۱۶ آذر ۱۴۰۰ |۲ جمادی‌الاول ۱۴۴۳ | Dec 7, 2021
رسول اللہ

حوزہ/ امام علی علیہ السلام کے کلمات میں رسول خداصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بہت سے اوصاف اور خصوصیات بیان ہوئے ہیں۔ جسے اس مقالہ میں نمونہ کے طور پر قارئین کے لئے پیش کیا گیا ہے۔

تحریر: مولانا محمد لطیف مطہری کچوروی

حوزہ نیوز ایجنسی پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت کے ایام میں یہ عالم بالعموم اور ملک عرب بالخصوص ہر لحاظ سے ایک ظلمت کدہ تھا۔ہر طرف کفر وظلمت کی آندھیاں نوع انسان پر  گھٹا ٹوپ اندیھرا بن کر امڈ رہی تھی۔انسانی حقوق یا فرائض کا کوئی ضابطہ یا آئین موجود نہ تھا ۔اغواء قتل وغارت گری اور اپنی لڑکیوں کو زندہ درگور کرنامعمول کی زندگی تھی۔ذراسی بات پر تلواریں نکل آتیں اورخون کی ندیاں بہا دی جاتیں۔انسانیت ہر لحاظ سے تباہی و بربادی کے کنارے پر کھڑی تھی۔ان حالات میں رحمت حق جوش میں آئی اور رسول خداصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کی ولادت ہوئی اورآپ مبعوث بہ رسالت ہو گئے۔دنیاچشم زدن میں گہوارہ امن و امان بن گئی۔ راہزن رہنماء بن گئے ۔جاہل شتربان اور صحرا نشین جہان بان و جہان آرابن گئےاور  سرکش لوگ معلم دین و اخلاق بن گئے۔
امام علی علیہ السلام کے کلمات میں رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بہت سے اوصاف اور خصوصیات بیان ہوئے ہیں۔ یہاں ہم کچھ نمونے ذکر کرنے کی کوشش کریں گے۔ 

۱۔امانت دار

(ان الله بعث محمد(ص) نذیراً للعالمین و امیناً علی التنزیل)۱
یقینا خداوندمتعال نے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو عالمین کو عذاب الہی سے ڈارانے والا اوراپنی کتاب  کا  امین  بنا کرمبعوث کیا ہے۔۔
ایک اور مقام  پر آپ فرماتے ہیں:(حَتَّى أَوْرَى قَبَساً لِقَابِسٍ وَ أَنَارَ عَلَماً لِحَابِسٍ، فَهُوَ أَمِينُكَ الْمَأْمُونُ وَ شَهِيدُكَ يَوْمَ الدِّينِ)۲
خدا وند متعال نے ہر روشنی کے طلب گار کے لئے آگ روشن کر دی اورہر گم کردہ راہ اورٹہرے ہوئے مسافر کے لئے نشان منزل روشن کر دیے  ۔پروردگارا :وہ تیرے معتبر امانتدار اورروز قیامت کے گواہ ہیں۔

۲۔استقامت اور پائیداری

رسول خداصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کی نمایاں صفات میں سے ایک صفت مقدس ہدف کی راہ میں استقامت اور استقامت اور پائیداری ہے جسے امام علی علیہ السلام نے متعدد مرتبہ ذکرفرمایا ہے۔
(أَرْسَلَهُ دَاعِياً إِلَى الْحَقِّ وَ شَاهِداً عَلَى الْخَلْقِ فَبَلَّغَ رِسَالاتِ رَبِّهِ غَيْرَ وَانٍ وَ لَا مُقَصِّرٍ وَ جَاهَدَ فِي اللَّهِ أَعْدَاءَهُ غَيْرَ وَاهِنٍ وَ لَا مُعَذِّرٍ، إِمَامُ مَنِ اتَّقَى وَ بَصَرُ مَنِ اهْتَدَى).۳
اللہ تعالی نے  رسول خداصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم   اسلام کی طرف دعوت دینے والا اور مخلوقات کے اعمال کا گواہ بنا کر بھیجا تو آپ نے پیغام الہی کو مکمل طور سے پہنچا دیا۔نہ کوئی سستی کی اورنہ کوئی کمزوروی دکھلائی اورنہ کسی حیلہ اوربہانہ کا سہارا لیا۔آپ متقین کے امام اور طلب گاران ہدایت کے لئے آنکھوں کی بصارت تھے۔
امام علی علیہ السلام رسول خداصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم   پر درودو سلام   بھیجنےکی تعلیم  کے ضمن میں فرماتےہیں:
(اجْعَلْ شَرَائِفَ صَلَوَاتِكَ وَ نَوَامِيَ بَرَكَاتِكَ عَلَى مُحَمَّدٍ عَبْدِكَ وَ رَسُولِكَ، الْخَاتِمِ لِمَا سَبَقَ وَ الْفَاتِحِ لِمَا انْغَلَقَ وَ الْمُعْلِنِ الْحَقَّ بِالْحَقِّ وَ الدَّافِعِ جَيْشَاتِ الْأَبَاطِيلِ وَ الدَّامِغِ صَوْلَاتِ الْأَضَالِيلِ كَمَا حُمِّلَ فَاضْطَلَعَ قَائِماً بِأَمْرِكَ مُسْتَوْفِزاً فِي مَرْضَاتِكَ غَيْرَ نَاكِلٍ عَنْ قُدُمٍ وَ لَا وَاهٍ فِي عَزْمٍ، وَاعِياً لِوَحْيِكَ حَافِظاً لِعَهْدِكَ مَاضِياً عَلَى نَفَاذِ أَمْرِكَ حَتَّى أَوْرَى قَبَسَ الْقَابِسِ وَ أَضَاءَ الطَّرِيقَ لِلْخَابِطِ وَ هُدِيَتْ بِهِ الْقُلُوبُ بَعْدَ خَوْضَاتِ الْفِتَنِ وَ الْآثَامِ وَ أَقَامَ بِمُوضِحَاتِ الْأَعْلَامِ وَ نَيِّرَاتِ الْأَحْكَامِ)۴
اپنی پاکیزہ ترین اور مسلسل بڑھنے والے برکات کو اپنے بندہ اور رسول حضرت محمد (ص) پر قراردے جو سابق نبوتوں کے ختم کرنے والے ' دل و دماغ کے بند دروازوں کو کھولنے والے ' حق کے ذریعہ حق کا اعلان کرنے والے' باطل کے جوش و خروش کودفع کرنے والے اور گمراہیوں کے حملوں کا سر کچلنے والے تھے۔جو بار جس طرح ان کے حوالہ کیا گیا انہوں نے اٹھالیا۔تیرے امر کے ساتھ قیام کیا۔ تیری مرضی کی راہ میں تیز قدم بڑھاتے رہے۔نہ آگے بڑھنے سے انکارکیا اور نہ ان کے ارادوں میں کمزوری آئی۔تیری وحی کو محفوظ کیا۔تیرے عہد کی حفاظت کی تیرے حکم کے نفاذ کی راہمیں بڑھتے رہے۔یہاں تک کہ روشنی کی جستجو کرنے والوں کے لئے آگ روشن کردی اور گم کر دہ راہ کے لئے راستہ واضح کردیا۔ان کے ذریعہ دلوں نے فتنوں اور گناہوں میں غرق رہنے کے بعد بھی ہدایت پالی اور انہوں نے راستہ دکھانے والے نشانات اور واضح احکام قائم کردئیے۔ 

۳۔شجاعت اور فداکاری

اس سلسلے میں امام (ع) فرماتے ہیں:
(كُنَّا إِذَا احْمَرَّ الْبَأْسُ اتَّقَيْنَا بِرَسُولِ اللَّهِ (صلی الله علیه وآله)، فَلَمْ يَكُنْ أَحَدٌ مِنَّا أَقْرَبَ إِلَى الْعَدُوِّ مِنْهُ.)۵
جب بھی جنگ چھڑ جاتے تھے تو ہم لوگ رسول خداصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم    کی پناہ میں رہا کرتے تھے اورکوئی شخص بھی آپ سے زیادہ دشمن سے قریب نہیں ہوتا تھا۔
ایک اور جگہ آپ فرماتے ہیں:
(وَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ (صلی الله علیه وآله) إِذَا احْمَرَّ الْبَأْسُ وَ أَحْجَمَ النَّاسُ قَدَّمَ أَهْلَ بَيْتِهِ، فَوَقَى بِهِمْ أَصْحَابَهُ حَرَّ السُّيُوفِ وَ الْأَسِنَّةِ؛ فَقُتِلَ عُبَيْدَةُ بْنُ الْحَارِثِ يَوْمَ بَدْرٍ وَ قُتِلَ حَمْزَةُ يَوْمَ أُحُدٍ وَ قُتِلَ جَعْفَرٌ يَوْمَ مُؤْتَةَ، وَ أَرَادَ مَنْ لَوْ شِئْتُ ذَكَرْتُ اسْمَهُ مِثْلَ الَّذِي أَرَادُوا مِنَ الشَّهَادَةِ وَ لَكِنَّ آجَالَهُمْ عُجِّلَتْ وَ مَنِيَّتَهُ [أُخِّرَتْ] أُجِّلَتْ.)۶
اور رسول اکرم (ص) کا یہ عالم تھا کہ جب جنگ کے شعلے بھڑک اٹھتے تھے اور لوگ پیچھے ہٹنے لگے تھے تو آپ اپنے اہل بیت  کو آگے بڑھا دیتے تھے اوروہ اپنے کو سپر بناکر اصحاب کو تلوار اورنیزوں کی گرمی سے محفوظ رکھتے تھے چنانچہ بدرکے دن جناب عبیدہ بن الحارث مارے گئے۔احد کے دن حمزہ شہید ہوئے اورموتہ میں جعفر کام آگئے ۔ایک شخص نے جس کا نام بتا سکتا ہوں انہیں لوگوں جیسی شہادت کا قصد کیاتھا لیکن ان سب کی موت جلدی آگئی اور اس کی موت پیچھے ٹال دی گئی۔

۴۔پیغمبر رحمت

رسول خداصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک اہم صفت یہ ہے کہ وہ خدا کے بھیجے ہوئے رسول رحمت ہیں۔ قرآن کریم میں ارشاد ہوتا ہے: (و ما ارسلناک الارحمة للعالمین) 7۔ہم نے آپ کو عالمین کے لئے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔
امام باقر علیہ السلام نے امام علی علیہ السلام سے اس طرح نقل کیا ہے:
(وَ حَكَى عَنْهُ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الْبَاقِرُ (علیه السلام) أَنَّهُ (علیه السلام) قَالَ: كَانَ فِي الْأَرْضِ أَمَانَانِ مِنْ عَذَابِ اللَّهِ وَ قَدْ رُفِعَ أَحَدُهُمَا، فَدُونَكُمُ الْآخَرَ، فَتَمَسَّكُوا بِهِ؛أَمَّا الْأَمَانُ الَّذِي رُفِعَ فَهُوَ رَسُولُ اللَّهِ (صلی الله علیه وآله)، وَ أَمَّا الْأَمَانُ الْبَاقِي فَالاسْتِغْفَارُ؛قَالَ اللَّهُ تَعَالَى"وَ ما كانَ اللَّهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَ أَنْتَ فِيهِمْ وَ ما كانَ اللَّهُ مُعَذِّبَهُمْ وَ هُمْ يَسْتَغْفِرُونَ )۸
امام محمد باقر علیہ السلام   نے آپ کا یہ ارشاد گرامی نقل کیا ہے کہ روئے زمین پر عذاب الٰہی سے بچانے کے دوذرائع تھے۔ایک کو پروردگار نے اٹھالیا ہے ( پیغمبر اسلام (ص) ) لہٰذا دوسرے سے تمسک اختیار کرو۔یعنی  استغفار کہ مالک کائنات نے فرمایا ہے کہ  خدا اس وقت تک ان پر عذاب نہیں کر سکتا ہے جب تک آپ موجود ہیں۔اوراس وقت تک عذاب کرنے والا نہیں ہے جب تک یہ استغفار کر رہے ہیں۔
امام باقر علیہ السلام کی روایت سے رسول خداصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کے امان    اور مہربان ہونے کی وجہ معلوم ہوا ۔ لیکن قرآن  کریم کی آیت کے مطابق ، وہ (رحمة للعالمین) یعنی عالمین  کے لئے رحمت بنا کر بھیجے گئے ہیں اور جو بھی لوگوں کی ابدی سعادت کا باعث بنتا ہے اسے رسول خداصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم   نے اپنے ساتھ لے کر آیا ہے۔یہاں تک کہ کافروں اور مشرکوں کے لیے بھی باعث رحمت ہے ، کیونکہ یہ ایک وسیع دستر خوان  کی مانند ہے  جس میں ہر قسم  کا طعام موجود ہو لیکن  بعض لوگ اس وسیع دستر خوان سے مستفید نہیں ہوتے ہیں۔۹

