۱۰ اسفند ۱۳۹۹ | Feb 28, 2021
مولانا آزاد

حوزہ/مولانا آزاد نے 15 برس کی عمر میں لسان الصدق جریدہ کی ادارت کی، بیس برس کی عمر میں اخبار 'الہلال' کے ایڈیٹر بنے اور بعد میں انہوں نے 'البلاغ' جاری کیا اور بھارت کے مسلمانوں میں سیاسی شعور کی بیداری پیدا کی۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،مولاناابوالکلام آزاد 11 نومبر 1888 کو مکہ میں پیدا ہوئے۔ ان کا انتقال دہلی میں 22 فروری 1958 کو ہوا۔ مولانا آزاد کا یوم پیدائش ملک بھر میں قومی یوم تعلیم کے طور پر منایا جاتا ہے۔

مولانا ابوالکلام آزاد کا اصل نام محی الدین احمد تھا۔ ان کی پرورش مذہبی خاندان میں ہوئی۔ انہیں بچپن سے مطالعہ کا بیحد شوق تھا۔ انہیں قرآن، فقہ، علم الکلام، علم الحدیث پر غیر معمولی قدرت حاصل تھی۔ وہ ایک عظیم خطیب، زبردست صحافی، عالی مرتبہ مجتہد، عظیم دانشور، بلند پایہ مفکر، فلسفی اور جنگ آزادی کے عظیم رہنما تھے۔

مولانا آزاد نے اپنے والد مولانا خیر الدین کے علاوہ مولوی ابراہیم، مولوی محمد عمر، مولوی سعادت حسن وغیرہ سے ابتدائی تعلیم حاصل کی اور ان کی ادبی زندگی کا آغاز 11 سال کی عمر میں ہوا۔ وہ پہلے شاعری اور بعد میں نثر کی جانب متوجہ ہوئے جبکہ مولوی عبدالواحد نے ان کا تخلص 'آزاد' رکھا جس کے بعد انہیں مولانا ابوالکلام آزاد کے نام سے کافی شہرت حاصل ہوئی۔

مولانا آزاد نے 15 برس کی عمر میں لسان الصدق جریدہ کی ادارت کی، بیس برس کی عمر میں اخبار 'الہلال' کے ایڈیٹر بنے اور بعد میں انہوں نے 'البلاغ' جاری کیا اور بھارت کے مسلمانوں میں سیاسی شعور کی بیداری پیدا کی۔

مولانا آزاد سچے محب وطن تھے۔ بھارت کی جدوجہد آزادی میں ان کی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔ وہ ہندو مسلم اتحاد کے حامی تھے اور اپنے خطابات اور مضامین کے ذریعہ قومی یکجہتی کو فروغ دیتے تھے۔

آزاد، دو قومی نظریہ کے مخالف تھے تقسیم ہند کے بعد پھوٹ پڑے فسادات سے وہ بہت غمزدہ تھے۔ اس وقت انہوں نے دہلی کی جامع مسجد میں خطبہ دیتے ہوئے بھارتی مسلمانوں کو پیغام دیا تھا۔ انہوں نے اپنے خطاب میں کہا تھا کہ 'عزیزو! ستارے ٹوٹ گئے تو کیا ہوا، سورج تو چمک رہا ہے۔ اس سے کرنیں مانگ لو اور ان اندھیری راہوں میں بچھادو، جہاں اجالے کی سخت ضرورت ہے۔ آؤ عہد کریں کہ یہ ملک ہمارا ہے، ہم اس کے لیے ہیں اور اس کی تقدیر کے بنیادی فیصلے ہماری آواز کے بغیر ادھورے ہی رہیں گے۔'

مولانا آزاد نے جنگ آزادی کی تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں۔ وہ مہاتما گاندھی اور پنڈت جواہر لعل نہرو کے کافی قریب تھے۔

آزادی کے بعد مولانا آزاد کی قابلیت کو دیکھتے ہوئے انہیں ملک کا پہلا وزیر تعلیم مقرر کیا گیا اور وہ 15 اگست 1947 کےبعد سے یکم فروری 1958 تک پہلے وزیر تعلیم رہے تھے جبکہ انہوں نے تعلیمی نظام کا تفصیلی جائزہ لینے کے لیے کئی کمیشن قائم کئے اور تعلیم کو عام کرنے کے لیے کئی اقدامات کیے۔ وہ عورتوں کی تعلیم کے حامی تھے۔

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
6 + 7 =