ہفتہ 21 فروری 2026 - 20:32
ماہِ رمضان خود کو گناہوں سے پاک کرنے اور قربِ الٰہی حاصل کرنے کا بہترین موقع ہے، مولانا نقی مہدی زیدی

حوزہ/ تاراگڑھ اجمیر میں خطبۂ جمعہ کے دوران حجۃ الاسلام مولانا سید نقی مہدی زیدی نے ماہِ رمضان کی عظمت و فضیلت بیان کرتے ہوئے کہا کہ یہ مہینہ خودسازی، تقویٰ اور قربِ الٰہی حاصل کرنے کا بہترین موقع ہے، جس سے صحیح استفادہ کے لیے اس کے احکام و اعمال سے آگاہی ضروری ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حجت الاسلام مولانا سید نقی مہدی زیدی نے تاراگڑھ اجمیر ہندوستان میں نمازِ جمعہ کے خطبوں میں نمازیوں کو تقوائے الٰہی کی نصیحت کے بعد ماہ رمضان المبارک کے حوالے سے بیان کرتے ہوئے کہا کہ: ماہ رمضان المبارک اپنے آپ کو برائیوں اور گناہوں سے پاک کرنے، فضائل و کمالات سے آراستہ ہونے اور رب کریم سے قرب کا ایک بہترین اور مناسب موقع ہے، لیکن اس فرصت اور موقع سے صحیح اور مکمل استفادہ کرنا اسی وقت میسر ہے، جب انسان اس مہینہ کی عظمت و فضیلت ، اس کے احکام و اعمال واجبات و محرمات سے باخبر ہو۔

انہوں نے مزید کہا کہ: ماہ رمضان المبارک کی آشنائی حاصل کرنے کے لئے نبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وہ خطبہ ہے کہ جو خطبۂ شعبانیہ کے نام سے معروف ہے جس میں ان تمام چیزوں کو بطور احسن بیان کیا گیا ہے۔ اس خطبہ کو رسول اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ماہ شعبان کے آخری دنوں میں مسلمانوں کے سامنے ارشاد فرمایا ہے، اس خطبہ کے شروع میں رسول اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مؤمنین کو ماہ رمضان کی آمد کی خوشخبری دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: "ایھا الناس انہ قد اقبل الیکم شھر اللہ بالبرکۃ و الرحمۃ و المغفرۃ"، اے لوگو! ماہ خدا تمہاری طرف برکت، رحمت اور مغفرت کے ساتھ آرہا ہے۔

خطیب جمعہ تاراگڑھ حجۃالاسلام مولانا نقی مھدی زیدی نے کہا کہ: رسول خدا صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مزید ارشاد فرمایا: " شہر ھو عند اللہ افضل الشہور و ایامہ افضل الایام و لیالیہ افضل اللیالی و ساعاتہ افضل الساعات"، یہ مہینہ خدا کے نزدیک سب سے بہتر اور افضل مہینہ ہے، اس کے دن سب سے افضل دن، اس کی راتیں سب سے افضل راتیں اور اس کے اوقات و ساعات سب سے افضل اوقات و ساعات ہیں، اگرچہ سارے مہنیے خدا ہی کے مہینے ہیں لیکن چونکہ ماہ رمضان کو ایک خاص شرف و فضیلت حاصل ہے اور اس مہینہ میں خدا سے نزدیک ہونے اور عبودیت و اخلاص کے زیور سے آراستہ ہونے کے تمام تر مواقع فراہم ہوتے ہیں، اسی لئے روایات میں اس مہینے کو شہر اللہ کہا گیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ: اس کے بعد نبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک بہت اہم بات بیان فرمائی کہ اس مہینے میں مؤمنین کو خدا کی مہمانی کی دعوت دی گئی ہے اور انہیں کرامت الٰہی کا اہل قرار دیا گیا ہے: "دعیتم فیہ الیٰ ضیافۃ اللہ و جعلتم فیہ من اھل کرامۃ اللہ"،

انہوں نے مزید کہا کہ: اگر ہمیں دنیا کے کسی صاحب منصب اور کسی بڑی شخصیت کے یہاں مہمان بننے کا موقع مل جائے تو ہم کتنا خوش ہو جاتے ہیں، وہاں جانے کے لئے آمادگی کرتے ہیں اور شخصیت کے شایان شان تیاری کرتے ہیں، دنیا کے سارے لوگ اور ساری شخصیتیں چاہے جتنی ہی بڑی کیوں نہ ہوں خدا کے سامنے تو کچھ بھی نہیں ہیں، تو اگر ہمیں خدا کی مہمانی نصیب ہو رہی ہے تو کتنا خوش ہونا چاہئیے، وہ بھی ایک دو دن نہیں بلکہ پورے ایک مہینہ ہم خدا کے مہمان رہیں گے اور وہ میزبان، جب خدا میزبان ہو تو پھر ایسی مہمانی کا کیا کہنا، تو ہمیں بھی اسی کے اعتبار سے آمادگی کرنی چاہئیے۔

امام جمعہ تاراگڑھ حجۃالاسلام مولانا نقی مھدی زیدی نے کہا کہ: اس مبارک مہینہ کی عظمت اور فضیلت اسی بات سے لگائی جاسکتی ہے کہ امام محمد باقر علیہ السلام فرماتے ہیں: "لا تقولوا هذا رمضان، و لا ذهب رمضان و لا جاء رمضان، فان رمضان اسم من اسماء اللّٰه عز و جل لا یجییء و لا یذهب و انما یجیی‏ء و یذهب الزائل و لکن قولوا شهر رمضان"، یہ نہ کہا کرو کہ یہ رمضان ہے، اور رمضان گیا، اور رمضان آیا، اس لئے کہ رمضان، اللہ کے ناموں میں سے ایک نام ہے، اور اللہ کہیں آتا جاتا نہیں، زائل اور تمام ہونے والی چیز آتی جاتی ہے، لہذا ماہ رمضان کہا کرو"۔

حجۃ الاسلام مولانا نقی مھدی زیدی نے کہا کہ: اس مبارک مہینہ کا استقبال کرتے ہوئے امام زین العابدین علیہ السلام دعا میں فرماتے ہیں: ساری حمد اس اللہ کے لئے ہے جس نے ہمارے خیر کے راستوں میں سے ایک راستہ اپنے مہینہ کو قرار دیا ہے جو رمضان کا مہینہ ہے روزہ کا مہینہ ہے اور راتوں کو قیام کا مہینہ ہے جس میں اس نے قرآن کو نازل کیا ہے اور اسے لوگوں کے لئے ہدایت اور ہدایت کے ساتھ حق و باطل میں امتیاز کی کھلی نشانی قرار دیا ہے، اور اس کے بعد بہت زیادہ عزتوں اور مشہور فضیلتوں کے ذریعہ تمام مہینوں پر اس کی فضیلت کا اظہار کیا ہے اور اس کے احترام میں ان چیزوں کو بھی حرام قرار دیا ہے جو دوسرے مہینوں میں حلال تھیں اور اس کے اکرام میں کھانے پینے کو بھی ممنوع قرار دے دیا ہے، اور اس نے اس کے لئے ایک واضح وقت قرار دیا ہے جس سے نہ مقدم کرنے کی اجازت دی ہے اور نہ موخر کرنے پہ راضی ہے-

اس مہینہ کی ایک رات کو ہزار مہینوں کی راتوں سے افضل قرار دے دیا ہے اور اس کا نام شب قدر رکھ دیا ہے جس میں ملائکہ اور روح، خدا کے حکم سے سارے امور لے کر نازل ہوتے ہیں، اور یہ رات طلوع فجر تک سلامتی کا اور دوام برکت کا سبب رہتی ہے وہ اپنے جس بندے کے لئے برکت چاہے، اور جس طرح اس نے محکم فیصلہ کر دیا ہے-

خدایا محمد و آل محمد پر رحمت نازل فرما اور ہمیں اس کی فضیلت کی معرفت اور اس کی حرمت کی جلالت اور اس میں ان تمام امور کے سلسلہ سے الہام عطا فرما جن کو انجام سے منع کیا ہے، اور اس کے روزوں پر ہماری مدد فرما کہ ہم اپنے اعضاء کو تیری نا فرمانی سے روک سکیں اور ان اعمال میں لگا سکیں جو تجھے راضی کر سکیں تاکہ ہم کسی لغو بات پر کان نہ دھریں اور کسی لہو کی طرف جلدی سے نگاہ نہ کریں اور نہ کسی ممنوع شی کی طرف ہاتھ بڑھائیں اور نہ کسی حرام کی طرف قدم اٹھائیں-

خدایا میں تجھے اس مہینہ کے حق اور ان بندوں کے حق کا واسطہ دے کر سوال کر رہا ہوں جنھوں نے اس مہینہ میں ابتدا سے لے کر انتہا تک تیری عبادت کی ہے چاہے وہ ملک مقرب ہو یا نبی مرسل یا وہ بندہ صالح جسے تو نے اپنا بنا رکھا ہے کہ محمد وآل محمد پر رحمت نازل فرما اور ہمیں اس کرامت کا اہل قرار دے دے جس کا تو نے اپنے اولیاء سے وعدہ کیا ہے اور ہمارے لئے لازم قرار دیئے ہیں جو تیری انتہائی اطاعت کرنے والے ہیں اور ہمیں اس جماعت میں شامل کردے جو تیری رحمت کی بنا پر تیری رفاقت کی بلند منزل پر فائز ہیں ۔

"خدایا محمد وآل محمد پر رحمت نازل فرما اور اگر تیرے پاس اس مہینہ کی ہر رات میں کچھ گرفتار عذاب گردنیں ہیں جنھیں تو آزاد کرتا ہے یا اپنی مہربانی سے معاف کرتا ہے تو ہماری گردنوں کو بھی انھیں گردنوں میں سے قرار دے دے اور ہمیں اس مہینہ کے بہترین اہل و ساتھیوں میں شمار کر لے"، امام علیہ السلام نے اس کے علاوہ اور بھی چیزیں اپنی اس دعا میں بیان فرمائی ہیں جسے اس محدود وقت میں بیان کرنے کی گنجائش نہیں ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ: اگر ہم غور کریں تو ہمیں پتہ چل جائے گا کہ امام علیہ السلام نے اس مبارک مہینہ کا کس طرح سے استقبال کیا ہے اور خدا سے کس طرح سے دعا کی ہے۔

خدا کا شکر ہے کہ اس نے ایک مرتبہ پھر ہمیں موقع دیا کہ ہم ان شاءاللہ ماہ مبارک کو درک کریں ۔

ہمیں اس مبارک مہینہ میں زیادہ سے زیادہ نیک عمل انجام دینا چاہیئے اور اس کی رحمتوں اور برکتوں سے زیادہ سے زیادہ استفادہ کرنا چاہیئے اس لئے کہ یہ مہینہ ہمارے لئے ایک بہترین موقع اور فرصت ہے اپنے آپ کو بنانے، سنوارنے اور سدھارنے کا، لہذا جتنا بھی ہو سکے ہم اس مہینہ میں نیک عمل انجام دیں تاکہ اس مہینہ کی برکت سے پورے سال زیادہ سے زیادہ نیک اعمال انجام دے سکیں۔

آخر میں خداوند عالم سے دعا ہے کہ خدا ہمیں محمد وآل محمد علیہم السلام کے صدقہ میں اس مبارک مہینہ میں زیادہ سے زیادہ نیک اعمال انجام دینے کی اور اس کی خیرو برکت سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کی توفیق عنایت فرمائے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha