بدھ 2 ستمبر 2026 - 15:48
قرآن پر عمل انسان کے انفرادی اور اجتماعی کردار میں نمایاں ہونا چاہیے

حوزہ / آیت اللہ ناصری نے ہدایت اور سماجی خدمت میں مساجد کے کردار پر زور دیتے ہوئے کہا: مساجد کو قرآن اور اہل بیت علیہم السلام کو محور بناتے ہوئے ثقافتی اور دینی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ محلوں کے مسائل اور مشکلات کے حل میں بھی پیش پیش ہونا چاہیے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران کے صوبہ یزد میں نمائندہ ولی فقیہ آیت اللہ ناصری نے یزد کی مساجد کے قرآنی کارکنوں سے ملاقات میں قرآن کریم سے انس اور معارف اہل بیت (ع) سے آشنائی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا: پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے امت اسلامی کو وصیت کرتے ہوئے فرمایا: «إِنّی تارِکٌ فیکُمُ الثَّقَلَین»؛ یعنی میں تمہارے درمیان دو گرانقدر امانتیں، قرآن اور اہل بیت علیہم السلام چھوڑ کر جا رہا ہوں۔

انہوں نے مزید کہا: اگر مسلمان قرآن اور اہل بیت علیہم السلام، جو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دو گرانقدر امانتیں ہیں، سے تمسک کریں تو وہ ہدایت اور سعادت سے بہرہ مند ہوں گے کیونکہ یہ دونوں ایک دوسرے سے جدا نہیں ہو سکتے اور دونوں سے تمسک انسان کو گمراہی سے محفوظ رکھتا ہے۔

صوبہ یزد میں نمائندہ ولی فقیہ نے بعض ایسی تحریکوں کی موجودگی کی طرف اشارہ کیا جو بظاہر قرآنی ہونے کے باوجود صحیح راستے سے منحرف ہو گئیں اور کہا: آج بعض اسلامی ممالک میں قرآن کی تلاوت کی جاتی ہے لیکن اہل بیت علیہم السلام کے بارے میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وصیت سے غفلت کے باعث قرآن سے یہ انس مطلوبہ نتیجے تک نہیں پہنچ سکا۔ قرآن کریم صرف تلاوت کے لیے نہیں بلکہ مسلمانوں کی زندگی اور اجتماعی رویوں میں بھی جاری و ساری ہونا چاہیے۔

قرآن پر عمل انسان کے انفرادی اور اجتماعی کردار میں نمایاں ہونا چاہیے

آیت اللہ ناصری نے مزید کہا: کوئی شخص قرآن کی پیروی کا دعویٰ نہیں کر سکتا لیکن ظلم و جور کے سامنے سر تسلیم خم کر دے۔ قرآن کریم پر عمل انسان کے انفرادی اور اجتماعی کردار میں نمایاں ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا: امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ نے عملی طور پر معاشرے کو یہ سکھایا کہ قرآن سے آشنائی ہونی چاہیے اور زندگی کو قرآن اور خداوند متعال سے جوڑنا چاہیے۔ رہبر شہید انقلاب (رہ) بھی انقلاب اسلامی کی کامیابی سے کئی سال قبل قرآنی مجالس اور درس تفسیر منعقد کرتے تھے اور ہمیشہ معارف قرآن سے انس پر زور دیتے تھے۔

آیت اللہ ناصری نے قرآنی ثقافت کے فروغ میں مساجد کے مرکزی کردار پر زور دیتے ہوئے کہا: مساجد کو قرآن اور اہل بیت علیہم السلام کا مرکز بننا چاہیے اور مساجد میں قرآنی سرگرمیوں کو سنجیدگی سے آگے بڑھایا جانا چاہیے۔

انہوں نے مساجد کے سماجی کردار پر بھی زور دیتے ہوئے کہا: مساجد کو محلوں کے مسائل اور مشکلات کے حل میں پیش پیش ہونا چاہیے اور مختلف شعبوں میں عوام اور معاشرے کی مدد کرنی چاہیے۔ مسجد کے فعال کارکنوں کو اپنے علاقے کے مسائل اور ضروریات کی نشاندہی کرکے ان کے حل کے لیے کوشش کرنی چاہیے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha