اتوار 30 مارچ 2025 - 17:03
محدثین اور فقہا کا لوگوں کی نجات میں کردار

حوزہ / ائمہ علیہم السلام کے بعد ہمیشہ ایسے حاملان حدیث رہے ہیں جو حق اور باطل، بدعت اور سنت میں تمیز کر سکتے تھے اور لوگوں کو ان گمراہیوں سے بچا سکتے تھے جو فلسفے میں غوطہ ور ہونے، رائج عرفان اور الحادی مکاتب فکر کی طرف میلان کے نتیجے میں پیدا ہوتی تھیں۔

حوزہ نیوز ایجنسی کے مطابق، حضرت آیت اللہ صافی گلپایگانی (رہ) نے کتاب "حدیث خوبان" کے پہلے باب کی پہلی حدیث کی شرح میں ایک تحریر کے ذریعے عصر غیبت کبریٰ میں محدثین اور فقہا کے لوگوں کی نجات میں کردار کو واضح کیا ہے۔ ان کی اس تحریر کو قارئین کے لئے ذیل میں پیش کیا جا رہا ہے:

بسم اللہ الرحمن الرحیم

ائمہ علیہم السلام کے بعد ہمیشہ ایسے حاملان حدیث رہے جو حق اور باطل، بدعت اور سنت میں تمیز کر سکتے تھے اور لوگوں کو فلسفے میں غوطہ لگانے، رائج عرفان اور الحادی مکاتب فکر کی گمراہیوں سے نجات دلا سکتے تھے۔ یہاں تک کہ صفوی دور (جب تشیع کو دوبارہ رسمی حیثیت ملی) میں بعض خاص وجوہات کے باعث شاہ طہماسب اول کی حکومت کے بعد فلسفیانہ رجحانات، صوفیانہ نظریات اور غیر شرعی مکاتب کو فروغ حاصل ہوا۔ یہاں تک کہ اصفہان میں خانقاہیں قائم ہو گئیں اور جلیل القدر عالم آقا حسین خوانساری کو اسلامی القاب کے بجائے "عقل حادی عشر" کے لقب سے پکارا جانے لگا۔

علوم اہل بیت علیہم السلام کا حال یہ تھا کہ محقق داماد انہیں فلسفی اصطلاحات میں بیان کرتے تھے اور نتیجتاً اہل بیت علیہم السلام کی زبان اور ان کی احادیث اجنبیت کا شکار ہو گئی تھیں۔

اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے علامہ مجلسی (رہ) جیسی شخصیت ظاہر ہوئی۔ جنہوں نے حدیث کو اس انداز میں احیا کیا کہ احادیث اہل بیت علیہم السلام نہ صرف مدارس اور علماء کی توجہ کا مرکز بنیں بلکہ شاید ہی ایران میں کوئی گھر ایسا بچا ہو جہاں ان احادیث کا چرچا نہ ہوا ہو۔

اصفہان کی خانقاہیں بند کر دی گئیں، صوفیانہ نظریات کا خاتمہ ہوا اور حدیث کی زبان، قرآن و احادیث کے ظاہری معانی سے استدلال کا رجحان اور ائمہ معصومین علیہم السلام کی زبان حوزات علمیہ اور علماء کی زبان بن گئی۔

بلا شبہ، یہ کہنا چاہیے کہ علامہ مجلسی (رہ) نے تشیع کو ائمہ علیہم السلام اور ان کے اصحاب جیسے زرارہ بن اعین، محمد بن مسلم اور دیگر صاحبان اصول کے دور کی طرف واپس لوٹا دیا۔

یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اس سے پہلے کا دور ائمہ علیہم السلام کے زمانے جیسا تھا لیکن یہ بھی کہنا مشکل ہے کہ وہ مکمل طور پر ان کے زمانے سے مختلف نہ تھا کیونکہ اسلامی اصطلاحات کسی حد تک بدل چکی تھیں اور درس و تدریس اور تصنیف و تالیف کا محور کتاب و سنت اور احادیث اہل بیت علیہم السلام کے گرد نہیں گھوم رہا تھا۔

اگر علامہ مجلسی (رہ) ظاہر نہ ہوتے اور حوزہ ہائے علمیہ اسی روش پر چلتے رہتے تو شریعت ارسطویی، اسلام ابن سینایی، صدرایی اور ابن عربی کے نظریات غالب ہو جاتے اور خدا ہی جانتا ہے کہ آیات و احادیث کی تأویل و توجیہ کا دروازہ کہاں تک وسیع ہوتا!۔

یہ علامہ مجلسی (رہ) ہی تھے جنہوں نے حوزات علمیہ کو اصل دین اور تشیع کی طرف پلٹایا اور قرآن و سنت کو تمام مکاتب فکر پر فوقیت دی۔

شکر اللہ سعیہ و جزاہ اللہ عن ہذا الدین والکتاب والسنۃ خیر جزاء المحسنین۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha