دشتِ بلا کا نوحہ، فکرِ حسینی کا سویرا

حوزہ/ آج افق پر محرم کا ہلالِ غم پھر نمودار ہوا ہے؛ غمِ شبیرؑ نے ایک بار پھر ہمارے دلوں کی چلمن پر دستک دی ہے۔ ماتمی ردائے عزا اوڑھے، بکھرے بالوں کے ساتھ سیدہ فاطمہ زہراؑ اپنے لعل کا پرسہ لینے بزمِ جہاں میں تشریف لائی ہیں، اور ثانیِ زہراؑ اپنے جلالِ صبر، بے مثال ایثار اور کوہِ استقامت کے ساتھ ہمیں بیداریِ شعور اور انقلاب کا درس دینے لوٹ آئی ہیں۔

تحریر: مولانا ارشد حسین مشہدی

حوزہ نیوز ایجنسی | تپتے ہوئے صحرا کی زہریلی ہوائیں ہیں، پیاس کا جلتا ہوا تندور ہے، تنہا حسینؑ ہیں... اور اِک ہجومِ بلا میں رقصاں ہزاروں برہنہ تلواریں ہیں جن کی پیاس ابنِ علیؑ کے خون سے بجھنے کو تڑپ رہی ہے!

دوسری طرف خیموں کی بے بس طنابیں ہیں، جن کے سائے میں سسکتی، بلکتی خواتین اور معصوم بچوں کی العطش کی سسکیاں ہیں۔ خانۂ آلِ عبا کا کل اثاثہ، لٹتے ہوئے چمن کی آخری بہار، بس یہی ایک مخدوم ہے جو تنِ تنہا ظلم کے اس سیلاب کے سامنے کوہِ گراں بنا کھڑا ہے۔

دکھ کی اس بے کراں کائنات میں، درِ خیمہ پر ایستادہ زینبِ کبریٰؑ ہیں... جن کی ساکت، پتھرائی ہوئی نگاہیں اپنے بھائی، اپنی آخری پناہ، اپنے جینے کے سہارے اور اپنے لامتناہی جہانِ وفا کو تک رہی ہیں۔ وہ جانتی ہیں کہ کچھ ہی دیر میں یہ چادریں چھن جائیں گی، یہ خیمے جلا دیے جائیں گے، مگر ان کی نگاہوں کا مرکز اب بھی صرف حسینؑ ہیں۔ یہ وہ محشرِ ستم ہے جس کی ہولناکی پر چشمِ تاریخ صدیوں سے خون کے آنسو رو رہی ہے، اور اس کا جگر آج بھی اس تپتی ریت کی یاد میں چاک ہے۔

ہلالِ محرم اور اشکوں کی دستک

آج افق پر محرم کا ہلالِ غم پھر نمودار ہوا ہے؛ غمِ شبیرؑ نے ایک بار پھر ہمارے دلوں کی چلمن پر دستک دی ہے۔ ماتمی ردائے عزا اوڑھے، بکھرے بالوں کے ساتھ سیدہ فاطمہ زہراؑ اپنے لعل کا پرسہ لینے بزمِ جہاں میں تشریف لائی ہیں، اور ثانیِ زہراؑ اپنے جلالِ صبر، بے مثال ایثار اور کوہِ استقامت کے ساتھ ہمیں بیداریِ شعور اور انقلاب کا درس دینے لوٹ آئی ہیں۔

ذکر سے کردار تک: حسینی معاشرے کی تعمیر

ہمیں یہ بات اپنے دل کی تختی پر نقش کر لینی چاہیے کہ امام حسین علیہ السلام اور ان کے یارانِ باوفا کا یہ غم صرف رونے کا نام نہیں، بلکہ یہ ذکرِ پاک ہمارے اندر "فکرِ حسینی" اور "کردارِ حسینی" کو جنم دینے کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ جب ہم مظلوم کا غم مناتے ہیں، تو ہمارے دلوں سے ظالم کی ہیبت ختم ہوتی ہے اور باطل سے ٹکرا جانے کا حوصلہ پیدا ہوتا ہے۔

ہماری اولین ترجیح:

اگر ہم اپنے بکھرے ہوئے، پامال معاشرے کو ایک آئیڈیل، غیرت مند اور عادل "جامعہ حسینی" میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں، تو ہمیں سب سے پہلے اپنی تمام تر توجہ ذکرِ حسینیؑ پر مرکوز کرنی ہوگی۔ یہ ذکر وہ کیمیا ہے جو دلوں کو زندہ کرتا ہے۔ جب تک گھر گھر، گلی گلی حسینؑ کا تذکرہ عام نہیں ہوگا، تب تک ہمارے کرداروں میں حسینی رنگ نہیں آ سکتا۔ ذکرِ حسینؑ ہی وہ پہلا زینہ ہے جو انسان کو مصلحت پسندی کے اندھیروں سے نکال کر ایثار و شجاعت کے اجالوں میں لاتا ہے۔

تجدیدِ عہد و عزا

پس آؤ! ہم محض رسم کے طور پر نہیں، بلکہ ایک جاگتے ہوئے شعور کے ساتھ اپنے سینوں کو تپتا ہوا دشتِ کربلا بنا لیں جہاں باطل کے خلاف ہر وقت ایک جنگ برپا رہے۔ اپنی چشمِ نمناک کو اشکِ عزا کا تلاطم خیز دریا کر دیں جو ہمارے گناہوں اور سستیوں کو بہا لے جائے، اور اپنے وجود کو پیغامِ حسینیؑ کا مصفّٰی آئینہ بنا لیں۔

آؤ کہ فضائے دہر کو، کائنات کے ذرے ذرے کو اس ابدی اور لرزہ خیز صدا سے گونجا دیں۔

لبیک یا حسین علیہ السلام

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha