از قلم: کنیز فاطمہ
حوزہ نیوز ایجنسی|
عزاداری، تسلسلِ کربلا ہے۔ یہ عملِ حسینی اور عملِ زینبی کا تسلسل ہے۔ عملِ حسینی یہ تھا کہ باطل حکومت کے مقابلے میں قیام کیا جائے، حق کی خاطر ہر قربانی دی جائے، حتیٰ کہ جامِ شہادت نوش کر لیا جائے۔ جبکہ عملِ زینبی یہ تھا کہ اسی ظالم حکومت کے ناپاک چہرے سے نقاب اتار کر اسے پوری دنیا کے سامنے رسوا کر دیا جائے۔
وہ عزاداری جس سے یزید جیسا طاغوت نہ لرزے، وہ نہ حسینی عزاداری ہے اور نہ ہی زینبی عزاداری۔ حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے اس دربار میں، جہاں طاغوت تختِ حکومت پر براجمان تھا، ایسا خطبہ ارشاد فرمایا جو درحقیقت عزاداری کا بہترین نمونہ تھا۔ آپؑ نے اپنے دور کے یزید اور طاغوت کے خلاف قیامِ حق کا اعلان کیا اور رہتی دنیا تک یہ ثابت کر دیا کہ دشمن خواہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ حق کو کبھی نہیں چھپا سکتا۔
جب امام حسین علیہ السلام باطل حکومت سے ٹکرا رہے تھے اور حضرت زینب سلام اللہ علیہا بھی اسی باطل نظام کے خلاف ڈٹ کر کھڑی تھیں، تو پھر ان کے عزادار کیسے اپنے دور کی یزیدیت اور طاغوت کو فراموش کر سکتے ہیں؟ کیسے وہ زمانے کے حالات سے غافل ہو کر صرف چند رسومات ادا کرنے کو ہی عزاداری سمجھ سکتے ہیں؟
لہٰذا، حقیقی عزاداری کا تقاضا یہ ہے کہ ہم حق کا ساتھ دیں، اپنے دور کے یزید کو پہچانیں، باطل اور ظلم کے خلاف آواز بلند کریں، اور مظلوموں کی حمایت میں کھڑے ہوں۔ یہی عزاداریِ حسینی اور پیغامِ زینبی کا حقیقی تسلسل ہے۔









آپ کا تبصرہ