۶ مهر ۱۴۰۰ |۲۰ صفر ۱۴۴۳ | Sep 28, 2021
News Code: 370854
28 جولائی 2021 - 07:35
پیگاسس، بہت بڑی رسوائی

حوزہ/ آج سے چند سال قبل ہم دوسرے ایسے انسانوں سے احتیاط کرتے تھے جن پر ہمیں شک ہوتا تھا کہ کہیں وہ ہماری جاسوسی کررہے ہوں۔ لیکن اب یہ کام ہمارا موبائل فون بغیر کسی دقت کے باآسانی انجام دے رہا ہے۔

تجزیہ نگار: اجمل قاسمی

حوزہ نیوز ایجنسی سائنس و ٹیکنالوجی کی ہر پل بڑھتی ہوئی ترقی نے جہاں انسانی زندگی کو آسان بنانے کے ساتھ انسانوں کے لئے سہولیات فراہم کی ہے۔ وہی اس ترقی کے انسانی زندگی پر منفی اثرات بھی حد سے زیادہ ہیں۔ آج جدید ترین موبائل فونز اور سوشل ویب سائٹس کو استعمال کرنا ہر انسان کی بنیادی ضرورت بن چکا ہے۔ عام انسان تو ان کے منفی اثرات اور ایجاد کرنے والوں کے اغراض و مقاصد اور اہداف سے کوسوں دور تفریح اور ٹائم پاس کے لئے ان کو زیر استعمال لاتا ہے۔ لیکن اسے خبر نہیں کہ اس کے ہر پل اور ہر کلک کو محفوظ کیا جارہا ہے۔ قدیم زمانے میں جاسوسی کے لئے انسانوں کا استعمال کیا جاتا تھا لیکن آج کے ترقی یافتہ جدید دور میں اب یہ کام موبائل فونز اور سوشل ویب سائٹس کے ذریعے انجام دیا جاتا ہے۔ اب تو یہ بات بھی کافی پرانی ہوچکی ہے کہ آپ کا موبائل فون اور آپ کا سوشل اکاونٹ آپ کا جاسوسی کررہا ہوتا ہے۔ اب اسرائیل نے سائنس و ٹیکنالوجی کی ترقی سے ایک ایسا سافٹ ویئر ایجاد کیا ہے جو غیر محسوس طریقے سے آپ کے موبائل میں داخل ہوتا ہے اور پلک جھپکتے ہی آپ کا سارا ڈیٹا کاپی کرکے متعلقہ مقصد تک ارسال کرتا ہے۔ اس سافٹ ویئر کا پتا کسی بھی طریقے سے لگانا ممکن نہیں کیونکہ یہ کسی بھی موبائل فون میں موجود آپریٹنگ سسٹم کی بنیادی معلومات میں چھیڑ چھاڑ کرکے انہیں خراب کردیتا ہے۔

اسرائیلی سافٹ ویئر پیگاسس کو نائن الیون کے بعد دہشت گردی کے خلاف استعمال کے لئے ایجاد کیا گیا۔ این ایس او کی ویب سائٹ پر اس کا یوں تعارف کرایا گیا ہے کہ : پیگاسس صرف ان ممالک کو حکومت اسرائیل کی باضابطہ اجازت سے فراہم کیا جائے گا جو دہشت گردی اور تخریب کاری سے نبرد آزما ہیں۔ جن کا انسانی حقوق کا ریکارڈ تسلی بخش ہو اور یہ ممالک طے شدہ قانونی دائرے میں رہتے ہوئے اسے دہشت گردی کے خلاف استعمال کریں گے۔ پیگاسس کو اس سے کچھ فرق نہیں پڑتا کہ آپ کا موبائل فون آن ہے یا آف، یہ ہر صورت میں آپ کے فون میں موجود تمام ایپس پر بھیجے گئے پیغامات اور کالز کو اسی وقت کاپی کرتا ہے۔ اگر کسی کو اپنے فون میں پیگاسس کی موجودگی کا شک ہو تو یہ فورا عارضی طور پر غائب ہوجاتا ہے جبکہ ضروری معلومات لینے کے ساتھ دن بعد خودکشی کرتا ہے۔ تازہ ترین رپورٹ کے مطابق اب تک دنیا بھر کے پچاس ہزار اہم شخصِات پیگاسس کا شکار ہوچکے ہیں۔ 

بین الاقوامی صحافتی اداروں کی جانب سے پاناما لیکس کی طرز پر پیگاسس لیکس کی پہلی قسط بھی شائع کردی گئی ہے۔ میکسیکو، ہنگری، روانڈا، آذربائیجان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین، قزاقستان اور بھارت کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جو پیگاسس کا بے تحاشا استعمال کرتے ہیں جبکہ میکسیکو ان سب میں سرفہرست ہے۔ گارجین اخبار کی ایک سال قبل شائع رپورٹ کے مطابق دنیا بھر کے سڑسٹھ حکومتیں پیگاسس تک رسائی حاصل کرچکی ہیں۔ دنیا کو اس جاسوس ایپ کے بارے میں پہلی بار دوہزار گیارہ میں پتا چلا۔ دوہزار سولہ میں اخبار گارجین نے پیگاسس پر ایک مضمون شائع کرکے اس تفصیلات بیان کی۔ بین الاقوامی اخبار کے مطابق بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے جولائی دوہزار سترہ میں اپنے دورہ اسرائیل کے دوران پیگاسس سسٹم کو خرید لیا تھا۔ آج سے تین سال قبل کینیڈا کی سٹیزن لیب نے ایک رپورٹ شائع کی جس میں اس بات کا انکشاف کیا گیا کہ بھارت سمیت دنیا بھر کے پینتالیس ممالک کے اداروں کی پیگاسس تک رسائی ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت دیگر انسانی حقوق کی تنظیموں نے پیگاسس کی مخالفت کی ہے۔ 

آج سے چند سال قبل ہم دوسرے ایسے انسانوں سے احتیاط کرتے تھے جن پر ہمیں شک ہوتا تھا کہ کہیں وہ ہماری جاسوسی کررہے ہوں۔ لیکن اب یہ کام ہمارا موبائل فون بغیر کسی دقت کے باآسانی انجام دے رہا ہے۔

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
6 + 3 =