حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مدرسہ جعفریہ تاراگڑھ اجمیر ہندوستان میں امام جمعہ مولانا سید نقی مہدی زیدی کے توسط سے درس ہفتگی بعنوان" آشنائی با مہدویت" کا سلسلہ جاری ہے۔
حجۃ الاسلام مولانا نقی مھدی زیدی نے کہا کہ: امام زمانہ عج کی توجہ حاصل کرنے اور امام کی قربت کا ایک ذریعہ امام علیہ السلام پر صلوات بھیجنا ہے صلوات ایک قسم کی دعا ہے جب یہ قبول ہوتی ہے تو اللہ کی طرف سے تازہ لطف امام علیہ السلام کو حاصل ہوتا ہے، صلوات وہ دعا ہے جو یقیناً قبول ہوتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ: حدیثوں میں وارد ہوا ہے کہ جو شخص پیغمبر اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایک بار صلوات بھیجتا ہے تو خداوند عالم ایک فرشتے کو بھیجتا ہے جو پلک جھپکنے سے پہلے اس صلوات کو مدینہ حرم پیغمبر صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم لے جاتا ہے اور وہاں کھڑا رہتا ہے اور کہتا ہے یا رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم فلاں ابن فلاں یا فلاں بنت فلاں نے صلوات بھیجی ہے پیغمبر اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم جواب میں فرماتے ہیں میرا دس درود اس تک پہنچا دو اگر پیغمبر اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی کے لئے صلوات بھیجیں تو اس کا کیا مقام اور مرتبہ ہوگا سوائے اللہ کے کوئی نہیں جانتا۔
امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام سے ایک حدیث وارد ہوئی ہے جس میں آپ نے فرمایا جو شخص پیغمبر اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایک بار صلوات بھیجتا ہے اللہ اس پر دس بار صلوات بھیجتا ہے اور ہر صلوات کے عوض اللہ دس نیکیاں اسے عطا کرتا ہے۔
امام جمعہ تاراگڑھ حجۃالاسلام مولانا نقی مھدی زیدی نے بیان کیا کہ: خداوند عالم قرآن مجید کے سورہ بقرہ آیت نمبر 47 میں ارشاد فرماتا ہے: "وَ اِذۡ نَجَّیۡنٰکُمۡ مِّنۡ اٰلِ فِرۡعَوۡنَ یَسُوۡمُوۡنَکُمۡ سُوۡٓءَ الۡعَذَابِ یُذَبِّحُوۡنَ اَبۡنَآءَکُمۡ وَ یَسۡتَحۡیُوۡنَ نِسَآءَکُمۡ وَ فِیۡ ذٰلِکُمۡ بَلَآ ءٌ مِّنۡ رَّبِّکُمۡ عَظِیۡمٌ"، اے بنی اسرائیل اس وقت کو یاد کرو جب ہم نے تمہیں فرعون کے عذاب سے نجات عطا کی جو تمہاری اولاد کو قتل کرتا تھا اور تمہاری عورتوں کو زندہ رکھتا تھا اور یہ کام اللہ کی طرف سے تمہارے لئے بڑا امتحان تھا۔
فرعون کی طرف سے بنی اسرائیل کی قوم کو جو عذاب دیا جاتا تھا ان میں سے ایک یہ بھی تھا کہ ان کو بلڈنگ میں لے جایا جاتا تھا اور بھاگنے سے روکنے کے لئے ان کے پیروں کو باندھ دیا جاتا تھا اور ان سے کہا جاتا تھا کہ وہ گارا مٹی اٹھاؤ اور سیڑھی سے اوپر لے جاؤ اور چونکہ وہ اپنے پیروں کو آسانی سے آگے نہیں بڑھا سکتے تھے اس لئے ان میں سے بعض نیچے گر کر مر جاتے تھے اور بعض اپاہج بن جاتے تھے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے جناب موسیٰ کو وحی فرمائی کہ اے موسیٰ بنی اسرائیل سے کہو کہ کام شروع کرنے سے پہلے محمد و آل محمد پر صلوات بھیجیں تاکہ اس سے ان کا کام آسان ہو جائے، ان لوگوں نے جناب موسیٰ علیہ السلام کے مطابق کام شروع کیا اور ان کا کام آسان ہو گیا اور جو لوگ یہ کام کرنا بھول گئے تھے وہ اوپر سے نیچے گر کر اپاہج بن جاتے تھے، جناب موسیٰ نے حکم دیا کہ صلوات بھیجیں اور اگر خود نہیں بھیج سکتے تو کوئی دوسرا ان کے لئے صلوات بھیجے اس کام کو کرنے کے بعد وہ سب شفا پا گئے۔
ایک دوسرے مصیبت جو فرعون نے بنی اسرائیل کی قوم پر ڈال دی تھی وہ یہ تھی کہ ان کے بیٹوں کو قتل کرا دیتا تھا اور حقیقت میں اس کام سے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو قتل کرانا چاہتا تھا وہ عورتیں جو حاملہ ہوتی تھیں اور ان کے یہاں بچوں کی پیدائش ہوتی تھی وہ اپنے بچوں کو جنگلوں میں پہاڑوں گڑھوں اور غاروں میں چھپا دیتے تھے اور 10 صلوات پیغمبر اور آل پیغمبر علیہم السلام پر بھیجتے تھے خداوندعالم ایک فرشتے کو بھیجتا تھا اور وہ فرشتہ ان کے بچوں کی پرورش کرتا تھا اس فرشتے کی انگلی سے دودھ جاری ہوتا تھا جس کو وہ بچہ چوستا تھا اور دوسری انگلی سے بچوں کے مطابق غذا نکلتی تھی۔
استاد کلاس مولانا نقی مھدی زیدی نے مزید صلوات کا مطلب اور آثار و برکات صلوات بیان کرتے ہوئے کہا کہ: صلوات یعنی پیغمبرِ اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ان کی آلِ پاک پر درود بھیجنا۔
صلوات؛ اللہ تعالیٰ کی طرف سے انسان کے لیے بہترین ہدیہ ہے، صلوات؛ جنت کا ایک تحفہ ہے، صلوات؛ روح کو جِلا بخشتی ہے، صلوات؛ ایک ایسی خوشبو ہے جو انسان کے منہ کو معطر کر دیتی ہے، صلوات؛ جنت کا نور ہے، صلوات؛ پلِ صراط کا نور ہے، صلوات؛ انسان کی شفاعت کرنے والی ہے، صلوات؛ ذکرِ الٰہی ہے، صلوات؛ نماز کو منزل کمال تک پہنچاتی ہے، صلوات؛ دعا کے کمال اور اس کی قبولیت کا ذریعہ ہے، صلوات؛ انسان کو خدا کے قریب کرتی ہے، صلوات؛ جہنم کی آگ کے مقابلے میں ڈھال ہے، صلوات؛ عالمِ برزخ اور قیامت میں انسان کی مونس و رفیق ہے، صلوات؛ جنت میں داخلے کا پروانہ ہے، صلوات؛ اللہ کی طرف سے رحمت ہے فرشتوں کی طرف سے گناہوں کی پاکیزگی اور لوگوں کی طرف سے دعا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ: صلوات؛ قیامت کے دن سب سے افضل عمل ہے، صلوات؛ وہ سب سے بھاری چیز ہے جو میزانِ اعمال میں رکھی جائے گی، صلوات؛ سب سے محبوب عمل ہے، صلوات؛ جہنم کی آگ کو بجھا دیتی ہے، صلوات؛ نماز کی زینت ہے، صلوات؛ گناہوں کو مٹا دیتی ہے۔
حجۃ الاسلام مولانا نقی مھدی زیدی نے آخر کلاس میں کہا کہ: کتنا اچھا ہے کہ انسان ہمیشہ صلوات پڑھنے والا ہو،کیونکہ رسولِ خدا صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی ہمیشہ صلوات میں مشغول رہتے تھے، کتنا بہتر ہے کہ انسان کی زبان ہمیشہ ذکرِ صلوات سے تر رہے۔









آپ کا تبصرہ