۲ آبان ۱۴۰۰ |۱۷ ربیع‌الاول ۱۴۴۳ | Oct 24, 2021
News Code: 370121
5 جولائی 2021 - 22:13
ایک شام خاک یوسف پوری کے نام

حوزہ/ خلیل احمد خاک يوسفوری کی  یاد میں مشاعرے کا انعقاد۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،مرحوم خاک یوسف پوری شاعری کے میدان کے مجاہد تھے ساتھ ساتھ افسانہ نویسی، مضمون نگاری کا بھی ہنر رکھتے تھے مرحوم کے حوالہ سے خاص بات یہ ہے کہ مرحوم خاک صاحب کے مراثی اور نوحے کثرت سے ملتے ہیں اور ان کے مرثیوں میں امام حسین کی مظلومی کا ذکر کچھ یوں ہے کہ ہر پڑھنے والے کی آنکھیں نم ہو جائیں۔

ایک شام خاک یوسف پوری کے نام

مرحوم خاک یوسف پوری کی یاد میں گزشتہ شب 3 جولائی بروز اتوار نوشاد انصاری کی رہائشگاہ پر ایک خوبصورت محفل سجی جسمیں دیار کے تمام معتبر شعراء اور ذی ہوش سامعین نے خوش دلی سے شرکت کیا اس مشاعرے کی نظامت کے فرائض کو جناب ارشاد خلیلی صاحب نے انجام دیا جب کہ صدارت محمد حسین عرف ایم ڈی بھائی کی رہی اور مہمان خاص جناب شاداب قادری صاحب نے بھی شرکت کی 
 نشست کا آغاز نعت رسول سے ہوا اسکے بعد مختلف شعراۓ کرام نے اپنا اپنا کلام پیش کیا۔

اشعار؛

غم ہے اتنا میرے فسانے میں
درد ہوگا بہت سنانے میں

 چنچل یوسفوری
 
ہمیں پتہ ہے وہ ہیرے کی طرح تھا لیکن
ہماری ساتھ میں وہ خاک بن کے رہتا تھا

دانش غازیپوری

تو بادشاہ ہے تو کیا تیرا احترام کروں
یہ تیرا گھر ہے کوئی دیر ہے حرم ہے کیا

کلیم يوسفوري

تیری رسوائیوں کا اس قدر احساس رکھتے ہیں
تیری تصویر ٹکڑے ٹکڑے کرکے پاس رکھتے ہیں

سیفی سلیمپوری

نیند آنکھوں سے مخاطب ہے چلو سو جائیں
وقت سونے کا مناسب ہے چلو سو جائیں

آسی یوسف پوری

سب سے پہلے یاد آتا ہے خدا
اور اسکے بعد میرا شوق ہے

سمن یوسف پوری

پانو نکلے ہوئے چادر سے جنکے ہوتے ہیں
وہ اپنی راہ میں کانٹیں ہی كانٹیں بوتے ہیں

سرور

چل رہا ہے یہ زمانہ نفرتوں تفریق پر
اے محبّت بات آ پہنچی تیری تصدیق پر

ارشاد جناب خلیلی

تم بھی کوشش کرو ہم بھی کوشش کریں
بات بن جائے آپس کی بگڑی ہوئی

دانش البیلا

دریا پہ اب کسی کا بھی پہرا نہیں رہا
ظاہر ہے کوئی شہر میں پیاسا نہیں رہا

عاقب سلیم پوری

دیکھو تو میرے یار کی نازک مزاجیاں
دل کی سنے بغیر ہی نمناک ہو گئے

ظفر اسلم

وہ اور ہونگے جو محتاج ہیں تعارف کے 
ہمیں زمانے کی شہرت سلام کرتی ہے

احکم غازی پوری 

میری آنکھوں میں ہے بادل کا ٹکڑا
تیری آنکھوں میں چھانا چاہتا ہوں 

وکیل اکرم

مشاعرہ کا اختتام صدر محترم کے دعائیہ کلمات پر ہوا ۔

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
6 + 6 =