جمعہ 11 ستمبر 2026 - 12:41
1183 سالہ غیبت کی مسلسل پکار؛ کیا امام کی صدا پر ہمارے دل نرم ہوئے ہیں؟

حوزہ / امام زمانہ (عج) کا انقلاب، ایک عوامی انقلاب اور لوگوں کی مرضی و ارادے پر مبنی ہے؛ لہٰذا ان کا ظہور محض ایک تاریخی واقعہ نہیں، بلکہ اس بات سے وابستہ ہے کہ ہم پختگی اور طاقت کے اس مرحلے تک پہنچیں جہاں ہم اپنے امام کی سلامتی کی حفاظت کر سکیں۔ اس انتظار کے دوران ہمارا سب سے بڑا دشمن، خدا کی حجت کی 1183 سالہ تنہائی اور دربدری کے مقابلے میں دل کا سخت اور بے حس ہو جانا ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی: کیا ظہور تاریخ کے افق پر صرف ایک دور کا وعدہ ہے یا انسانی فطرت میں موجود عدل و حقیقت کی طلب کا انجام؟ یہ عظیم واقعہ محض ایک سیاسی تبدیلی نہیں، بلکہ انسانی تکامل کا سنگِ میل اور زمین پر عقلانیت و امن کے سورج کا طلوع ہے؛ وہ مقام جہاں دین کی حقیقت اور انسانی کرامت عدلِ الٰہی کے سائے میں پروان چڑھے گی۔

لیکن بنیادی سوال یہ ہے کہ اس واقعے کے رونما ہونے میں ہمارا حصہ کیا ہے؟

کیا انتظار ایک غیر فعال حرکت ہے یا تربیت کا ایک دقیق نظام؟

اس حوالے سے حجت الاسلام محمد شجاعی نے کچھ نکات بیان کیے ہیں جن میں وہ اس موضوع کی وضاحت کرتے ہیں۔

جب امام حُسین (علیہ السلام) کے تمام اصحاب شہادت پر فائز ہوئے تو آنحضرت نے تنہائی میں پکارا: «هل من ناصرٍ ینصرنی»؛ اور اسی فریاد نے عمر سعد کے لشکر میں موجود چند افراد کے دل نرم کر دیئے، یہاں تک کہ وہ حضرت کی خدمت میں حاضر ہو گئے۔

اب امام زمانہ عجّل‌ الله‌ تعالی‌ فرجه‌ الشریف نے فرمایا ہے: میں ہر روز یہ صدا «هل من ناصرٍ ینصرنی» بلند کرتا ہوں۔

کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم یہ صدا نہیں سنتے؟

واقعی حضرت امام زمانہ اسی وقت ہمیں اپنی مدد کے لیے بلا رہے ہیں؛ کیونکہ امام زمانہ (عج) کا انقلاب ایک عوامی اور اختیاری انقلاب ہے اور جب تک لوگ نہ چاہیں، حضرت ظہور نہیں فرمائیں گے۔ لہٰذا ہمیں یہ بات سمجھنی اور سننی چاہیے کہ امام زمانہ (عج) کی یہ کیفیت ہے، تاکہ ہمارے دل نرم ہوں۔

دعائے «اللهم لَیِّنْ قَلبی لِوَلیِّک» کتنی خوبصورت ہے! امام زمانہ (عج) نے فرمایا ہے: جب بھی دعا کرنا چاہو تو اللہ تعالیٰ سے کہو: «خدایا! ہمارے دلوں کو امام زمانہ کی نسبت میں نرم کر دو۔

میں سنگ دل نہ ہوں اور بے احساس نہ ہوں۔

جب مجھے یہ احساس ہوتا ہے کہ امام زمانہ، امیرالمؤمنین علی (علیہ‌السلام) کی تعبیر کے مطابق، ایک ہزار ایک سو تراسی سال سے دربدر اور تنہا ہیں تو میرا دل تڑپ اٹھتا ہے اور نرم ہو جاتا ہے۔ لیکن کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جن کے دل نرم نہیں ہوتے؛ وہ حضرت کی آواز سنتے ہیں، مگر اس کا ان کے دل پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔

شاید کوئی پوچھے:

امام زمانہ علیہ السّلام ایک ہزار ایک سو تراسی سال سے دربدر کیوں ہیں؟

وہ کیوں ظہور نہیں فرماتے؟

اللہ انہیں اجازت دے کہ وہ تشریف لائیں۔

اس کے جواب میں کہنا چاہیے کہ جس طرح گزشتہ گیارہ اماموں کو شہید کیا گیا، اگر امام زمانہ ابھی تشریف لے آئیں تو انہیں بھی شہید کر دیا جائے گا۔ حضرت کو ایسے وقت میں ظہور فرمانا چاہیے جب ہم اپنے امام کی سلامتی کی حفاظت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔

دنیا میں ایک انسان کس طرح یہ فیصلہ کرتا ہے کہ عمر سعد کے لشکر سے نکل آئے اور کہے: اب میں جاؤں گا، تاکہ سید الشہداء کی مدد کرسکوں، حالانکہ وہ جانتا ہے کہ اسے قتل کر دیا جائے گا؟

اس لیے کہ اس کا دل نرم ہو چکا تھا۔ درست ہے کہ وہ عمر سعد کے لشکر میں تھا، لیکن اس کے اندر ایک اچھا دل تھا اور اسی نرم دل نے اس کی مدد کی۔

خدا نہ کرے کہ انسان سنگ دل اور سخت دل ہو جائے اور درست فیصلہ کرنے کی صلاحیت کھو بیٹھے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha