پیر 23 مارچ 2026 - 21:24
ایران کے استقامت کے آگے امریکہ جھک گیا،ٹرمپ توانائی انفراسٹرکچر پر حملہ کرنے سے پیچھے ہٹ گیا

حوزہ/ جب اسلامی جمہوریہ ایران نے خبردار کیا کہ اگر امریکہ نے ایران کے توانائی ڈھانچے پر کسی بھی قسم کا حملہ کیا تو وہ پورے خطے کے توانائی مراکز کو نشانہ بنائے گا، تو اس کے بعد ٹرمپ پیچھے ہٹ گیا اور اعلان کیا کہ اس نے حملے کو مؤخر کرنے کا حکم دے دیا ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کے روز اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ایک پیغام جاری کرتے ہوئے ایران کے ساتھ مذاکرات کا دعویٰ کیا ہے۔

ٹرمپ نے کہا کہ "مجھے خوشی ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان گزشتہ دو دنوں کے دوران مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے مکمل خاتمے کے لیے نہایت مثبت اور تعمیری بات چیت ہوئی ہے۔"

ٹرمپ، جو اس سے قبل ایران کو سخت فوجی دھمکیاں دے چکا تھا، نے مزید کہا کہ ان مذاکرات کے مثبت ماحول کو مدنظر رکھتے ہوئے اس نے وزارتِ دفاع کو ہدایت دی ہے کہ جاری بات چیت کی کامیابی سے مشروط طور پر ایران کے بجلی گھروں اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر کسی بھی ممکنہ حملے کو پانچ دن کے لیے مؤخر کر دیا جائے۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اس سے قبل ٹرمپ نے دھمکی دی تھی کہ اگر 48 گھنٹوں کے اندر آبنائے ہرمز کو نہ کھولا گیا تو ایران کے توانائی کے مراکز کو نشانہ بنایا جائے گا۔

دوسری جانب ایران نے بھی سخت ردعمل دیتے ہوئے واضح کیا تھا کہ اگر اس قسم کی کوئی کارروائی کی گئی تو وہ خطے بھر کے توانائی کے مراکز کو نشانہ بنائے گا، جس سے پورا علاقہ اندھیرے میں ڈوب سکتا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha