۶ آبان ۱۴۰۰ |۲۱ ربیع‌الاول ۱۴۴۳ | Oct 28, 2021
مولانا سید صفی حیدر زیدی

حوزہ/ سکریٹری تنظیم المکاتب لکھنو نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا: دینداری، اخلاق ، محبت ، شفقت اور شاگردوں کی تعلیم کے ساتھ اسلامی اور دینی تربیت مولانا سید بیدار حسین صاحب کا خاصہ تھا۔ ایسے عالَم میں کہ جب ائمہ کی زندگی کی جھلکیاں پیش کرنے والے علماء مفقود ہوں ایسے بزرگ و معلم سے محرومی نا قابل تلافی نقصان ہے۔ ایک عرصہ ختم ہو گیا، ایک نسل مٹ گئی۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،مولانا سید بیدار حسین کی رحلت پر سیکریٹری تنظیم المکاتب مولانا سید صفی حیدر زیدی نے تعزیتی پیغام ارسال کیا ہے جسکا مکمل متن اس طرح ہے: 

بسم اللہ الرحمن الرحیم 

عالِم کی موت ایک فرد کی نہیں ایک عالَم کی موت ہے۔ خاص کر اس دور قحط الرجال میں جب علم خال خال ملتا ہے۔۔مدعیان علم تو بہت ہیں۔ عالم مل بھی جائیں تو با عمل ملنا مشکل اور دکھاوے سے خالی ہونا دشوار۔ ایسے میں انتہائی افسوس ناک خبر موصول ہوئی کہ عالم با عمل ،سادگی کا پیکر ، استاد و مربی شفیق مولانا سید بیدار حسین رحمۃ اللہ علیہ نے رحلت فرمائی۔

  اناللہ و انا الیہ راجعون 

مولانا سید بیدار حسین صاحب مرحوم مغربی اترپردیش کے مظفرنگر ضلع کے گنگیرو سادات کے رہنے والے تھے۔ جامعہ سلطانیہ اور حوزہ علمیہ نجف اشرف میں تعلیم حاصل کی اور اپنی مادر علمی جامعہ سلطانیہ کو ہی تدریس کے لئے منتخب فرمایا۔ مدرسہ سلطان المدارس اور جامعہ سلطانیہ میں عمر بھر تدریس فرمائی ۔ سلطان المدارس میں پرنسپل کے فرائض بھی انجام دئیے۔ چار دہائیوں سے زیادہ عرصہ تک آپ نے سلطان المدارس کے علاوہ دیگر مدارس میں بھی تدیس کے فرائض انجام دئیے اور طلاب کو زیور علم و ادب سے آراستہ کیا۔ 

تعلیم و تعلم کے سبب زندگی کا زیادہ عرصہ لکھنو میں گذرا لیکن اس کے باوجود اپنے وطن اور علاقہ میں بھی تبلیغی فرائض سے کبھی غافل نہ ہوئے۔ ماہ رمضان ، عشرہ محرم اور دیگر مناسبتوں پرتبلیغی خدمات کے سلسلہ میں وطن اور علاقہ کو فوقیت دیتےکہ آج ان کی رحلت سے جہاں ان کے پسماندگان، وابستگان اور شاگردان غمگین ہیں وہیں علاقہ کے مومنین بھی افسردہ ہیں ۔

دینداری، اخلاق ، محبت ، شفقت اور شاگردوں کی تعلیم کے ساتھ اسلامی اور دینی تربیت مولانا سید بیدار حسین صاحب کا خاصہ تھا۔ ایسے عالَم میں کہ جب ائمہ کی زندگی کی جھلکیاں پیش کرنے والے علماء مفقود ہوں ایسے بزرگ و معلم سے محرومی نا قابل تلافی نقصان ہے۔ ایک عرصہ ختم ہو گیا، ایک نسل مٹ گئی۔

اللہ رحمت و مغفرت فرمائے! جوار اہلبیتؑ میں بلند درجات عطا فرمائے! 

جملہ پسماندگان، وابستگان، عقیدتمندان اور شاگردان خصوصاً اہل خانہ کی خدمت میں تعزیت عرض ہے۔ 

والسلام

سید صفی حیدر زیدی

سکریٹری تنظیم المکاتب لکھنو

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
9 + 1 =