منگل 24 فروری 2026 - 01:15
رمضان المبارک کی برکات: مدرسہ جعفریہ تاراگڑھ میں تفسیر سورۂ رحمٰن اور خطبۂ شعبانیہ کی شرح

حوزہ/ مدرسہ جعفریہ تاراگڑھ اجمیر میں امام جمعہ مولانا نقی مہدی زیدی کے توسط سے درس تفسیر "تفسیر سورۂ رحمٰن اور شرح خطبۂ شعبانیہ" جاری ہے، جس میں ماہ رمضان کی فضیلت، اعمال کی قبولیت، دعا کی مستجابیّت اور خدا کی مہمانی کے طریقے تفصیل سے بیان کیے جا رہے ہیں۔ مولانا زیدی نے کہا کہ رمضان المبارک میں ہر عمل عبادت کا درجہ رکھتا ہے اور یہ مہینہ انسان کی روحانی ترقی اور برکت کا ذریعہ ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مدرسہ جعفریہ تاراگڑھ اجمیر میں امام جمعہ مولانا نقی مہدی زیدی صاحب کے توسط سے درس تفسیر بعنوانِ "تفسیرِ سورہ رحمٰن اور شرحِ خطبۂ شعبانیہ" کا سلسلہ جاری ہے۔

حجۃ الاسلام مولانا نقی مھدی زیدی نے کہا کہ پیغمبر اکرم صلیٰ اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم نے خطبۂ شعبانیہ میں اسی جانب اشارہ کیا ہے کہ "هُوَ شَهْرٌ دُعیتُمْ فیهِ إِلَی ضِیافَةِ اللَّهِ وَ جُعِلْتُمْ فِیهِ مِنْ أَهْلِ کرَامَةِ اللَّهِ أَنْفَاسُکمْ فِیهِ تَسْبِیحٌ وَ نَوْمُکمْ فِیهِ عِبَادَةٌ وَ عَمَلُکمْ فیهِ مقْبُولٌ وَ دُعاؤُکمْ فِیهِ مُسْتَجَابٌ"، اس مہینے میں مؤمنین کو خدا کی مہمانی کی دعوت دی گئی ہے اور انہیں کرامت الٰہی کا اہل قرار دیا گیا ہے۔ دعیتم فیہ الیٰ ضیافۃ اللہ و جعلتم فیہ من اھل کرامۃ اللہ، یہ ماہ رمضان المبارک کی سب سے برتر اور بالاتر فضیلت ہے اس لیے کہ ایک کریم صاحب خانہ اپنے مہمانوں کی بطور احسن مہمان نوازی کرتا ہے اور اس کی حاجتوں کو پورا کرتا ہے۔

رمضان المبارک کی برکات: مدرسہ جعفریہ تاراگڑھ میں تفسیر سورۂ رحمٰن اور خطبۂ شعبانیہ کی شرح

امام جمعہ تاراگڑھ نے مزید کہا کہ نبی اکرم صلیٰ اللّہ علیہ وآلہ وسلّم نے اس بے نظیر مہمان نوازی کے بعض جلووں کو اس طرح بیان فرمایا ہے:

1- ماہ رمضان میں انسان کی اطاعت و عبادت کے علاوہ اس کے روز مرہ کے غیر اختیاری امور کو بھی عبادت کا درجہ دیا جاتا ہے اور ان پر ثواب لکھا جاتا ہے۔ اس مبارک مہینے میں مؤمنین کی سانسوں کو تسبیح اور نیند کو عبادت کا ثواب دیا جاتا ہے: "انفاسکم فیہ تسبیح و نومکم فیہ عبادۃ"۔

2- نیک اعمال اسی وقت انسان کے معنوی ترقی کا باعث بن سکتے ہیں کہ جب وہ بارگار خداوندی میں قبول کر لیے جائیں، لیکن بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ اعمال مختلف آفتوں کی بناء پر شرف قبولیت سے محروم رہ جاتے ہیں، مگر یہ کہ فضل و کرم پروردگار ان کی قبولیت کا باعث بن جائے۔ لیکن ماہ رمضان میں یہ فضل و کرم مؤمنین کے شامل حال ہوتا ہے اور ان کے اعمال مقبول بارگاہ الٰہی قرار پاتے ہیں: "وعملکم فیہ مقبول"۔

3-ماہ رمضان میں خداوند اپنے مہمانوں کی حاجتوں کو بر لاتا ہے اور ان کی دعاؤں کو مستجاب کرتا ہے : "دعائکم فیہ مستجاب"۔

