تحریر: مولانا سید کرامت حسین شعور جعفری
حوزہ نیوز ایجنسی| چار محرم 61 ہجری کا دن کربلا کی تاریخ میں ایک نئے مرحلے کا آغاز تھا۔ کربلا کی تپتی ہوئی ریت پر امام حسینؑ کے خیمے بدستور استقامت اور سکون کی تصویر بنے ہوئے تھے، لیکن دوسری طرف کوفہ سے آنے والے لشکروں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی تھی۔ ہر آنے والا دستہ اس بات کا اعلان کر رہا تھا کہ باطل اپنی تمام تر قوت کے ساتھ حق کو کچلنے کے لیے میدان میں اتر چکا ہے۔ مگر کربلا کا اصل المیہ یہ نہیں تھا کہ ہزاروں تلواریں امام حسینؑ کے مقابل کھڑی تھیں، بلکہ اصل سانحہ یہ تھا کہ ان تلواروں میں بہت سے ایسے ہاتھ بھی شامل تھے جو حسینؑ کو پہچانتے تھے، ان کی عظمت سے واقف تھے اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زبان مبارک سے ان کے فضائل سن چکے تھے۔
کوفہ وہی شہر تھا جہاں سے ہزاروں خطوط امام حسینؑ کی خدمت میں بھیجے گئے تھے۔ انہی لوگوں نے لکھا تھا کہ ہمارے پاس کوئی امام نہیں، آپ تشریف لائیے، ہم آپ کے دست و بازو بنیں گے۔ مگر جب عبیداللہ بن زیاد کوفہ پہنچا تو اس نے دھمکی، لالچ، خوف اور جبر کے ذریعے لوگوں کے دل بدل دیے۔ جو لوگ کل تک نصرتِ حسینؑ کے دعوے کر رہے تھے، آج اپنے گھروں کے دروازے بند کر کے بیٹھ گئے تھے۔ جن زبانوں پر بیعتِ حسینؑ کے نعرے تھے، وہ خاموش ہو چکی تھیں، اور جن ہاتھوں نے خطوط لکھے تھے، وہ خوف کی زنجیروں میں جکڑے جا چکے تھے۔
قرآن مجید انسان کو متنبہ کرتے ہوئے فرماتا ہے: ﴿فَلَا تَخْشَوُا النَّاسَ وَاخْشَوْنِ﴾ “لوگوں سے نہ ڈرو، مجھ سے ڈرو۔” (سورۂ مائدہ: 44)۔ تاریخ کا ہر بڑا امتحان دراصل خوف کا امتحان ہوتا ہے۔ انسان حق کو پہچان لیتا ہے، مگر جب حق کا ساتھ دینے کی قیمت سامنے آتی ہے تو اس کے قدم ڈگمگا جاتے ہیں۔ کربلا ہمیں سکھاتی ہے کہ ضمیر کی موت ہمیشہ تلوار سے نہیں ہوتی، کبھی خوف بھی انسان کے ضمیر کو قتل کر دیتا ہے۔
امیرالمؤمنین علی علیہ السلام فرماتے ہیں: «مَنْ خَافَ شَيْئًا هَرَبَ مِنْهُ، وَمَنْ خَافَ اللّٰهَ هَرَبَ إِلَيْهِ» “جو کسی چیز سے ڈرتا ہے وہ اس سے بھاگتا ہے، اور جو خدا سے ڈرتا ہے وہ اسی کی طرف پناہ لیتا ہے۔” کوفہ کے لوگوں نے خدا کے بجائے ابن زیاد کی دھمکیوں سے خوف کھایا، دنیاوی نقصان سے ڈرے، مال و جاہ کے چھن جانے سے ڈرے، اور یوں وہ تاریخ کے سب سے بڑے امتحان میں ناکام ہو گئے۔
