پیر 31 اگست 2026 - 04:07
انجمنِ عفاف کی مدیر سیدہ اریبہ فاطمہ کی حوزہ نیوز سے گفتگو: سیرتِ نبوی میں اختلاف کے باوجود امن و تعاون ممکن ہے

حوزہ/انجمنِ ثقافتئ عفاف پاکستان کی مدیر سیدہ اریبہ فاطمہ کاظمی نے ہفتۂ وحدت اور ولادتِ باسعادت صادقین علیہما السّلام کی مناسبت سے تبریک پیش کرتے ہوئے کہا کہ سیرتِ نبوی کی روشنی میں اختلاف کے باوجود، تمام مکاتب و مذاہب کے مابین امن و تعاون ممکن ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی:انجمنِ ثقافتئ عفاف پاکستان کی مدیر سیدہ اریبہ فاطمہ کاظمی نے ہفتۂ وحدت کے موقع پر، سیرتِ نبوی میں موجودہ عالمی تنازعات کا حل، تعلیماتِ محمدیؐ میں مساوات کا تصور اور وحدتِ امت کا مطلب، کے عنوان سے حوزہ نیوز کے نمائندے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسلام سے قبل انسانی معاشروں میں نسل، خاندان، رنگ اور طبقاتی حیثیت کی بنیاد پر انسانوں کی قدر و قیمت متعین کی جاتی تھی؛ لیکن تعلیماتِ محمدیؐ نے اس تصور کو بنیادی طور پر تبدیل کر کے انسانی کرامت کو مرکزیت عطا کی۔

انجمنِ عفاف کی مدیر نے اس سوال ”کیا موجودہ عالمی تنازعات کا حل سیرتِ نبوی کے اصولِ وحدت میں پوشیدہ ہے؟“ کے جواب میں کہا کہ موجودہ عالمی تنازعات، خواہ وہ مذہبی اختلافات، نسلی تعصبات، سیاسی کشمکش یا معاشی مفادات سے پیدا ہوں، ان کے بنیادی اسباب میں ظلم، ناانصافی، عدمِ اعتماد اور باہمی مفادات کا ٹکراؤ شامل ہے۔ سیرتِ نبویؐ ان مسائل کے حل کے لیے ایک ایسا جامع اصول پیش کرتی ہے جس کی بنیاد عدل، صلح، مکالمہ، انسانی کرامت اور مشترکات پر باہمی تعاون ہے۔ قرآنِ مجید ارشاد فرماتا ہے: وَأَصْلِحُوا ذَاتَ بَيْنِكُمْ. یعنی اپنے باہمی تعلقات کو اصلاح کے ذریعے درست کرو۔ اسی طرح فرمایا: وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَىٰ. نیکی اور تقویٰ کے کاموں میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرو۔ ان قرآنی اصولوں کی عملی تفسیر رسولِ اکرم کی سیرت میں نظر آتی ہے، جہاں نبی اکرم نے مختلف قبائل اور گروہوں کے درمیان امن، انصاف اور باہمی ذمہ داری کا نظام قائم کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ مدینہ میں مختلف قبائل اور طبقات کو ایک اجتماعی نظم کے تحت جمع کرنا اس بات کی عملی مثال ہے کہ اختلاف کے باوجود امن و تعاون ممکن ہے۔ سیرتِ نبویؐ کا بنیادی اصول یہ ہے کہ تنازعے کو دشمنی میں تبدیل کرنے کے بجائے اسے عدل اور مکالمے کے ذریعے حل کیا جائے۔

محترمہ اریبہ فاطمہ نے مزید کہا کہ عقلی لحاظ سے بھی یہ حقیقت واضح ہے کہ طاقت اور غلبے پر قائم امن عارضی ہوتا ہے، جبکہ انصاف اور باہمی احترام پر قائم امن زیادہ پائیدار ہوتا ہے؛ لہٰذا موجودہ عالمی تنازعات کے حل کے لیے سیرتِ نبویؐ کے اصولِ وحدت کو محض تاریخی واقعہ نہیں، بلکہ ایک عملی اخلاقی و سماجی نمونہ سمجھنا چاہیے۔

جامعہ المصطفیٰ العالمیہ کی ایم فل اسکالر نے اس سوال ”تعلیماتِ محمدی میں مساوات کے تصور نے کس طرح دنیا کا نقشہ بدل دیا؟“ کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ اسلام سے قبل انسانی معاشروں میں نسل، خاندان، رنگ اور طبقاتی حیثیت کی بنیاد پر انسانوں کی قدر و قیمت متعین کی جاتی تھی؛ لیکن تعلیماتِ محمدیؐ نے اس تصور کو بنیادی طور پر تبدیل کر کے انسانی کرامت کو مرکزیت عطا کی۔ قرآنِ مجید نے فرمایا: إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ. یعنی اللہ کے نزدیک تم میں زیادہ عزت والا وہ ہے جو زیادہ پرہیزگار ہے۔ اس آیت نے نسب، رنگ اور دولت کو حقیقی فضیلت کا معیار قرار دینے کے تصور کو رد کر دیا۔

محترمہ اریبہ نے مزید کہا کہ رسولِ اکرمؐ کی تعلیمات میں بھی انسانی مساوات نمایاں ہے۔ قرآنی آیت کا مفہوم ہے کہ کسی عرب کو عجمی اور کسی گورے کو کالے پر کوئی حقیقی برتری حاصل نہیں، بلکہ فضیلت کا معیار تقویٰ اور کردار ہے۔ اسی تعلیم نے انسانی تعلقات کو نسل اور طبقے کے بجائے اخلاقی اقدار سے وابستہ کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ عقلی اعتبار سے بھی معاشرے میں حقیقی استحکام اس وقت پیدا ہوتا ہے جب ہر فرد کو بنیادی انسانی احترام اور ترقی کے مناسب مواقع حاصل ہوں۔ طبقاتی امتیاز اور نسلی برتری معاشرے میں محرومی، نفرت اور کشمکش پیدا کرتے ہیں، جبکہ مساوات اجتماعی اعتماد اور تعاون کو فروغ دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تعلیماتِ محمدیؐ نے انسانی اخوت اور اجتماعی انصاف کے تصور کو مضبوط بنیاد فراہم کی۔

انجمنِ عفاف پاکستان کی مدیر نے اس سوال ”وحدتِ امت کا مطلب یکساں ہونا ہے یا مختلف ہو کر بھی ایک مقصد پر متحد ہونا؟“ کے جواب میں کہا کہ اسلامی تعلیمات میں وحدت کا مفہوم ہر فرد اور گروہ کو ایک جیسا بنا دینا نہیں ہے، بلکہ بنیادی اصولوں اور مشترکہ مقصد کے تحت ایک دوسرے کے ساتھ مربوط ہونا ہے۔ قرآنِ مجید فرماتا ہے: وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا. یعنی سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامو اور تفرقے میں نہ پڑو۔

انہوں نے مزید کہا کہ رسولِ خاتم نے مختلف قبائل، طبقات اور معاشرتی گروہوں کو ان کی شناخت ختم کیے بغیر ایک اجتماعی نظام میں جمع کیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وحدت کا مقصد اختلافات کو مٹانا نہیں، بلکہ اختلافات کے باوجود مشترکہ اصولوں پر باہمی تعاون کرنا ہے۔

سیدہ اریبہ فاطمہ نے کہا کہ روایاتِ اسلامی میں مسلمانوں کے باہمی تعلق کو ایک جسم اور باہم مربوط عمارت سے تشبیہ دی گئی ہے، جس کا مفہوم یہ ہے کہ معاشرے کے مختلف افراد اور طبقات اپنی خصوصیات کے باوجود ایک دوسرے کے لیے تعاون اور استحکام کا ذریعہ بنیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ عقلی لحاظ سے بھی دیکھا جائے تو مکمل یکسانیت نہ انسانی فطرت کے مطابق ہے اور نہ اجتماعی زندگی کے لیے ضروری۔ فکری اور ثقافتی تنوع ایک فطری حقیقت ہے؛ مسئلہ اختلاف نہیں، بلکہ اختلاف کو دشمنی اور تفرقے میں تبدیل کرنا ہے؛ لہٰذا حقیقی وحدت در عینِ کثرت ہے، یعنی مختلف افراد اور گروہوں کا عدل، حق، خیرِ عام اور اعلیٰ مشترکہ مقصد کی بنیاد پر متحد ہونا۔

سیدہ اریبہ فاطمہ نے مزید کہا کہ نتیجہ یہ ہے کہ سیرتِ نبویؐ کا تصورِ وحدت آج بھی ایک جامع انسانی اصول ہے، جس میں عدل، مساوات، انسانی کرامت اور اختلاف کے باوجود تعاون شامل ہے۔ یہی اصول امت کے داخلی اتحاد اور عالمی سطح پر امن و انصاف کے قیام کے لیے مؤثر بنیاد فراہم کر سکتے ہیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha