جمعہ 17 جولائی 2026 - 12:22
آیت الله بہجتؒ کی نظر میں دیدارِ امام زمانؑ کی اصلی شرط

حوزہ/حضرت آیت الله جوادی آملی نے آیت الله بہجت کے کلام میں امام زمانہ علیہ السّلام کی خدمت میں حاضر ہونے کی حقیقت کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ اصل مقصد یہ ہو کہ امامِ زمانؑ ہمیں دیکھیں، نہ کہ صرف ہم اُن کی زیارت کریں۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حضرت آیت الله العظمیٰ جوادی آملی نے آیت الله بہجتؒ کے کلام میں امامِ زمانؑ کی بارگاہ میں حقیقی شرفِ حضور کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ آیت اللہ بہجتؒ کے ایک اہم ارشاد کو نقل کیا۔ آپ نے فرمایا کہ اصل مقصد یہ ہونا چاہیے کہ امامِ زمانؑ ہم پر نظرِ عنایت فرمائیں، نہ کہ صرف ہمیں ان کی ظاہری زیارت نصیب ہو۔

حضرت آیت الله جوادی آملی نے اپنے درسِ اخلاق میں آیت اللہ العظمیٰ بہجتؒ کا یہ واقعہ بیان کیا:

ایک مرتبہ حضرت آیت الله بہجتؒ سے سوال کیا گیا: ہم کیا کریں کہ ہمیں امامِ زمانؑ کی خدمت میں حاضری نصیب ہو؟

آپ نے کہا: اہلِ معرفت فرمایا کرتے تھے کہ تم اچھے انسان بن جاؤ! امامِ زمانؑ خود تمہیں دیکھیں گے۔ اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ وہ ہمیں دیکھیں، نہ کہ ہم انہیں دیکھ لیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ رسولِ اکرم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کے زمانے میں بھی بہت سے لوگ ایسے تھے جو مسجدِ نبوی میں روزانہ پانچ وقت آپؐ کے پیچھے نماز پڑھتے، آپؐ سے مصافحہ بھی کرتے تھے، مگر اس کے باوجود وہ آپؐ کی نظرِ خاص اور روحانی توجہ سے محروم رہے، اور بعض کا انجام بھی اچھا نہ ہوا۔

لہٰذا صرف ظاہری ملاقات انسان کی کامیابی کی ضمانت نہیں، بلکہ اصل کامیابی یہ ہے کہ انسان ایسا کردار اختیار کرے جو امامِ زمانؑ کی رضا اور توجہ کا باعث بنے۔

حضرت آیت الله جوادی آملی نے مزید کہا کہ ہم بار بار "یا الله" کہتے ہیں، مگر اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم سے کلام فرمائے اور اپنی رحمت و عنایت سے نوازے۔

قرآنِ کریم میں آیا ہے کہ قیامت کے دن کچھ لوگوں سے اللہ تعالیٰ کلام نہیں کرے گا اور نہ ہی ان پر نظرِ رحمت فرمائے گا، حالانکہ اللہ ہر چیز کو دیکھنے والا اور ہر چیز پر گواہ ہے۔ (بِکُلِّ شَی‏ءٍ بَصیر) (عَلَی کُلِّ شَی‏ءٍ شَهِیدٌ)؛ اس سے مراد عام دیکھنا نہیں، بلکہ نظرِ تشریف، نظرِ رحمت اور نظرِ تکریم ہے، جو صرف اپنے خاص بندوں کو نصیب ہوتی ہے۔

قرآن بعض جگہوں پر فرماتا ہے: خدا قیامت کے دن بعض لوگوں سے بات نہیں کرتا۔ لاَ یکَلِّمُهُمُ اللّهُ یوْمَ الْقِیامَةِ. ایک گروہ کی طرف نگاہ نہیں کرتا۔ لاَ ینْظُرُ إِلَیهِمْ. یہ کلام، تشریفی کلام ہے، یہ نگاہ خواص کے لیے تشریفی نگاہ ہے۔ خدا کا خلیفہ بھی ایسا ہی ہے یہاں تک کہ ہم جو بھی کام کریں وہ دیکھتا ہے۔

اسی طرح امامِ زمانؑ بھی اللہ کے اذن سے ہمارے تمام اعمال سے باخبر ہیں، جیسا کہ قرآن فرماتا ہے: وَ قُلِ اعْمَلُوا فَسَیرَی اللَّهُ عَمَلَکُمْ وَ رَسُولُهُ وَ الْمُؤْمِنُون‏. اور کہہ دیجیئے! عمل کرو، عنقریب اللہ، اس کا رسول اور مؤمنین تمہارے اعمال کو دیکھیں گے۔ (سورۂ توبہ: 105)

روایات میں "مؤمنین" سے اہلِ بیتؑ مراد لیے گئے ہیں۔

آپ نے کہا کہ اگر انسان صحیح راستے پر قائم رہے تو ولیِ عصرؑ کی نظرِ عنایت اس پر ہوتی ہے، اور یہی نظر انسان کی زندگی کو حقیقی معنوں میں عقلی، انسانی اور الٰہی زندگی بنا دیتی ہے۔ جب زندگی عقل و ایمان کے نور سے آراستہ ہو جائے تو موت بھی باوقار اور انسانیت کے شایانِ شان ہوتی ہے۔

جب زندگی، عقلی اور انسانی ہو تو پھر موت بھی انسانی ہوتی ہے۔

حوالہ:

[۱]. سورۂ ملک، آیه۱۹.

[۲]. سورۂ مائده، آیه۱۱۷؛ سوره حج، آیه۱۷ و ...

[۳]. سورۂ بقره، آیه۱۷۴.

[۴]. سورۂ آل عمران، آیه۷۷.

[۵]. سورۂ توبہ، آیه۱۰۵.

[۶]. تفسیر القمی، ج‏۱، ص۳۰۴.

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha