حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حجۃ الاسلام والمسلمین محمد حاج ابوالقاسم نے حرمِ کریمہ اہل بیت حضرت معصومہ قم سلام اللہ علیہا میں منعقدہ محفلِ کرسیِ تلاوتِ فاطمی سے خطاب کرتے ہوئے سورۂ کہف کی آیات 107 تا 110 کی طرف اشارہ کیا اور کہا کہ ان آیات میں چار اہم اصول بیان ہوئے ہیں جن کی مومن کو بحرانی حالات میں ضرورت ہوتی ہے۔
انہوں نے اللہ پر ایمان کو پہلا اصول قرار دیتے ہوئے کہا کہ انسان جسمانی نقصان اٹھا سکتا ہے یا اپنا مال کھو سکتا ہے، لیکن اسے اپنا ایمان نہیں کھونا چاہیے۔ صدرِ اسلام میں مومنین نے دشمنوں کی جانب سے متعدد مشکلات برداشت کیں، مگر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر اپنا ایمان نہیں کھویا۔
انہوں نے عمل صالح کو دوسرا اصول قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایمان اور خدا پر یقین کا اظہار انسان کے عمل اور کردار میں بھی ہونا چاہیے۔ قرآن کے مطابق ایمان اور عمل صالح اختیار کرنے والوں کے لیے جنت کے باغات ہیں جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے۔
حجۃ الاسلام والمسلمین حاج ابوالقاسم نے بحرانی حالات میں امید کو تیسرا اصول قرار دیتے ہوئے کہا کہ جس شخص کے پاس اللہ ہے، وہ ہمیشہ امیدوار رہتا ہے، کیونکہ پوری کائنات اللہ کی قدرت کا مظہر ہے اور کوئی بھی طاقت اس کی قدرت سے زیادہ نہیں۔
انہوں نے اخلاص کو چوتھا قرآنی اصول قرار دیتے ہوئے کہا کہ انسان کو خالصتاً اللہ کی عبادت کرنی چاہیے۔ مومن کی شادی، اولاد کی تربیت، کھانا پینا اور زندگی کے تمام معاملات اللہ کے لیے ہونے چاہئیں، یہاں تک کہ اس کی موت بھی اللہ کی راہ میں ہو۔
انہوں نے آخر میں کہا کہ شہید رہبر ایران نے اپنی پوری زندگی اللہ کی راہ میں صرف کی، زاہدانہ زندگی گزاری اور ماہِ رمضان میں روزے کی حالت میں جامِ شہادت نوش کیا۔










آپ کا تبصرہ