پیر 20 جولائی 2026 - 12:40
مرکزِ ولایت و اخوت کریس، بلتستان میں تعلیمی، تحقیقی اور تربیتی پروگرام کا انعقاد / علماء کی علمی مہارت اور کردار پر تاکید

حوزہ / بلتستان کے علاقے کریس میں قائم مرکزِ ولایت و اخوت میں طالبات، ائمہ جماعت، اساتذہ اور عوام کے لیے مختلف تعلیمی، تحقیقی اور تربیتی پروگرام منعقد ہوئے، جن میں مقررین نے دینی تعلیم کے ساتھ تحقیق، تحریر، علمی مہارت اور سماجی خدمت کی اہمیت پر زور دیا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، 18 جولائی کو حجۃ الاسلام شیخ محمد علی توحیدی، ڈاکٹر مشتاق حکیمی اور ڈاکٹر شیخ محمد علی ممتاز نے حجۃ الاسلام شیخ غلام محمد کراروی کے ہمراہ مرکزِ ولایت و اخوت کریس کا دورہ کیا۔ جہاں علمائے کرام، اساتذہ اور مقامی افراد نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔

دورے کے دوران جامعۃ الزہراء کریس میں طالبات کے لیے "فنِ تحقیق اور قلم کی اہمیت" کے موضوع پر دو تربیتی نشستیں منعقد ہوئیں۔

مرکزِ ولایت و اخوت کریس، بلتستان میں تعلیمی، تحقیقی اور تربیتی پروگرام کا انعقاد / علماء کی علمی مہارت اور کردار پر تاکید

اس موقع پر حجۃ الاسلام شیخ محمد علی توحیدی نے خطاب کرتے ہوئے کہا: کسی بھی قوم کی ترقی صرف تعلیم سے نہیں بلکہ تحقیق، تخلیقی فکر، مہارت اور مسلسل علمی جدوجہد سے وابستہ ہے۔

انہوں نے طالبات پر زور دیا کہ وہ دینی تعلیم کے ساتھ تحقیقی اور تحریری صلاحیتوں کو بھی فروغ دیں تاکہ مستقبل میں مؤثر مبلغات، معلمات اور محققات کا کردار ادا کر سکیں۔

مرکزِ ولایت و اخوت کریس، بلتستان میں تعلیمی، تحقیقی اور تربیتی پروگرام کا انعقاد / علماء کی علمی مہارت اور کردار پر تاکید

نماز ظہرین کے بعد ڈاکٹر شیخ محمد علی ممتاز نے مومنین سے خطاب کرتے ہوئے کریس کے علماء کی دینی، علمی اور سماجی خدمات کو سراہا۔ انہوں نے کہا: کسی بھی ادارے یا تحریک کی کامیابی کے لیے بلند اہداف، درست منصوبہ بندی، اخلاص نیت اور رضائے الٰہی بنیادی اصول ہیں۔

بعدازاں ائمہ جماعت، مکاتب کے اساتذہ اور دینی طلبہ کے لیے خصوصی تربیتی نشست منعقد ہوئی، جس میں ڈاکٹر شیخ محمد علی ممتاز نے جدید اسالیبِ آموزشِ قرآن، سماجی نظم و نسق میں مینجمنٹ کی اہمیت اور "مدیریتِ مسجد" کے موضوع پر تفصیلی گفتگو کی۔

انہوں نے کہا: عصر حاضر میں امام جماعت صرف نماز کی امامت کرنے والا نہیں بلکہ ایک کامیاب منتظم، مربی، مصلح اور سماجی رہنما بھی ہونا چاہیے۔

مرکزِ ولایت و اخوت کریس، بلتستان میں تعلیمی، تحقیقی اور تربیتی پروگرام کا انعقاد / علماء کی علمی مہارت اور کردار پر تاکید

نماز مغربین کے بعد جامع مسجد کریس میں رہبرِ شہید کی یاد میں منعقدہ ہفتہ وار علمی نشست میں بچوں، نوجوانوں اور اہل علاقہ نے بھرپور شرکت کی۔

اس موقع پر ڈاکٹر مشتاق حکیمی نے "رہبرِ شہید کی نگاہ میں نوجوان کی اہمیت" کے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے کہا: رہبرِ معظم نوجوانوں کو امت کا سب سے قیمتی سرمایہ قرار دیتے تھے اور ان کے نزدیک امید، بصیرت، احساس ذمہ داری، جذبۂ خدمت اور خود اعتمادی ایک مثالی نوجوان کی بنیادی صفات ہیں۔

دورے کے موقع پر مقررین نے مرکزِ ولایت و اخوت کریس کی تعلیمی، تربیتی، تبلیغی اور سماجی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس مرکز میں علماء کا باہمی اتحاد، ذمہ داریوں کی منظم تقسیم اور عوام کا بھرپور تعاون بلتستان کے دیگر دینی مراکز کے لیے ایک قابلِ تقلید نمونہ ہے۔

انہوں نے حجۃ الاسلام شیخ ذوالفقار یعسوبی کی علمی، تربیتی اور سماجی خدمات کو بھی خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ علماء اور عوام کے درمیان اتحاد، ہم آہنگی اور دینی سرگرمیوں کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha