکن ایران میں ایسا مضبوط نظام قائم کیا گیا ہے جو کسی ایک فرد پر نہیں بلکہ مستحکم اداروں اور اصولوں پر قائم ہے، اسی وجہ سے تمام دباؤ اور سازشوں کے باوجود یہ نظام ثابت قدم ہے۔

انہوں نے کہا کہ انقلاب کے بعد ایران نے اپنی آزادی اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے عظیم قربانیاں پیش کی ہیں۔ گزشتہ تقریباً 47 برسوں میں تین لاکھ سے زیادہ شہداء پیش کیے گئے اور لاکھوں افراد زخمی یا متاثر ہوئے، مگر اس کے باوجود قوم نے اپنے اصولوں اور استقلال کو برقرار رکھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایرانی قوم نے واقعہ کربلا اور حضرت امام حسین علیہ السلام کی عظیم قربانی سے یہ درس لیا ہے کہ ظلم و جبر کے سامنے سر نہیں جھکایا جاتا، اسی جذبے کے تحت عوام “لبیک یا حسینؑ” اور “اللہ اکبر” کے نعروں کے ساتھ ظلم کے خلاف مزاحمت کو اپنا فریضہ سمجھتے ہیں۔

مکمل تصاویر دیکھیں:

قم المقدسہ میں رہبر معظم کی یاد میں مجلس عزا و جلوس عزا؛ ہندوستانی علماء و طلاب کی بڑی تعداد میں شرکت

حجۃالاسلام مولانا سید عاکف زیدی نے اپنے خطاب میں کہا کہ مسلمانوں کا باہمی تعلق صرف سرحدوں یا پاسپورٹ تک محدود نہیں بلکہ عقیدے، ولایت اور مشترکہ اسلامی اقدار پر مبنی ہے۔ انہوں نے اسلامی دنیا کے اتحاد کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں کو کربلا کے پیغام سے قائم ہونے والے اس روحانی اور فکری رشتے کو فراموش نہیں کرنا چاہیے۔

حجۃالاسلام مولانا سید ضمیر جعفری نے اپنے خطاب میں کہا کہ موجودہ دور میں ہر باشعور فرد کے لیے “جہاد تبیین” ایک اہم ذمہ داری بن چکا ہے۔ دشمن طاقتیں اپنے میڈیا اور پروپیگنڈے کے ذریعے جھوٹ اور فتنہ پھیلانے کی کوشش کر رہی ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ اہل علم آگے بڑھ کر سچائی کو واضح کریں اور دشمن کے پروپیگنڈے کا مؤثر جواب دیں۔

انہوں نے شہید قاسم سلیمانی کی قربانی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ شہداء کی راہ ہمیں یہ درس دیتی ہے کہ حق کے دفاع میں ہمیشہ ثابت قدم رہنا چاہیے اور ملت اسلامیہ کو اتحاد، بصیرت اور استقامت کے ساتھ دشمن کی سازشوں کا مقابلہ کرنا چاہیے۔

مولانا رضا حیدر زیدی نے اپنے خطاب میں کہا کہ پہلے رہبر معظم کی تصاویر صرف شیعہ مسلمانوں کے ہاتھوں میں ہوتی تھیں، لیکن گزشتہ برسوں میں یہ دائرہ وسیع ہو کر عام مسلمانوں تک پہنچ گیا ہے۔ آج مختلف طبقات کے لوگ رہبر معظم کی قیادت اور ان کے پیغام کی حمایت کرتے ہوئے نظر آتے ہیں، جو اس بات کی علامت ہے کہ ان کی فکر اور قیادت پوری امت مسلمہ میں اثر انداز ہو رہی ہے۔

مجلس کے اختتام پر علماء اور طلاب نے رہبر معظم کے تئیں اپنے عزم و وفاداری کا اعادہ کرتے ہوئے اس بات کا عہد کیا کہ وہ رہبر انقلاب کے افکار، اسلامی انقلاب کے اہداف اور امت مسلمہ کے اتحاد کے پیغام کو آگے بڑھانے کے لیے ہر میدان میں اپنی ذمہ داری ادا کرتے رہیں گے۔ شرکاء نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ وہ دشمن کی سازشوں اور پروپیگنڈے کے مقابلے میں بیداری، بصیرت اور استقامت کے ساتھ کھڑے رہیں گے اور شہداء کی راہ کو جاری رکھیں گے۔

مجلس کے اختتام پر عزاداران نے جلوس عزا کی صورت میں حرم مطہر کی طرف روانگی اختیار کی اور رہبر انقلاب کی خدمات اور اسلامی انقلاب کی حفاظت کے عزم کا اعادہ کیا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha