۶ مهر ۱۴۰۰ |۲۰ صفر ۱۴۴۳ | Sep 28, 2021
News Code: 370746
24 جولائی 2021 - 22:30
ذیشان

حوزہ/ یوں تو ہر بچھڑنے والے کا غم ہوتا ہے لیکن اگر دنیا سے جانے والا علم و ہنر سے آراستہ ہو تو اس کا غم بھلائے نہیں بھولتا، اسی قسم سے ایک عظیم شخصیت تھے مولانا ذیشان حیدر نقوی صاحب قبلہ مرحوم طاب ثراہ۔

تأثرات: مولانا سید غافر رضوی فلکؔ چھولسی

حوزہ نیوز ایجنسیعالم باعمل، مخلص دین و شریعت، منکسرالمزاج، بااخلاق شخصیت کے حامل الحاج مولانا سید ذیشان حیدر نقوی ابن سید ضرغام حسین نقوی  مرحوم کا تعلق موضع عثمانپور ضلع امروہہ سے تھا۔
ذیشان بھائی کی ولادت 1967عیسوی میں عثمانپور کے ایک دینی گھرانہ میں ہوئی اور ابتدائی تعلیم نیز آپ کی پرورش اپنے دینی گھرانہ میں ہی ہوئی جس کا اثر وقت وفات تک خود مولانا میں اور بعد وفات ان کی اولاد میں دیکھا جاسکتا ہے۔
یوں تو ہر بچھڑنے والے کا غم ہوتا ہے لیکن اگر دنیا سے جانے والا علم و ہنر سے آراستہ ہو تو اس کا غم بھلائے نہیں بھولتا، اسی قسم سے ایک عظیم شخصیت تھے مولانا ذیشان حیدر نقوی صاحب قبلہ مرحوم طاب ثراہ۔
مولانا کی وفات سے ہم صنف افراد کے دلوں کو کافی صدمہ پہنچا، چہ جائیکہ ان کے اہل خانوادہ، زوجہ، بیٹیاں، بیٹے، داماد، بھائی، بہنیں، بھانجی بھانجے، بھتیجے، بھتیجیاں، پھوپھیاں وغیرہ قریبی اعزاء و اقارب… ان کے دلوں کی کیفیت کا اندازہ لگانا نہایت دشوار ہے۔
مولانا مرحوم چندروز علیل رہے اور اس کے بعد دہلی کے لال بہادرشاستری نامی اسپتال میں 13/ذیقعدہ 1442ہجری بمطابق 25/جون سن2021عیسوی بروز جمعہ بوقت صبح داعی اجل کو لبیک کہا۔
میرے دل کو مولانا کی وفات پرملال کا بہت زیادہ صدمہ ہوا جو میرے اظہار غم سے محسوس کیا جاسکتا ہے، میں نے مولانا کے چہلم کی مناسبت سے منظوم تعزیت نامہ بھی تحریر کیا ہے جو نذر قارئین کیا جارہا ہے۔ مؤمنین سے التماس ہے کہ مولانا مرحوم کے لئے سورہ فاتحہ کی تلاوت کرکے دعائے مغفرت میں یاد رکھیں۔ "انّا للہ وَ اِنَّا اِلَیہِ رَاجِعُونَ"

آہ …ذیشان بھائی

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
4 + 2 =