حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مرحوم امامؒ نے اپنی ایک تصنیف میں الٰہی معارف، نورِ الٰہی میں داخل ہونے اور شیطانی تاریکی سے نکلنے کے طریقے پر روشنی ڈالی ہے۔ ذیل میں اس فکر انگیز بحث کا منتخب اور خلاصہ شدہ ترجمہ اہلِ فکر کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے:
جان لو کہ الٰہی معارف اور حق عقائد پر حقیقی ایمان اس وقت تک حاصل نہیں ہوتا جب تک انسان پہلے مرحلے میں ان حقائق کو تفکر، عقلی مشقت، الٰہی نشانیوں اور واضح عقلی دلائل کے ذریعے نہ سمجھے۔ یہ مرحلہ دراصل ایمان کی تمہید اور مقدمہ ہے۔
لیکن جب عقل اپنا حصہ حاصل کر لے تو صرف اسی پر اکتفا نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ اس سطح کے معارف کا اثر بہت محدود ہوتا ہے اور اس سے حاصل ہونے والی نورانیت بھی نہایت کم ہوتی ہے۔
اس کے بعد سالکِ الیٰ اللہ کے لیے ضروری ہے کہ وہ قلبی ریاضت اختیار کرے اور ہر ممکن طریقے سے ان حقائق کو دل تک پہنچانے کی کوشش کرے، یہاں تک کہ دل ان معارف پر ایمان لے آئے اور ان سے مانوس ہو جائے۔
ایمان درحقیقت دل کا حصہ ہے، جو شدید تذکر، گہرے تفکر، اللہ سے انس اور خلوت کے ذریعے حاصل ہوتا ہے۔
اگر ہم چاہتے ہیں کہ شیطان کے تسلط سے نکل کر اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آ جائیں، تو ہمیں قلبی مجاہدہ، مسلسل اور گہری توجہ، کثرتِ ذکر، حق سے مضبوط تعلق اور خلوت کو اختیار کرنا ہوگا، تاکہ ایمانی حقائق دل میں اتر جائیں اور دل الٰہی بن جائے۔
اور جب دل الٰہی ہو جاتا ہے تو وہ شیطان کے تصرف سے پاک ہو جاتا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
“اللہ ایمان والوں کا ولی ہے، وہ انہیں تاریکیوں سے نکال کر نور کی طرف لے جاتا ہے۔”
ماخذ:
شرحِ حدیثِ جنودِ عقل و جہل، ص 89
آدابُ الصلاۃ، ص 226









آپ کا تبصرہ