اتوار 27 ستمبر 2026 - 21:16
انصار اللہ یمن کے خلاف جہاد کا فتویٰ: قرآن کا معیار سب کے لیے ایک ہے؛ مفتیِ اعظمِ سعودی عرب کے نام چند قرآنی سوالات

حوزہ/قرآن مجید کسی ایک گروہ، جماعت یا خطے کے لیے نازل نہیں ہوا۔ اس کا خطاب پوری انسانیت سے ہے اور اس کے احکام کا بنیادی اصول یہ ہے کہ حق کو افراد، عہدوں اور مفادات سے نہیں بلکہ خود حق کے میزان سے پرکھا جائے۔ اسی لیے قرآن ہمیں عدل و انصاف کا حکم دیتے ہوئے یہ بھی سکھاتا ہے کہ کسی قوم یا گروہ سے اختلاف ہمیں انصاف سے منحرف نہ کرے۔

تحریر: شوکت بھارتی

حوزہ نیوز ایجنسی| قرآن مجید کسی ایک گروہ، جماعت یا خطے کے لیے نازل نہیں ہوا۔ اس کا خطاب پوری انسانیت سے ہے اور اس کے احکام کا بنیادی اصول یہ ہے کہ حق کو افراد، عہدوں اور مفادات سے نہیں بلکہ خود حق کے میزان سے پرکھا جائے۔ اسی لیے قرآن ہمیں عدل و انصاف کا حکم دیتے ہوئے یہ بھی سکھاتا ہے کہ کسی قوم یا گروہ سے اختلاف ہمیں انصاف سے منحرف نہ کرے۔

اسی قرآنی اصول کو سامنے رکھتے ہوئے سعودی عرب کے مفتیِ اعظم شیخ ڈاکٹر صالح بن فوزان الفوزان سے چند سوالات عرض ہیں۔

مفتی صاحب!

اگر کسی جماعت کے خلاف قرآن کی آیات پیش کی جائیں، اس کے خلاف سخت الفاظ استعمال کیے جائیں اور اس کے حامیوں کے لیے بھی بددعا کی جائے تو ایک عام مسلمان کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہونا فطری ہے کہ کیا قرآن کا یہی معیار دیگر سیاسی و بین الاقوامی معاملات میں بھی اسی شدت اور وضاحت کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے؟

آپ کے حالیہ بیان میں انصار اللہ یمن اور ان کے حامیوں کے خلاف یہ دعا منقول ہوئی:«أَنْ يَقْطَعَ دَابِرَ جَمَاعَةِ الْحُوثِيِّ، وَمَنْ يُسَاعِدُهُمْ وَيُشَايِعُهُمْ»

یعنی:اے اللہ! حوثی جماعت اور جو لوگ ان کی مدد اور حمایت کرتے ہیں، ان کا دابر کاٹ دے۔

مفتی صاحب!

انصار اللہ اور ان کے مددگاروں کے بارے میں قرآن سامنے رکھ کر میرا سوال سنیں۔

یزید کی پیش کی ہوئی آیت اور جنابِ زینبؑ کا جواب

واقعۂ کربلا کے بعد جب اہلِ بیتؑ کو یزید کے دربار میں لایا گیا تو روایات میں آتا ہے کہ یزید نے اپنے اقتدار اور ظاہری غلبے کے حوالے سے قرآن کی یہ آیت پیش کی:

﴿قُلِ اللَّهُمَّ مَالِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِي الْمُلْكَ مَن تَشَاءُ وَتَنزِعُ الْمُلْكَ مِمَّن تَشَاءُ وَتُعِزُّ مَن تَشَاءُ وَتُذِلُّ مَن تَشَاءُ ۖ بِيَدِكَ الْخَيْرُ ۖ إِنَّكَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ﴾سورۂ آلِ عمران، آیت 26

ترجمہ:کہہ دیجیے: اے اللہ! بادشاہی کے مالک! تو جسے چاہتا ہے حکومت دیتا ہے اور جس سے چاہتا ہے حکومت چھین لیتا ہے، جسے چاہتا ہے عزت دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے ذلت دیتا ہے۔ تمام بھلائی تیرے ہی ہاتھ میں ہے، بے شک تو ہر چیز پر قادر ہے۔

اس کے جواب میں جنابِ زینبؑ نے یزید کے اس تصور کو قبول نہیں کیا کہ اقتدار اور ظاہری غلبہ اللہ کے نزدیک عزت کی دلیل ہے۔

جنابِ زینبؑ نے فرمایا:«أَظَنَنْتَ يَا يَزِيدُ حَيْثُ أَخَذْتَ عَلَيْنَا أَقْطَارَ الْأَرْضِ وَآفَاقَ السَّمَاءِ فَأَصْبَحْنَا نُسَاقُ كَمَا تُسَاقُ الْأُسَارَى أَنَّ بِنَا عَلَى اللَّهِ هَوَانًا وَبِكَ عَلَيْهِ كَرَامَةً؟»

ترجمہ:اے یزید! کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ ہمیں قیدی بنا کر لے جانے کی وجہ سے ہم اللہ کے نزدیک ذلیل ہوگئے اور تم اللہ کے نزدیک معزز ہوگئے؟

پھر جنابِ زینبؑ نے قرآن کی یہ آیت پیش کی:

﴿وَلَا يَحْسَبَنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا أَنَّمَا نُمْلِي لَهُمْ خَيْرٌ لِأَنْفُسِهِمْ ۚ إِنَّمَا نُمْلِي لَهُمْ لِيَزْدَادُوا إِثْمًا ۚ وَلَهُمْ عَذَابٌ مُّهِينٌ﴾سورۂ آلِ عمران، آیت 178

ترجمہ:اور کافر لوگ ہرگز یہ نہ سمجھیں کہ ہم جو انہیں مہلت دے رہے ہیں یہ ان کے لیے بہتر ہے۔ ہم تو انہیں صرف اس لیے مہلت دے رہے ہیں کہ وہ گناہ میں اور بڑھ جائیں، اور ان کے لیے رسوا کرنے والا عذاب ہے۔

جنابِ زینبؑ نے یزید کے سامنے یہ واضح کیا کہ دنیاوی اقتدار اور ظاہری غلبہ اللہ کے نزدیک عزت اور حق ہونے کی قطعی دلیل نہیں۔

مفتی صاحب!

اسی واقعے سے آج کا سوال پیدا ہوتا ہے:

اگر اقتدار اور ظاہری غلبہ کسی شخص کے حق پر ہونے کی قطعی دلیل نہیں تو آج بھی کسی حکومت یا طاقتور ملک کے اقتدار کو حق کی دلیل کیسے بنایا جا سکتا ہے؟

یہود و نصاریٰ کے بارے میں قرآنی معیار

مفتی صاحب!

یہ بات تو ہر عقل رکھنے والا جانتا ہے کہ مسلم دنیا میں امریکا، اسرائیل اور یورپ کے بارے میں شدید سیاسی اور دینی اختلافات موجود ہیں۔ قرآن یہود و نصاریٰ کے بارے میں فرماتا ہے:

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا الْيَهُودَ وَالنَّصَارَىٰ أَوْلِيَاءَ ۘ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ ۚ وَمَنْ يَتَوَلَّهُمْ مِنْكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ﴾سورۂ مائدہ، آیت 51

ترجمہ:اے ایمان والو! یہود و نصاریٰ کو سرپرست نہ بناؤ۔ وہ آپس میں ایک دوسرے کے سرپرست ہیں، اور تم میں سے جو انہیں سرپرست بنائے گا، وہ انہی میں سے ہے۔

قرآن صاف صاف کہہ رہا ہے:«فَإِنَّهُ مِنْهُمْ»

یعنی جو اُنہیں سرپرست بنائے گا، وہ انہی میں سے ہے۔

مفتی صاحب!

اب میرا سوال آپ سے ہے:

جن عرب حکمرانوں کے امریکا، اسرائیل اور یورپی طاقتوں کے ساتھ تعلقات ہیں، ان کے بارے میں قرآن کی اس آیت کو سامنے رکھ کر آپ یا آپ جیسے علما اسی طرح کے سوال کیوں نہیں کرتے؟

اگر انصار اللہ کے خلاف قرآن کی آیات پیش کی جا سکتی ہیں تو پھر قرآن کے ان احکام کو ان تمام معاملات میں بھی سامنے لایا جائے جہاں مسلمان حکمران یہود و نصاریٰ سے سیاسی، معاشی یا دیگر تعلقات رکھتے ہیں۔

مفتی صاحب!

آپ سعودی حکومت کے ساتھ کھڑے ہیں۔

اور قرآن کہتا ہے:«فَإِنَّهُ مِنْهُمْ»

تو پھر قرآن کی روشنی میں میرا سوال ہے:

کیا قرآن کے اس حکم کا اطلاق سب پر یکساں ہوگا یا صرف ایک مخصوص جماعت پر؟

پھر اللہ تعالیٰ اُن لوگوں کی دل کی کیفیت بھی بیان کرتا ہے:

﴿فَتَرَى الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ مَرَضٌ يُسَارِعُونَ فِيهِمْ يَقُولُونَ نَخْشَىٰ أَنْ تُصِيبَنَا دَائِرَةٌ﴾سورۂ مائدہ، آیت 52

ترجمہ:پھر آپ ان لوگوں کو دیکھیں گے جن کے دلوں میں بیماری ہے کہ وہ ان میں دوڑتے پھرتے ہیں، کہتے ہیں: ہمیں ڈر ہے کہ کہیں کوئی گردشِ زمانہ ہمیں نہ آ پہنچے۔

مفتی صاحب!

اللہ بتا رہا ہے کہ بعض لوگ دنیاوی خوف کی وجہ سے اُن کی طرف دوڑتے ہیں۔

اب میرا سوال ہے:

کیا مسلمان کو اللہ سے ڈرنا چاہیے یا دنیاوی طاقتوں سے؟

آیت 53 اور قرآن کا سوال

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿وَيَقُولُ الَّذِينَ آمَنُوا أَهَٰؤُلَاءِ الَّذِينَ أَقْسَمُوا بِاللَّهِ جَهْدَ أَيْمَانِهِمْ إِنَّهُمْ لَمَعَكُمْ ۚ حَبِطَتْ أَعْمَالُهُمْ فَأَصْبَحُوا خَاسِرِينَ﴾سورۂ مائدہ، آیت 53

ترجمہ:اور ایمان والے کہیں گے: کیا یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے اللہ کی پُرزور قسمیں کھا کر کہا تھا کہ ہم یقیناً تمہارے ساتھ ہیں؟ ان کے اعمال ضائع ہوگئے، پس وہ خسارہ اٹھانے والے ہوگئے۔

مفتی صاحب!

قرآن کے ان الفاظ کو سامنے رکھ کر سوال یہ ہے کہ زبان سے اللہ اللہ کرنا اور عملی تعلقات میں دنیاوی طاقتوں کے سامنے جھکنا—اس کا قرآنی معیار کیا ہوگا؟

کیا آپ اللہ سے ڈرتے ہیں یا یہود و نصاریٰ سے؟

فلسطین میں مسلمانوں کا خون

فلسطین میں مسلمانوں کا خون بہتا رہا ہے اور غزہ میں تباہی اور انسانی المیہ جاری رہا ہے۔

مفتی صاحب!

قرآن فرماتا ہے:﴿وَمَا لَكُمْ لَا تُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَالْمُسْتَضْعِفِينَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ وَالْوِلْدَانِ﴾سورۂ نساء، آیت 75

ترجمہ:اور تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم اللہ کی راہ میں اور ان کمزور مردوں، عورتوں اور بچوں کی خاطر جدوجہد نہیں کرتے؟

تو سوال ہے:

فلسطین کے مظلوم مردوں، عورتوں اور بچوں کے بارے میں قرآن کا یہ اصول کہاں ہے؟

کیا یہ اصول صرف ایک مسلمان گروہ کے خلاف استعمال ہوگا یا ہر مظلوم کے لیے یکساں ہوگا؟

یمن کے مظلوموں کا سوال

یمن کے مسلمان بھی برسوں سے جنگ اور انسانی بحران کا سامنا کرتے رہے ہیں۔

مفتی صاحب!

آپ انصار اللہ کے خلاف قرآن کی آیات پیش کرتے ہیں، ان کے خلاف جہاد کی بات کرتے ہیں اور ان کے مددگاروں کے لیے بددعا کرتے ہیں۔

لیکن یمن کے مظلوم مسلمانوں کے لیے آپ کی آواز کیوں نہیں اٹھتی؟

اگر یمن میں کسی فریق پر ظلم کا الزام ہے تو قرآن کا حکم ہر فریق کے اعمال کو دیکھ کر لگایا جائے۔

آپ کے مخالفین کے لیے قرآن کی آیات ہیں تو اپنے قریب سمجھے جانے والوں کے لیے بھی قرآن کی آیات ہونی چاہئیں۔

ظالموں کی طرف جھکنے کے بارے میں قرآن

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿وَلَا تَرْكَنُوا إِلَى الَّذِينَ ظَلَمُوا فَتَمَسَّكُمُ النَّارُ﴾سورۂ ہود، آیت 113

ترجمہ:اور ان لوگوں کی طرف نہ جھکنا جنہوں نے ظلم کیا، ورنہ تمہیں آگ آ پکڑے گی۔

مفتی صاحب!

فلسطین کے مظلوموں پر ظلم کرنے والوں کے بارے میں آپ کی آواز کیوں نہیں گونجتی؟

یمن کے مظلوموں کے لیے آپ کی آواز کیوں نہیں اٹھتی؟

امریکا اور اسرائیل کے بارے میں وہی قرآنی سوال کہاں ہے؟

اور اُن عرب حکمرانوں کے بارے میں قرآن کا سوال کہاں ہے جو ان طاقتوں کے ساتھ کھڑے ہیں؟

شراب اور جوا

مفتی صاحب!

قرآن مجید فرماتا ہے:﴿إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ﴾سورۂ مائدہ، آیت 90

ترجمہ:شراب، جوا، بت اور پانسے شیطانی کاموں کی گندگی ہیں، پس ان سے بچو۔

اگر قرآن کی آیات کسی مسلمان جماعت کے خلاف پیش کرنا دینی ذمہ داری ہے تو پھر قرآن میں واضح طور پر حرام قرار دی گئی چیزوں کے خلاف بھی اسی شدت اور صراحت کے ساتھ آواز کیوں نہ اٹھائی جائے؟

وحدتِ امت

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا﴾سورۂ آلِ عمران، آیت 103

ترجمہ:اور سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ نہ کرو۔

مفتی صاحب!

اگر وحدتِ امت قرآن کا حکم ہے تو فلسطین، مسجدِ اقصیٰ، یمن اور مسلم دنیا کے بنیادی مسائل پر امت کو متحد کرنے کے لیے بھی اسی حکم کو سامنے رکھنا چاہیے۔

اور قرآن فرماتا ہے:﴿إِنْ يَنْصُرْكُمُ اللَّهُ فَلَا غَالِبَ لَكُمْ﴾سورۂ آلِ عمران، آیت 160

ترجمہ:اگر اللہ تمہاری مدد کرے تو کوئی تم پر غالب نہیں آسکتا۔

اصل سوال

مفتی صاحب!

میرا سوال کسی ایک جماعت کا نہیں، قرآن کے معیار کا ہے۔

اگر کسی مسلمان جماعت کے خلاف قرآن کی آیات پیش کی جاتی ہیں تو کیا اسی قرآن کی دوسری آیات سے ریاستوں، حکومتوں، طاقتوروں اور عالمی طاقتوں کے اقدامات کا بھی جائزہ نہیں لیا جائے گا؟

اگر قرآن ظلم سے رکنے کا حکم دیتا ہے تو یہ حکم سب کے لیے ہے۔

اگر قرآن مظلوم مردوں، عورتوں اور بچوں کے بارے میں سوال کرتا ہے تو یہ سوال سب کے لیے ہے۔

اگر قرآن تفرقے سے منع کرتا ہے تو یہ حکم سب کے لیے ہے۔

اور اگر قرآن یہود و نصاریٰ کے ساتھ ولایت کے بارے میں تنبیہ کرتا ہے تو اس آیت کے مفہوم اور شرائطِ اطلاق کو بھی سب کے لیے یکساں طور پر دیکھنا ہوگا۔

قرآن کسی ایک حکومت، کسی ایک جماعت یا کسی ایک ملک کی ملکیت نہیں۔

قرآن ایک ہے، اس کا میزان ایک ہے۔

مفتی صاحب!

آپ نے انصار اللہ کے خلاف قرآن کی آیات پیش کیں۔

اب قرآن کی انہی آیات کو سامنے رکھ کر میرا سوال سنیں:

کیا آپ اللہ سے ڈرتے ہیں یا یہود و نصاریٰ سے؟

کیا آپ قرآن کے ساتھ ہیں یا اُن حکمرانوں کے ساتھ جو اُن طاقتوں کے ساتھ کھڑے ہیں؟

کیا قرآن کا معیار صرف انصار اللہ کے لیے ہے یا سب کے لیے؟

جواب دیجیے۔

اور جواب بھی قرآن کی آیت سے دیجیے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha