تحریر: مزمل عباس فاطمی، جامعۃالمصطفیٰ کراچی
حوزہ نیوز ایجنسی|
مقدمہ
اسلام ایک مکمل اور ہمہ گیر دین ہے، جو انسان کی انفرادی زندگی کے ساتھ ساتھ اجتماعی، سیاسی، معاشرتی، اقتصادی اور حکومتی نظام کے لیے بھی واضح اور جامع رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ اسلامی تعلیمات کا ایک بنیادی تصور "ولایت" ہے۔ ولایت سے مراد ایسا نظامِ قیادت ہے جو خداوندِ متعال کی حاکمیت کے زیرِ سایہ اسلامی معاشرے کی رہنمائی کرے اور اسے صحیح سمت عطا کرے۔
رہبرِ معظم انقلاب کی کتاب "ولایت کے موضوع پر چھ تقاریر" کی چوتھی تقریر "ولایت کا عملی قیام" اسی بنیادی موضوع کی تشریح کرتی ہے۔ اس تقریر میں واضح کیا گیا ہے کہ اسلامی معاشرے کی بقا، وحدت اور صحیح سمت کے لیے ایک ایسے رہبر اور ولی کی ضرورت ہے جو الٰہی اصولوں کے مطابق قیادت کی صلاحیت رکھتا ہو۔ ولایت درحقیقت اسلامی نظام کا وہ بنیادی ستون ہے، جس کے بغیر معاشرہ انتشار، ظلم اور فکری گمراہی کا شکار ہو جاتا ہے۔
قرآن کی روشنی میں ولایت
قرآنِ مجید کی تعلیمات سے واضح ہوتا ہے کہ حقیقی حاکمیت صرف اللہ تعالیٰ کی ہے۔ وہی کائنات کا خالق، مالک اور مدبر ہے، لہٰذا اقتدارِ اعلیٰ بھی اسی کا حق ہے۔ اسی بنا پر اسلامی حکومت اور قیادت بھی اللہ تعالیٰ کی مرضی اور مقرر کردہ اصولوں کے تابع ہونی چاہیے۔ اس اعتبار سے قیادت کا مسئلہ محض سیاسی نہیں بلکہ ایک اعتقادی اور دینی مسئلہ بھی ہے۔
رہبرِ معظم فرماتے ہیں کہ کسی بھی معاشرے کی داخلی وحدت، خارجی آزادی اور دینی اقدار کے تحفظ کے لیے مضبوط اور صالح قیادت ناگزیر ہے۔ جب معاشرہ الٰہی رہبری سے محروم ہو جاتا ہے تو ذاتی مفادات، گروہی تعصبات اور ظالم قوتیں اس پر غالب آ جاتی ہیں، جس کے نتیجے میں اسلامی معاشرہ اپنی حقیقی روح کھو دیتا ہے۔
ولایت کی بنیاد
اسلامی نظریۂ ولایت کی اساس اس اصول پر قائم ہے کہ ولی وہی ہو سکتا ہے جو خدا کی طرف سے مقرر ہو یا جس میں وہ صفات موجود ہوں جو اللہ تعالیٰ نے قیادت کے لیے مقرر فرمائی ہیں۔
قرآنِ کریم میں ارشاد ہوتا ہے:"إِنَّمَا وَلِيُّكُمُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ وَالَّذِينَ آمَنُوا..."یعنی: تمہارا ولی صرف اللہ، اس کا رسول، اور وہ صاحبانِ ایمان ہیں جو نماز قائم کرتے ہیں، زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور حالتِ رکوع میں بھی راہِ خدا میں انفاق کرتے ہیں۔
یہ آیت واضح کرتی ہے کہ ولایت کی بنیاد خدا کی حاکمیت ہے۔ رسولِ اکرم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم اللہ تعالیٰ کے نمائندہ اور اسلامی معاشرے کے عملی رہبر تھے، اور آپؐ کے بعد یہ منصب ان ہستیوں کو حاصل ہوا جو الٰہی معیار پر پورا اترتی تھیں، جن کی کامل ترین مثال حضرت علی علیہ السلام ہیں۔
ولی کی صفات
رہبرِ معظم کے مطابق اسلامی معاشرے کے حقیقی ولی میں درج ذیل صفات کا ہونا ضروری ہے:
کامل ایمان: خدا، دین اور اسلامی اصولوں پر کامل یقین۔
اقامتِ صلوٰۃ: صرف نماز ادا کرنا نہیں بلکہ ایسا معاشرہ تشکیل دینا جس کی روح ذکرِ الٰہی ہو۔
عدلِ اجتماعی: زکوٰۃ، اقتصادی انصاف اور معاشرتی مساوات کا قیام۔
ایثار و قربانی: ذاتی مفادات کے بجائے امت کی خدمت اور رضائے الٰہی کو مقصد بنانا۔
عدل و شجاعت: ظلم کے مقابلے میں ثابت قدم رہنا اور انصاف پر مبنی نظام قائم کرنا۔
غلط قیادت کے نقصانات
رہبرِ معظم تاریخِ اسلام کی مثالوں سے واضح کرتے ہیں کہ جب قیادت نااہل، ظالم اور دنیا پرست حکمرانوں کے ہاتھ میں چلی گئی تو اسلامی معاشرہ شدید انحطاط کا شکار ہوا۔ بنو امیہ اور بنو عباس کے ادوار میں اسلامی اقدار کو نقصان پہنچایا گیا، مسلمانوں کے اجتماعی شعور کو کمزور کیا گیا اور ظلم و استبداد کو فروغ ملا۔
ان حکمرانوں نے دین کو اپنی حکومت کے تحفظ کا ذریعہ بنایا، جبکہ حقیقی ولایت کے اصولوں کو نظرانداز کر دیا۔ نتیجتاً امت فکری انحراف، بے حسی اور ظلم کا شکار ہوئی۔ رہبرِ معظم اس حقیقت کی طرف توجہ دلاتے ہیں کہ جب امت معیارِ ولایت کو فراموش کر دیتی ہے تو وہ باطل قوتوں کا آسان شکار بن جاتی ہے۔
اولی الامر کا مفہوم
قرآنِ مجید میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:"أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنكُمْ"
اس آیت میں "اولی الامر" سے مراد ہر حکمران نہیں، بلکہ وہ قیادت ہے جو الٰہی معیار پر پوری اترتی ہو اور خدا کی طرف سے مشروع ہو۔ شیعہ مکتبِ فکر کے مطابق اولی الامر وہ معصوم ہستیاں ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے امت کی رہبری کے لیے منتخب فرمایا۔
یہ تصور مسلمانوں کو یہ شعور دیتا ہے کہ اطاعت کا حق ہر صاحبِ اقتدار کو حاصل نہیں، بلکہ صرف اس قیادت کو ہے جو حق، عدل اور الٰہی اصولوں کی نمائندہ ہو۔
عصرِ حاضر میں ولایت کی اہمیت
رہبرِ معظم کی یہ تقریر صرف تاریخی یا نظری بحث نہیں بلکہ عصرِ حاضر کے لیے بھی ایک جامع پیغام رکھتی ہے۔ آج اگر اسلامی معاشرہ اپنی آزادی، وحدت اور عزت کا خواہاں ہے تو اسے ولایت کے حقیقی اصولوں کو اپنی اجتماعی زندگی میں نافذ کرنا ہوگا۔
ولایت کا عملی نظام مسلمانوں کو:
سیاسی استقلال عطا کرتا ہے۔
فکری وحدت پیدا کرتا ہے۔
ظالم اور استکباری قوتوں کے مقابلے میں استقامت بخشتا ہے۔
اسلامی اقدار کا تحفظ کرتا ہے۔
عدل و انصاف پر مبنی معاشرہ تشکیل دیتا ہے۔
نتیجہ
ولایت کا عملی قیام اسلامی معاشرتی اور سیاسی نظام کی بنیاد ہے۔ خداوندِ متعال کی حاکمیت، رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قیادت، ائمۂ معصومینؑ کی رہبری، اور عصرِ غیبت میں الٰہی معیار پر پورا اترنے والی صالح قیادت ہی امت کی عزت، استحکام اور کامیابی کی ضامن ہے۔
رہبرِ معظم کی یہ تقریر ہمیں یہ درس دیتی ہے کہ اسلامی معاشرہ اس وقت تک حقیقی معنوں میں اسلامی نہیں بن سکتا جب تک اس میں ولایتِ الٰہی کا عملی نفاذ نہ ہو۔ صحیح ولایت ہی امت کو ظلم، گمراہی، فکری انتشار اور استکباری تسلط سے محفوظ رکھ سکتی ہے۔
لہٰذا ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے کہ وہ ولایت کے حقیقی مفہوم کو سمجھے، اس کے معیار کو پہچانے، اور ایسے اسلامی نظام کے قیام کے لیے جدوجہد کرے جو رضائے الٰہی، عدلِ اجتماعی اور امتِ مسلمہ کی فلاح کا ضامن ہو۔ یہی اسلامی بیداری، استحکام اور حقیقی کامیابی کا راستہ ہے۔









آپ کا تبصرہ