5۔ تمام انبیاء سے برتر

اس سلسلے میں حضرت فرماتے ہیں:
(أَرْسَلَهُ بِالضِّيَاءِ وَ قَدَّمَهُ فِي الاصْطِفَاءِ،)۱۰
اس نے پیغمبر کو ایک نور دے کر بھیجا ہے اور انہیں سب سے پہلے منتخب  قرار دیا ہے۔
اور ایک اور جگہ فرماتے ہیں:
(و اشهد ان محمد عبده و رسول المجتبی من خلائقه)۱۱
اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خدا کا بندہ اور برگزیدہ رسول ہیں۔

۶۔خاتم النبیین

اس سلسلے میں حضرت فرماتے ہیں:
(إِلَى أَنْ بَعَثَ اللَّهُ سُبْحَانَهُ مُحَمَّداً [صلی الله علیه وآله] رَسُولَ اللَّهِ لِإِنْجَازِ عِدَتِهِ وَ إِتْمَامِ نُبُوَّتِهِ) 1۲
یہاں تک کہ مالک نے اپنے وعدہ کو پورا کرنے اور اپنے نبوت کو مکمل کرنے کے لئے حضرت محمد{ص} کو بھیج دیا۔۔۔
اسی طرح فرماتے ہیں:
(۔۔۔ عَلَى مُحَمَّدٍ عَبْدِكَ وَ رَسُولِكَ، الْخَاتِمِ لِمَا سَبَقَ)1۳
۔۔۔۔ اپنے بندہ اور رسول حضرت محمد (ص) پر قراردے جو سابق نبوتوں کے ختم کرنے والے۔وہی نبی جس نے انبیاء اور آسمانی قوانین کا سلسلہ مکمل کیا۔
ایک اور مقام پر آپ فرماتے ہیں:
(أَيُّهَا النَّاسُ خُذُوهَا عَنْ خَاتَمِ النَّبِيِّينَ (صلى‏ الله‏ عليه‏ و آله‏وسلم ) إِنَّهُ يَمُوتُ مَنْ مَاتَ مِنَّا وَ لَيْسَ بِمَيِّتٍ وَ يَبْلَى مَنْ بَلِيَ مِنَّا وَ لَيْسَ بِبَالٍ فَلَا تَقُولُوا بِمَا لَا تَعْرِفُونَ،)1۴
اے لوگو! حضرت خاتم النبیین کے اس ارشاد گرامی پر عمل کرو کہ ہمارا مرنے والا میت نہیں ہوتا ہے اور ہم میں سے کسی کی میت زمانے کے گزرنے کے ساتھ بوسیدہ نہیں ہوتا ہے ۔خبردار وہ نہ کہو جو تم نہیں جانتے ہو۔
اور جب آپ رسول خداصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو الوداع  کرنے کا وقت آیا اور جب آپ غسل دے رہے تھے تو آپ نے فرمایا:(وَ مِنْ كَلَامٍ لَهُ (علیه السلام) قَالَهُ وَ هُوَ يَلِي غُسْلَ رَسُولِ اللَّهِ (صلی الله علیه وآله) وَ تَجْهِيزَهُ‏:
بِأَبِي أَنْتَ وَ أُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَقَدِ انْقَطَعَ بِمَوْتِكَ مَا لَمْ يَنْقَطِعْ بِمَوْتِ غَيْرِكَ مِنَ النُّبُوَّةِ وَ الْإِنْبَاءِ وَ أَخْبَارِ السَّمَاءِ؛ ۔۔۔وَ لَوْ لَا أَنَّكَ أَمَرْتَ بِالصَّبْرِ وَ نَهَيْتَ عَنِ الْجَزَعِ، لَأَنْفَدْنَا عَلَيْكَ مَاءَ الشُّئُونِ وَ لَكَانَ الدَّاءُ مُمَاطِلًا وَ الْكَمَدُ مُحَالِفاً، وَ قَلَّا لَكَ، وَ لَكِنَّهُ مَا لَا يُمْلَكُ رَدُّهُ وَ لَا يُسْتَطَاعُ دَفْعُهُ. بِأَبِي أَنْتَ وَ أُمِّي، اذْكُرْنَا عِنْدَ رَبِّكَ وَ اجْعَلْنَا مِنْ بَالِكَ‏).۱۵
یارسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ۔ آپ کے انتقال سے وہ نبوت الٰہی احکام اورآسمانی اخبارکا سلسلہ منقطع ہوگیا جو آپ کے علاوہ کسی کے مرنے سے منقطع نہیں ہوا تھا۔۔۔۔ آپ نے صبر کاحکم نہ دیا ہوتا اورنالہ وفریاد سے منع نہ کیا ہوتا تو ہم آپ کے غم میں آنسووں کا ذخیرہ ختم کردیتے اور یہ درد کسی درمان کو قبول نہ کرتا اور یہ رنج و الم ہمیشہ ساتھ رہ جاتا۔لیکن موت ایک ایسی چیز ہے جس کا پلٹا دینا کسی کے اختیار میں نہیں ہے اور جس کا ٹال دینا کسی کے بس میں نہیں ہے۔

۷۔ شریف و بہترین نسب

امام علی علیہ السلام رسول خداصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم     پاک نسب کے بارے میں فرماتے ہیں:
(فَاسْتَوْدَعَهُمْ فِي أَفْضَلِ مُسْتَوْدَعٍ وَ أَقَرَّهُمْ فِي خَيْرِ مُسْتَقَرٍّ، تَنَاسَخَتْهُمْ كَرَائِمُ الْأَصْلَابِ إِلَى مُطَهَّرَاتِ الْأَرْحَامِ، كُلَّمَا مَضَى مِنْهُمْ سَلَفٌ قَامَ مِنْهُمْ بِدِينِ اللَّهِ خَلَفٌ. حَتَّى أَفْضَتْ كَرَامَةُ اللَّهِ سُبْحَانَهُ وَ تَعَالَى إِلَى مُحَمَّدٍ (صلی الله علیه وآله) فَأَخْرَجَهُ مِنْ أَفْضَلِ الْمَعَادِنِ مَنْبِتاً وَ أَعَزِّ الْأَرُومَاتِ مَغْرِساً مِنَ الشَّجَرَةِ الَّتِي صَدَعَ مِنْهَا أَنْبِيَاءَهُ وَ انْتَجَبَ مِنْهَا أُمَنَاءَهُ. عِتْرَتُهُ خَيْرُ الْعِتَرِ وَ أُسْرَتُهُ خَيْرُ الْأُسَرِ وَ شَجَرَتُهُ خَيْرُ الشَّجَرِ)۱۶
پروردگارنے انہیں بہترین مقامات پر ودیعت رکھااور بہترین منزل میں مستقر کیا۔وہ مسلسل شریف ترین اصلاب سے پاکیزہ ترین ارحام کی طرف منتقل ہوتےرہے کہ جب کوئی بزرگ گزر گیا تو دین خدا کی ذمہ داری بعد والے نے سنبھال لی۔یہاں تک کہ الٰہی شرف حضرت محمد مصطفی  (ص)تک پہنچ گیا اور اس نے انہیں بہترین نشوونما کے معدن اورشریف ترین اصل کے مرکز کے ذریعہ دنیا میں بھیج دیا۔ اسی شجرۂ طیبہ سے جس سے انبیاء کو پیدا کیا اور اپنے امینوں کا انتخاب کیا۔پیغمبر (ص) کی عترت بہترین اور ان کاخاندان شریف ترین خاندان ہے۔ان کا شجرہ بہترین شجرہ ہے۔

۸۔خصوصی تربیت

امام علی علیہ السلام رسول خداصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم     کی خصوصی تربیت کے بارے میں فرماتے ہیں:
 (وَ لَقَدْ قَرَنَ اللَّهُ بِهِ (صلی الله علیه وآله) مِنْ لَدُنْ أَنْ كَانَ فَطِيماً أَعْظَمَ مَلَكٍ مِنْ مَلَائِكَتِهِ يَسْلُكُ بِهِ طَرِيقَ الْمَكَارِمِ وَ مَحَاسِنَ أَخْلَاقِ الْعَالَمِ لَيْلَهُ وَ نَهَارَهُ)۱۷
اسی وقت سے  ہی جب رسول خداصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دودھ چھڑوایا گیا  تواللہ تعالی نے ان کے ساتھ ایک عظیم ترین فرشتہ{جبرئیل} ان کی تربیت پر  مامور کر دیا  جو ان کو نیک اور اچھے راستوں اور بہترین اخلاق کی راہنمائی کرتا تھا اور شب و روز یہی سلسلہ رہا کرتا تھا۔۔
حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں کہ میں  نےرسول خداصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا :
(سمعت رسول الله یقول: ما هممت بشیء مما کان اهل الجاهلیة یعملون به غیر مرتین کل ذلک یحول الله بینی و بین ما ارید من ذلک)18
میں نے کبھی بھی جاہلیت کے زمانے میں معمول کاموں کو انجام دینا نہیں چاہا سوائے دو دفعہ کہ ، ہر بار خدا وند متعال نے میرے اور اس چیز کے درمیان کوئی مانع اوررکاوٹ ڈال دیا۔
امام صادق علیہ السلام پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خصوصی تربیت کے بارے میں فرماتے ہیں:(ان اللہ ادب محمداً (ص) فاحسن تعدیبہ)19خدا وند متعال نے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تربیت کی  اور کتنی اچھی ان کی  تربیت کی۔

حوالہ جات:
۱۔نهج البلاغه،خطبه26.
۲۔ایضا، خطبه ۱۰۶
۳۔ ایضا، خطبه ۱۴۷
۴۔ ایضا، خطبه ۷۲
۵۔ نهج البلاغه،{غریب} کلمه9.
۶۔ نهج البلاغه،خط،۹
۷۔ انبیاء: 107.
۸۔  نهج البلاغه، حکمت88.
۹۔ تفسیر مجمع ا لبیان، ج4، ص67.
۱۰۔ نهج البلاغه، خطبه213.
۱۱۔ ایضا، خطبه ۱۷۸
۱۲۔ ایضا، خطبه ۱
۱۳۔ ایضا، خطبه ۷۲
۱۴۔ ایضا، خطبه ۷۸
۱۵۔ ایضا، خطبه ۲۳۵۔
۱۶۔ ایضا، خطبه ۹۴۔
17. نهج البلاغه، خطبه 192.
18. تاریخ طبری، ج2، ص34؛ سیره حلبی، ج1، ص122، باب ما حفظه فی صغره؛ دلائل النبوة، ج2، ص30۔
۱۹۔ تهذیب الاحکام، ج9، ص279؛ بحارالانوار، ج16، ص210؛ ر.ک، جامع الصغیر، ج1، ص15؛ کنزالعمال، ج11، ص406.

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
1 + 5 =