حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، سربراہ جامعہ حیدریہ مدینۃ العلوم خیرآباد ضلع مؤ و مولانا ناظم علی واعظ خیرآبادی و جملہ اساتذہ و تلامذہ نے فرزند ظفر الملت حجۃ الاسلام والمسلمین مولانا سید ولی الحسن رضوی مرحوم کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے پسماندگان و وابستگان کی خدمت میں تعزیت پیش کی۔ جسکا مکمل متن اس طرح ہے۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم
آہ حجۃ الاسلام والمسلمین مولانا سید ولی الحسن صاحب نے روز عید فطر داعی اجل کو لبیک کہا علم و حکمت ،تواضع وانکساری، شفقت ومروت کا منارہ.اسلاف واساطین دین ودیانت کی تہذیب وتربیت کا اسوہ.اجداد کی سیرت واخلاق حسنہ کا نمونہ.اخلاص ومحبت کا مجسمہ.بہترین صاحب قلم.مقتدر خطیب.نقد وتنقید کی شاہراہ کاماہر راہنما.حکمت ومعارف الہی سے پُر اشعار کا خالق.میدان ادارت کا بیباک وبا بصیرت مدیر.حفظ مراتب کا بھرپور خیال کرتے ہوئے نپے تلے کلمات سے طلاب حوزہ قم کی علمی تحقیقی راہنمائی کا فریضہ انجام دینے والا مخلص ودلسوز ماہ ضیافت الہی کے اختتام پر اجر الہی کے حصول کی خاطر بارگاہ ایزدی کی طرف کوچ کرگیا. خدایا رحم فرما۔ آج کے دور میں جب ہر چہار جانب دین کے نام پر بےدینی پھیلانے والے خطباء، شعراء و ارباب قلم کی بھیڑ ہے ہرطرف سستی شہرت کے رسیا مال و منال کی خاطر کچھ بھی کہنے بولنے اور لکھنے سے دریغ نہیں کررہے ہیں ایسے میں باعمل خطباء معتبر صاحبان قلم متدین شعراء کاہمارے درمیان سے رخت سفر باندھ لینا نہ صرف اہل خانہ ووابستگان ومتعلقین بلکہ پوری ملت تشیع کا ایسا نقصان ہے جسکی تلافی ممکن نہیں ہے اس عظیم سانحہ پر اخلاف مرحوم بالاخص سرکار شمیم الملت مدظلہ العالی کی خدمت میں تعزیت پیش کرتے ہیں اور دعاگو ہیں پروردگار مرحوم کے درجات مزید بلند فرمائے۔
و السلام ناظم علی واعظ خیرآبادی و جملہ اساتذہ و تلامذہ
آپ کا تبصرہ