4- پروردگار نے ہر نیک عمل کے لیے ایک خاص مقدار میں ثواب معین کر رکھا ہے، لیکن ماہ رمضان میں یہ ثواب کئی گنا ہو جاتے ہیں۔ نبی اکرم (ص) فرماتے ہیں: جو شخص اس مہینے میں کسی مؤمن روزہ دار کو افطاری دے گا، پروردگار اسے ایک غلام آزاد کرنے کا ثواب دے گا اور اس کے گذشتہ گناہ معاف کر دے گا۔ جو شخص اس مہینہ میں ایک واجبی نماز ادا کرے گا خداوند اسے ستر (70) واجب نمازوں کا ثواب عطا فرمائے گا اور جو شخص ایک آیت قرآن کی تلاوت کرے گا، تو اسے ایک قرآن ختم کرنے کا ثواب دے گا۔
5- ماہ رمضان میں جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کر دیئے جاتے ہیں اور شیاطین کو زنجیروں میں جکڑ دیا جاتا ہے۔

حجۃ الاسلام مولانا نقی مہدی زیدی نے مزید خطبۂ شعبانیہ کی شرح و تفسیر کرتے ہوئے کہا کہ: اللہ دو مرتبہ اپنے بندے کو مہمان بناتا ہے ایک حج کے موقع پر دوسرا ماہ رمضان میں ہم حج پر جانے کی دعا تو کرتے ہیں پر ماہ رمضان کو لبیک نہیں کہتے ہیں، جبکہ حج جانے کے شرائط ہیں مکہ تک کے سفر کی صعوبتیں ہیں، لیکن ماہ مبارک رمضان المبارک میں بندہ اپنے گھر میں رہتے ہوئے خدا کا مہمان ہوتا ہے اور وہ بھی پورے مہینے، پس ہمیں چاہیے خود کو خدا کی مہمانی کے لئے تیار کریں بلاشبہ پورے سال میں کوئی مہینہ، ماہِ رمضان جیسا بابرکت نہیں ہے، یہ خدا کی ضیافت اور مہمان نوازی کا مہینہ ہے جس میں بندے اپنے پروردگار کے مہمان بنتے ہیں، مہمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ مہمانی کے اعتبار سے خود کو آراستہ کرے، صاف ستھرا اور مناسب لباس زیبِ تن کرے، اس مبارک مہینے میں پروردگار کی طرف سے بہترین میزبانی اور مہمان نوازی کے اسباب مہیا کر دیئے گئے ہیں؛ مثلا: خدا کی رحمت کا دروازہ کھوے دئیے گئے ہیں،جہنم کے دروازے بند کر دیئے گئے ہیں، شیطان کو جھکڑ دیا گیا ہے، مہمانوں کا سانس لینا تسبیح اور سونا عبادت بنا دیا گیا ہے، نیکیاں سمیٹنے کے تمام اسباب فراہم کر دیئے گئے ہیں، مہمانوں کے لیے قرآن جیسی عظیم کتابِ ہدایت کا تحفہ بھی آمادہ ہے، شبِ قدر جیسا نفیس تحفہ بھی تیار ہے۔
البتہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اپنے آپ کو خدا کی مہمانی کے اس مہینے میں جانے کے لیے تیار کریں۔

انہوں نے رمضان المبارک کی اہمیت اور انسان کی زندگی میں اس مقدس مہینے کے اثرات و برکات کے سلسلے میں امام جعفر صادق علیہ السلام کی ایک روایت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ: سید ابن طاؤس علیہ الرحمہ نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے نقل کیا ہے کہ امامؑ نے فرمایا: ماہ رمضان سے سال کا آغاز ہوتا ہے ، اگر رمضان اچھا گزرےگا تو پورا سال اچھا گزرے گا۔

استاد کلاس مولانا نقی مھدی زیدی نے مزید کہا کہ: کیوں امام علیہ السلام نے رمضان کو سال کا پہلا مہینہ قرار دیا ؟ جب کہ ہم سب جانتے ہیں کہ قمری سال کا پہلا مہینہ محرم ہے اور محرم سے سال کا آغاز ہوتا ہے! سید بن طاؤوس نے بڑے ہی خوبصورت انداز میں اس سوال کا جواب دیا ہے، وہ کہتے ہیں کہ سال کا آغاز مختلف لوگوں کے اعتبار سے الگ الگ ہے، عابدوں اور زاہدوں اور وہ افراد جو عبودیت کی راہ پر چلنا چاہتے ہیں ان کے سال کی شروعات رمضان المبارک سے ہوتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا : رمضان المبارک ان لوگوں کے لیے بہترین مہینہ ہے جو بندگی خدا کے لیے عظیم قدم اٹھانا چاہتے ہیں، صحیفہ سجادیہ میں استقبال ماہ رمضان کے سلسلے میں امام سجاد علیہ السلام کی ایک دعا موجود ہے، اور اسی طرح اس مہینے کے آخر میں "وداع ماہ رمضان" کے لئے عنوان سے بھی ایک دعا موجود ہے، جو شخص رمضان المبارک کا اچھے طریقے سے استقبال اور خیرمقدم کرے گا وہی شخص اس مہینے کو اچھے طریقے سے الوداع کہہ سکتا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha