جمعرات 18 جون 2026 - 02:20
عقیدۂ امامت، عقیدۂ توحید و نبوت کا تکملہ ہے، قیامت میں ہر انسان اپنے امام کے ساتھ بلایا جائے گا: علامہ شہنشاہ حسین نقوی

حوزہ/ کراچی کے نشتر پارک میں عشرۂ محرم الحرام کی پہلی مرکزی مجلسِ عزا سے خطاب کرتے ہوئے علامہ سید شہنشاہ حسین نقوی نے کہا کہ عقیدۂ امامت، عقیدۂ توحید و نبوت کا تکملہ ہے اور قیامت کے دن ہر انسان اپنے امام کے ساتھ محشور ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ کربلا ایک آفاقی تحریک ہے جو رہتی دنیا تک انسانیت کو حق، عدل اور حریت کا درس دیتی رہے گی۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، کراچی/ پاک محرم ایسوسی ایشن رجسٹرڈ کے زیر اہتمام نشتر پارک کراچی میں عشرۂ محرم الحرام کی مرکزی پہلی مجلسِ عزا منعقد ہوئی، جس سے خطاب کرتے ہوئے خطیبِ پاکستان علامہ سید شہنشاہ حسین نقوی نے کہا کہ عقیدۂ امامت، عقیدۂ توحید اور عقیدۂ نبوت کا تکملہ ہے، کیونکہ قرآنِ کریم کی رو سے امامت اللہ تعالیٰ کی جانب سے عطا کردہ منصب ہے۔ امامت نہ صرف انسان کی فکری اور شعوری تربیت کا ذریعہ ہے بلکہ ایک صالح معاشرے کی تشکیل اور انسانیت کی رہنمائی و حفاظت کا بھی ضامن ہے۔

انہوں نے سورۂ اسراء کی آیات 71 اور 72 کو سرنامۂ کلام قرار دیتے ہوئے کہا کہ قرآن کریم واضح طور پر اعلان کرتا ہے کہ قیامت کے دن ہر انسان کو اس کے امام کے ساتھ بلایا جائے گا۔ اس سے امامت کی اہمیت اور انسان کی نجات میں اس کے بنیادی کردار کا اندازہ ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قرآن کریم میں عقیدۂ توحید، نبوت اور امامت سے متعلق متعدد آیات موجود ہیں جو حق کے متلاشی افراد کی رہنمائی کرتی ہیں۔

علامہ شہنشاہ حسین نقوی نے کہا کہ جس طرح رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تمام جن و انس کے لیے رسول بنا کر بھیجے گئے، اسی طرح حضرت علی علیہ السلام سے لے کر امام مہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف تک تمام ائمۂ اہل بیتؑ پوری انسانیت اور تمام جن و انس کے امام ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح رسول اکرمؐ کے وجودِ مبارک سے تمام مخلوقات فیضیاب ہوئیں، اسی طرح ائمۂ اہل بیتؑ کے فیوض و برکات رہتی دنیا تک جاری رہیں گے۔

انہوں نے واقعۂ کربلا کی عالمگیر اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ کربلا ایک آفاقی اور ابدی تحریک ہے، جو ہر دور میں انسانیت کو حق، عدل اور آزادی کا درس دیتی ہے۔ اگر انسان باعزت اور بامقصد زندگی گزارنا چاہتا ہے تو اسے ان شخصیات سے وابستہ ہونا ہوگا جو کبھی نہیں مرتیں۔ پاکستان سمیت پوری دنیا میں امام حسینؑ کی یاد میں منعقد ہونے والے عظیم اجتماعات اس حقیقت کا واضح ثبوت ہیں کہ کربلا کا پیغام آج بھی زندہ اور مؤثر ہے۔

عقیدۂ امامت، عقیدۂ توحید و نبوت کا تکملہ ہے، قیامت میں ہر انسان اپنے امام کے ساتھ بلایا جائے گا: علامہ شہنشاہ حسین نقوی

انہوں نے علامہ اقبالؒ کا شعر پڑھتے ہوئے کہا:

"حقیقت ابدی ہے مقامِ شبیریؑ

بدلتے رہتے ہیں اندازِ کوفی و شامی"

علامہ نقوی نے کہا کہ کربلا اعلیٰ انسانی اقدار، عدل، حریت اور دینِ اسلام کی بقا کا مرکز ہے۔ محرم الحرام کا آغاز ہمیں اس بات کی یاد دلاتا ہے کہ ہم امام حسینؑ کے غم اور ان کے عظیم مشن سے وابستہ ہو کر دینِ اسلام کی تقویت اور معاشرے کی اصلاح کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔

مجلس کے اختتام پر انہوں نے حضرت امام حسینؑ اور شہدائے کربلا کے مصائب بیان کیے، جس پر حاضرینِ مجلس آبدیدہ ہوگئے۔ بعد ازاں نوحہ خوانی اور عزاداری کا سلسلہ جاری رہا اور مجلس رقت آمیز ماحول میں اختتام پذیر ہوئی۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha