۳۰ خرداد ۱۴۰۳ |۱۲ ذیحجهٔ ۱۴۴۵ | Jun 19, 2024
مولانا ڈاکٹر فاضل علی فاضلی

حوزہ/ اللہ کیلئے ایک حرم ہے وہ مکہ ہے رسول اللہ (ص) کے لئے ایک حرم پے وہ مدینہ منورہ ہے اور امیر المؤمنین کے لئے ایک حرم ہے وہ کوفہ ہے امام صادق مزید بیان فرماتے ہیں۔ ولنا حرما و ھو قم و ستدفن فیہ امرآہ تسمی فاطمہ من زارھا وجب لہ الجنہ۔ باقی ہم آئمہ کے لئے ایک حرم ہے وہ شہر قم ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،دفتر قائد ملت جعفریہ پاکستان شعبہ خدمت زائرین قم کے زیر اہتمام بتاریخ 11 دسمبر 2021 حرم مطہر حضرت معصومہ (س) دارالتلاوہ میں ایک عظیم الشان مجلس کا انعقاد کیا گیا۔ جس میں زائرین کے کثیر تعداد نے شرکت کی۔

اس مجلس کا آغاز تلاوت قرآن پاک اور زیارت عاشورا سے ہوا اس کے بعد خطیب محترم عالی جناب قبلہ حجہ الاسلام والمسلمین مولانا ڈاکٹر فاضل علی فاضلی صاحب نے خطاب کرتے ہوئے شہر مقدس قم کی اہمیت اور حضرت معصومہ س کی زیارت کی فضيلت پہ کافی روشنی ڈالی اور اس عنوان پہ گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صادق آل محمّد (ع) سے روایت ہے کہ جنت کے آٹھ دروازے ہیں ان میں سے تین دروازے قم کی طرف کھلیں گے۔

اسی طرح انہوں نے امام صادق (ع) کی ایک اور روایت سے سہارا لیتے ہوے شہر مقدس قم کی اہمیت اور زیارت حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا کو یوں بیان کیا۔ کہ اللہ کیلئے ایک حرم ہے وہ مکہ ہے رسول اللہ (ص) کے لئے ایک حرم پے وہ مدینہ منورہ ہے اور امیر المؤمنین کے لئے ایک حرم ہے وہ کوفہ ہے امام صادق مزید بیان فرماتے ہیں۔ ولنا حرما و ھو قم و ستدفن فیہ امرآہ تسمی فاطمہ من زارھا وجب لہ الجنہ۔ باقی ہم آئمہ کے لئے ایک حرم ہے وہ شہر قم ہے عنقریب اس سرزمین میں میرے فرزندوں میں سے ایک فرزند دفن ہونگے اس کا نام فاطمہ ہوگا جو بھی اسے کی زیارت کرے گا جنت اس پر واجب ہے۔ ان روایات کو سننے کے بعد زائرین کافی محسوس ہوے۔

انہوں نے مزید کہا کہ جو بھی حضرت معصومہ س کی زیارت کرے گویا اس نے امام رضا ع کی زیارت کی اور برابر کا ثواب ملے گا۔ اسی موضوع کے بارے میں ڈاکٹر صاحب نے امام رضا (ع) کی ایک روایت پڑھی جس میں امام فرماتے ہیں۔ من زارھا کمن زارنی جس نے میری بہن فاطمہ معصومہ کی زیارت کی گویا اس نے میری زیارت کی۔ پس نتیجہ یہ ہوا معصومہ س کی زیارت گویا امام معصوم کی زیارت کرنے کے برابر ہے۔

انہوں نے کہا کہ امام رضا (ع) کو بہت جلد راضی کرنے اور اپنی حاجات کی بہت جلد برآوری کیلئے سب سے مہم نسخہ جناب سیدہ فاطمہ زھراء سلام اللہ علیہا کا وسیلہ ہے ۔ بی بی پاک کو وسیلہ دے کر امام رضا (ع) سے التجا کریں تو بہت جلد دعا مستجاب ہوتی ہے۔

مولانا فاضلی صاحب نے اسی ضمن میں امام رضا علیہ السلام کی زیارت کی فضیلت پہ بھی مختصر گفتگو کرتے ہوے کہا امام رضا علیہ السلام تین مقامات پر اپنے زائرین کا خیال رکھتے ہیں۔ موت کے وقت قبر میں اور حساب وکتاب کے وقت پھر انہوں نے ایک واقعہ نقل کیا جس کا خلاصہ یہ تھاکہ کہ امام ع اپنے ایک زائرکو جہنم کی دہانے سے نجات دے کر جنت میں داخل فرمایا۔ البتہ اس کیلئے مانگنے کا طریقہ اور سلیقہ آنا چاہیے یعنی مھم ترین وسیلوں کا انتخاب کرنا چاہیے تاکہ بہت جلد آپ کی دعا قبول ہو اور حضرت زہراء سلام اللہ علیہا ان مھم ترین وسیلوں میں سی ایک ہے۔

ڈاکٹر فاضلی صاحب نے کہا کہ حضرت معصومہ کی عظمت یہ ہے کہ ان کی زیارت نامہ بھی زیارت مآثورہ ہے ۔ ان کی زہارت نامہ کا متن بھی معصوم (ع) سے نقل ہوئی ہے ۔ امام رضا علیہ السلام نے اس زیارت نامہ کو نقل فرمایا ہے اور اس بی بی کی زیارت کی تائید کی ہے ۔ حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ کی دوسری عظمت یہ ہے کہ مدینہ منورہ سے ولایت و امامت کی محبت میں حضرت نے سفر کا آغاز کیا اور اس راہ میں بہت سے مصائب و مشقتیں و مشکلات برداشت کیں۔

اسی گفتگو کو آگے بڑھاتے ہوے علامہ فاضلی صاحب نے فرمایا کہ خوش قسمت انسان وہ ہے جس کی عاقبت سنور جاے اور اس کے لئے خدا سے دعا کرنی چاہیے ۔امام رضا (ع) نے حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا کی زیارت میں بھی اس مطلب کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔ اللھم انی اسئلک ان تختم لی بالسعادہ۔ البتہ عاقبت بخير ہونے کیلئے دعا کے ساتھ ساتھ بصیرت کی بھی ضرورت ہے۔ اس ضمن میں علامہ نے امام موسی کاظم علیہ السلام کی ایک روایت پڑھی جس میں آپ فرماتے ہیں: ان فی الارض عبادا یسعون فی حوائج الناس ھم الآمنون یوم القیامه۔ اس روایت سے بخوبی یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ قیامت کے دن امن و سکون سے رہنے والے لوگ وہی ہوں گے جو دنیا میں انسانوں کی مشکل کشائی کے لئے تلاش کرتے رہتے ہیں۔

اسی ضمن میں علامہ فاضلی صاحب نے صاحبان بصیرت کے کچھ نمونے بطور آئیڈیل ذکر کیا جیسے حضرت محمد حنفیہ، شاھزادہ قاسم (ع) حضرت زینب س وغیرہ۔۔ آخر میں مولانا ڈاکٹر فاضل علی فاضلی صاحب نے ذکر مصیبت اور دعائیہ کلمات سے اپنی تقریر کا اختتام کیا۔

تبصرہ ارسال

You are replying to: .