چار محرم کا دن ہمیں یہ بھی بتاتا ہے کہ ظلم صرف ظالموں کے بل بوتے پر قائم نہیں رہتا، بلکہ خاموش تماشائی بھی اس کے معاون بن جاتے ہیں۔ اگر کوفہ کے ہزاروں لوگ اپنے وعدوں پر قائم رہتے تو شاید تاریخ کا منظر کچھ اور ہوتا۔ اگر انہوں نے خوف پر ضمیر کو ترجیح دی ہوتی تو شاید کربلا کی داستان مختلف ہوتی۔ لیکن یہی تاریخ کا اٹل اصول ہے کہ جب اہلِ حق خاموش ہو جاتے ہیں تو باطل کو قوت مل جاتی ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: «مَنْ أَعَانَ ظَالِمًا سَلَّطَهُ اللّٰهُ عَلَيْهِ» “جو ظالم کی مدد کرتا ہے، اللہ اسی ظالم کو اس پر مسلط کر دیتا ہے۔” کربلا میں بہت سے لوگ براہِ راست قاتل نہیں تھے، لیکن ان کی خاموشی اور بے عملی نے ظلم کو طاقت بخشی۔ یہی وجہ ہے کہ امام حسینؑ کا قیام صرف یزید کے خلاف نہیں تھا بلکہ اس ذہنیت کے خلاف بھی تھا جو حق کو پہچان کر بھی خاموش رہتی ہے۔
قرآن کریم فرماتا ہے: ﴿إِنَّ اللّٰهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّىٰ يُغَيِّرُوا مَا بِأَنْفُسِهِمْ﴾ “اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت نہ بدل لے۔” (سورۂ رعد: 11)۔ کوفہ کی شکست دراصل تلواروں کی شکست نہیں تھی بلکہ کردار کی شکست تھی۔ ان کے پاس تعداد تھی، مگر عزم نہیں تھا۔ ان کے پاس قوت تھی، مگر بصیرت نہیں تھی۔ ان کے پاس موقع تھا، مگر وفاداری نہیں تھی۔ اس کے برعکس امام حسینؑ کے اصحاب تعداد میں کم تھے مگر یقین میں پہاڑوں سے زیادہ مضبوط تھے۔
امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: «الْمُؤْمِنُ أَعَزُّ مِنَ الْجَبَلِ» “مؤمن پہاڑ سے زیادہ مضبوط ہوتا ہے۔” کربلا کے وفاداروں نے یہی ثابت کیا۔ ان کے پاس نہ قلعے تھے، نہ لشکر، نہ دنیاوی طاقت، لیکن ان کے پاس ایمان تھا، اور ایمان وہ قوت ہے جس کے سامنے بڑی بڑی سلطنتیں بھی ماند پڑ جاتی ہیں۔
چار محرم ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ زندگی میں سب سے بڑا معرکہ انسان کے اپنے اندر برپا ہوتا ہے۔ ایک طرف ضمیر کی آواز ہوتی ہے اور دوسری طرف مفاد کی کشش۔ ایک طرف حق ہوتا ہے اور دوسری طرف مصلحت۔ ایک طرف خدا کی رضا ہوتی ہے اور دوسری طرف دنیا کا خوف۔ جو شخص اس معرکے میں کامیاب ہو جائے، وہی تاریخ کا روشن کردار بنتا ہے۔ کربلا ہمیں دعوت دیتی ہے کہ ہم کوفہ کے خاموش تماشائیوں میں شامل نہ ہوں بلکہ حسینؑ کے وفادار ساتھیوں کے راستے کو اختیار کریں۔
آج کا پیغام:
حق کو پہچان لینا کافی نہیں، حق کا ساتھ دینا بھی ضروری ہے۔ کیونکہ خاموشی بعض اوقات ظلم کی سب سے بڑی مددگار بن جاتی ہے۔
دعا:
پروردگار! ہمارے دلوں سے ہر وہ خوف دور فرما جو ہمیں حق کہنے اور حق پر عمل کرنے سے روکے۔ ہمیں بصیرت عطا فرما کہ ہم ہر دور کے حق و باطل کو پہچان سکیں۔ ہمیں کوفہ کی بے وفائی سے محفوظ رکھ اور حسینؑ کے وفادار ساتھیوں کی سیرت پر چلنے کی توفیق عطا فرما۔ ہمارے ضمیر کو زندہ، ایمان کو مضبوط اور قدموں کو صراطِ حق پر ثابت قدم فرما۔
آمین یا رب العالمین









آپ کا تبصرہ