یادداشت: گلفام حسین جامعۃالمصطفیٰ کراچی
حوزہ نیوز ایجنسی|
مقدمہ
رہبرِ انقلاب اسلامی کے افکار پوری امتِ مسلمہ کے لیے بصیرت، وحدت، خودداری، علمی بیداری اور عملی جدوجہد کا روشن پیغام ہیں۔ آپ نے ہمیشہ اسلامی اقتدار، علمی ترقی، ظلم و استکبار کے خلاف مزاحمت، نوجوانوں کی فکری و اخلاقی تربیت، اور اسلامی معاشرے میں عدل و معنویت کے فروغ پر زور دیا۔ آپ کے نزدیک حقیقی کامیابی قرآنِ کریم اور اہلِ بیتؑ کی تعلیمات سے تمسک، استقامت اور خود اعتمادی میں مضمر ہے۔
میری نظر میں رہبرِ انقلاب صرف ایک دینی طالب علم، آیت اللہ یا مجتہد نہیں تھے، بلکہ وہ علم، عمل، بصیرت اور جدوجہد کا ایسا رواں دریا تھے جو شب و روز امت کی فکری و روحانی آبیاری کے لیے جاری رہا۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی اسلام، انسانیت اور مظلوموں کی خدمت میں وقف کر دی۔ اگرچہ دنیا نے ان کے افکار سے پوری طرح استفادہ نہیں کیا، لیکن ان کی فکر آج بھی اہلِ حق کے لیے مشعلِ راہ ہے۔
رہبرِ انقلاب ہمیشہ نوجوانوں کو علم، مطالعے اور میڈیا کی اہمیت سے آگاہ کرتے رہے۔ آپ کی نصیحت تھی کہ نوجوان مطالعے کی عادت اپنائیں، گہرائی اور باریک بینی سے مسائل کا تجزیہ کریں، اور جدید ذرائع ابلاغ میں مؤثر کردار ادا کریں تاکہ اسلامی فکر اور حق کا پیغام دنیا تک پہنچایا جا سکے۔ خود آپ بھی بے شمار سیاسی، سماجی اور انتظامی مصروفیات کے باوجود مسلسل مطالعہ کرتے تھے۔ دینی علوم کے ساتھ ساتھ تاریخ، ادب، ناول اور دیگر علمی موضوعات کا بھی نہایت غور و فکر سے مطالعہ فرماتے تھے۔
رہبرِ انقلاب کی علمی وسعت، فکری گہرائی اور غیر معمولی بصیرت نے انہیں عالمِ اسلام کی ایک ممتاز شخصیت بنا دیا۔ ان کی تقاریر، تحریریں اور عملی زندگی اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ کسی بھی قوم کی حقیقی طاقت علم، خود اعتمادی، استقامت اور مضبوط نظریاتی بنیادوں میں پوشیدہ ہوتی ہے، نہ کہ صرف مادی وسائل میں۔
رہبرِ انقلاب کی پوری زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ علم حاصل کرنا، مسلسل مطالعہ کرنا، اہلِ علم سے استفادہ کرنا، زمانے کے تقاضوں کو سمجھنا اور میڈیا کے میدان میں مؤثر کردار ادا کرنا ہماری اہم ذمہ داری ہے۔ جب نوجوان علم، بصیرت اور اخلاص سے آراستہ ہوں گے تو وہ ہر دور کے ظلم، استکبار اور ناانصافی کے مقابلے میں حق و عدالت کا پرچم بلند کرنے کے قابل ہوں گے۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم رہبرِ انقلاب کے افکار کو صرف خراجِ عقیدت پیش کرنے تک محدود نہ رکھیں، بلکہ انہیں اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی کا حصہ بنائیں۔ یہی ان کے لیے بہترین خراجِ تحسین اور امتِ مسلمہ کے روشن مستقبل کی ضمانت ہے۔









آپ کا تبصرہ