حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ممبر مسلم پرسنل لا بورڈ جموں و کشمیر مولانا ڈاکٹر سید محمد کوثر علی جعفری نے محرم الحرام کی آمد کے موقع پر کہا کہ محرم الحرام تلوار پر خون کی کامیابی، ظلم پر حق کی فتح اور باطل کے مقابلے میں استقامت و حریت کی لازوال داستان کا مہینہ ہے۔ یہ وہ مقدس مہینہ ہے جس میں سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام نے اپنے اہلِ بیتؑ اور باوفا اصحابؑ کے ہمراہ دینِ اسلام، قرآنِ مجید، حرمِ کعبہ اور انسانیت کے تحفظ کے لیے عظیم ترین قربانی پیش کی۔
انہوں نے کہا کہ امام حسین علیہ السلام نے یزیدی ظلم و استبداد کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنے سے انکار کرتے ہوئے یہ ثابت کر دیا کہ ایک صاحبِ ایمان شخص حق اور انصاف کی خاطر ہر قربانی دے سکتا ہے، مگر باطل کے سامنے جھک نہیں سکتا۔ میدانِ کربلا میں بظاہر تلوار غالب نظر آئی، لیکن تاریخ نے ثابت کر دیا کہ حقیقی فتح امام حسین علیہ السلام کے مقدس خون، ان کے عظیم مقصد اور ان کے پیغام کی ہوئی۔ یہی وجہ ہے کہ یزید کا نام ظلم و جبر کی علامت اور حسینؑ کا نام حق، عزت، آزادی اور انسانیت کے وقار کا استعارہ بن چکا ہے۔
مولانا جعفری نے کہا کہ بانیٔ انقلابِ اسلامی ایران، روح اللہ خمینی نے بجا طور پر فرمایا تھا: "یہ محرم و صفر ہیں جنہوں نے اسلام کو زندہ رکھا ہے۔" یہ قول اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ شہدائے کربلا کی یاد، مجالسِ عزا، عزاداری اور پیغامِ حسینیؑ نے ہر دور میں اسلام کی حقیقی روح، دینی شعور اور ظلم کے خلاف مزاحمت کو زندہ رکھا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ واقعۂ کربلا صرف ایک تاریخی سانحہ نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے ایک دائمی درسگاہ ہے، جو ہمیں صبر، استقامت، ایثار، قربانی، عدل، حق گوئی اور ظلم کے خلاف قیام کا پیغام دیتی ہے۔ امام حسین علیہ السلام کی شہادت نے اسلام کو نئی زندگی عطا کی اور امتِ مسلمہ کو بیداری، خودداری اور عزتِ نفس کا شعور بخشا۔
مولانا جعفری نے کہا کہ آج کے دور میں ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم محرم الحرام کے حقیقی پیغام کو سمجھیں، سیرتِ حسینیؑ کو اپنی زندگیوں میں نافذ کریں اور اتحاد، اخوت، رواداری، امن، انصاف اور انسانی اقدار کے فروغ کے لیے کردار ادا کریں۔ محرم ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ حق کی حفاظت اور باطل کے مقابلے میں استقامت ہی کامیابی کا راستہ ہے۔
انہوں نے تمام عزادارانِ امام حسین علیہ السلام، علماء کرام، ذاکرین، ماتمی انجمنوں اور نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ محرم الحرام کے دوران نظم و ضبط، باہمی احترام، امن و بھائی چارے اور دینی شعائر کے تقدس کو برقرار رکھتے ہوئے پیغامِ کربلا کو عام کریں۔
آخر میں مولانا ڈاکٹر سید محمد کوثر علی جعفری نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ ہمیں حضرت امام حسین علیہ السلام اور شہدائے کربلا کی تعلیمات پر عمل کرنے، حق و صداقت کی حمایت کرنے اور ظلم و ناانصافی کے خلاف آواز بلند کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔









آپ کا تبصرہ