حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، امام محمد باقر علیہ السلام شیعوں کے پانچویں امام ہیں۔ آپؑ کو “باقرالعلوم” کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے، کیونکہ آپؑ نے علومِ اسلامی کے پوشیدہ خزانوں کو آشکار کیا اور فقہ، تفسیر، تاریخ اور معارفِ دین کو وسعت عطا کی۔ آپؑ کی ولادت مدینہ منورہ میں ہوئی اور آپؑ نے 19 برس تک منصبِ امامت پر فائز رہ کر امت کی رہنمائی فرمائی۔ آپؑ کی شہادت 7 ذی الحجہ 114 ہجری کو ہوئی اور جنت البقیع میں مدفون ہیں۔
امام محمد باقر علیہ السلام علم، زہد، عبادت اور اخلاق میں بنی ہاشم کے تمام بزرگوں میں نمایاں مقام رکھتے تھے۔ آپؑ کے فضائل کا اعتراف نہ صرف شیعہ علماء بلکہ اہل سنت کے مؤرخین اور محدثین نے بھی کیا ہے۔ متعدد اہل سنت کتب میں آپؑ کے ارشادات اور علمی نکات نقل کیے گئے ہیں۔
اہل سنت کے معروف عالم ابن حجر ہیتمی نے امام باقر علیہ السلام کو علوم و معارف کا دریا قرار دیتے ہوئے لکھا ہے کہ آپؑ نے حکمت اور دانش کے ایسے خزانے ظاہر کیے جنہیں صرف بصیرت رکھنے والے ہی درک کرسکتے ہیں۔
امام محمد باقر علیہ السلام کی نمایاں صفات میں عبادت، بندگی، سخاوت اور حسنِ اخلاق شامل ہیں۔ روایت کے مطابق ایک اعرابی نے آپؑ سے خدا کی معرفت کے بارے میں سوال کیا تو امامؑ نے فرمایا کہ خدا کو ظاہری آنکھیں نہیں بلکہ دل کی بصیرت دیکھتی ہے۔ اس جواب نے حاضرین کو گہرے روحانی معارف سے آشنا کیا۔
اسی طرح آپؑ کی سخاوت اور غریب پروری بھی مشہور تھی۔ ایک شخص نے فقر و تنگدستی کی شکایت کی تو امامؑ نے نہ صرف اس کی دلجوئی فرمائی بلکہ مالی مدد بھی عطا کی۔ آپؑ کی زندگی اسلامی اخلاق، انسان دوستی اور بندگیِ خدا کا عملی نمونہ تھی۔
علماء کے مطابق امام محمد باقر علیہ السلام کی حیاتِ مبارکہ آج بھی امت مسلمہ کے لیے علم، تقویٰ اور اخلاق کا روشن مینار ہے۔
حوالہ جات:
الارشاد، شیخ مفید، ج۲، ص۱۵۵۔
بحار الانوار، ج۴۶، ص۲۱۲۔
سیرۂ پیشوایان، مہدی پیشوائی، ص۳۰۵ تا ۳۰۶۔
الصواعق المحرقہ، ابن حجر ہیتمی، ص۲۰۱۔
تاریخ ابن عساکر، ص۱۴۷۔
صفة الصفوة، ج۲، ص۱۱۲۔









آپ کا تبصرہ