حوزہ نیوز ایجنسی کے نمائندہ سے گفتگو میں حوزہ علمیہ قم کے نائب مدیر حجت الاسلام والمسلمین حمید ملکی نے جمہوریہ اسلامی ایران کے خلاف امریکہ کے میڈیا شور و غل پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا: عالمی استکبار بالخصوص امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ ایرانی عوام کی 47 سالہ جدوجہد کے بعد ہم ایک نہایت فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔
انہوں نے انقلاب اسلامی کے آغاز سے دشمن کی فتنہ انگیزیوں کی تاریخ کا جائزہ لیتے ہوئے کہا: انقلاب اسلامی ایران کی کامیابی کے پہلے ہی دن سے امریکیوں نے کردستان، آذربائیجان، خوزستان اور ترکمن صحرا کی تجزیہ جیسے مسائل کو ہوا دی اور آشوب برپا کیے لیکن یہ تمام فتنے علماء کے بابصیرت کردار اور حضرت امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کی قیادت کی برکت سے ناکام ہو گئے۔
حجت الاسلام والمسلمین ملکی نے آٹھ سالہ مسلط کردہ جنگ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: دشمنوں کو مجبور ہونا پڑا کہ کئی ممالک کو اکٹھا کریں اور بعثی صدام کو آگے بڑھائیں تاکہ خطے میں ایک عالمی جنگ مسلط کریں۔ جنگ کے ایک طرف تنہا ایران تھا اور دوسری طرف بعثی صدام تھا جسے امریکہ، جرمنی، فرانس، انگلینڈ اور جعلی صہیونی حکومت کی حمایت حاصل تھی اور حقیقت میں اسے تیسری عالمی جنگ کہا جا سکتا ہے۔
انہوں نے جمہوریہ اسلامی اور استکباری محاذ کے درمیان جنگ کو دو تہذیبوں کا تصادم قرار دیتے ہوئے کہا: امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ نے انقلاب اسلامی کے ذریعے ایک تہذیبی تحریک کا آغاز کیا جو زوال پذیر مغربی تہذیب کے بالمقابل ہے۔ عالمی استکبار یعنی امریکہ اپنی دھونس کے ساتھ کہتا ہے کہ ایران کو مذاکرات کرنے چاہئیں یعنی اسے سرتسلیم خم ہونا چاہیے حالانکہ ایرانی قوم کبھی زور و ظلم کے سامنے سر تسلیم نہیں کرتی اور کسی بھی ذلت کو قبول نہیں کرتی۔
حجت الاسلام والمسلمین ملکی نے ایران کے خلاف امریکہ کی جنگ اور مذاکرات کی کھوکھلی دھمکیوں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا: مذاکرات کا مطلب یہ ہے کہ باہمی گفتگو کے ذریعے ایک دوسرے کے مفادات کا خیال رکھا جائے لیکن امریکہ مذاکرات کے نقاب کے پیچھے ایران کے تمام وسائل پر قبضہ اور ہمارے ملک کو ہڑپ کرنا چاہتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ تم اپنے سائنس دانوں سے فائدہ نہ اٹھاؤ، تمہارے پاس سائنس دان نہیں ہونے چاہئیں، تمہارا جوہری پروگرام نہیں ہونا چاہیے، تمہارے پاس میزائل نہیں ہونے چاہئیں اور جو کچھ ہم کہیں وہی انجام دینا ہوگا۔ بالکل اسی طرح جیسے وہ وینزویلا کے ساتھ کر رہے ہیں جہاں اب وہ اس ملک کے تیل کے بارے میں خود فیصلہ کرتے ہیں لیکن یہ انجام نہیں ہے کیونکہ جب کوئی ملک امریکہ کے سامنے تسلیم ہو جاتا ہے اور اپنی تمام صلاحیتیں قربان کر دیتا ہے اور کمزور ہو جاتا ہے تو پھر وہی امریکہ جیسے اس نے شام اور لیبیا پر بمباری کی اور انہیں تباہی سے دوچار کیا ویسے ہی اس ملک پر بھی حملہ کر دیتا ہے۔









آپ کا تبصرہ