پیر 5 جنوری 2026 - 12:49
روایات کی روشنی میں «بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیم» کے فضائل اور معنوی اثرات

حوزہ/ حجت‌الاسلام والمسلمین شفیعی مازندرانی نے دینی تعلیمات میں «بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیم» کے خصوصی مقام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ہر کام کے آغاز میں اسے پڑھنے کی اہمیت اور اس کے گہرے معنوی اثرات پر زور دیا ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حجت‌الاسلام والمسلمین سید محمد شفیعی مازندرانی نے حوزہ نیوز ایجنسی کے نمائندے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سیرۂ معصومین علیہم السلام میں «بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیم» کو نہایت بلند مقام حاصل ہے۔ یہ نورانی کلمہ ہر بابرکت اور باارزش عمل کی کنجی ہے اور متعدد روایات میں مؤمن کی مادی و معنوی زندگی میں اس کی فضیلت اور اثرات پر تاکید کی گئی ہے۔

استادِ حوزۂ علمیہ نے مزید کہا کہ روایات کے مطابق «بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیم» کی قرائت کا بے پناہ ثواب ہے۔ چنانچہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے:

«جو شخص بسم‌اللہ پڑھتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے ہر حرف کے بدلے چار ہزار نیکیاں لکھتا ہے، چار ہزار گناہ مٹا دیتا ہے اور اس کے چار ہزار درجے بلند فرما دیتا ہے۔»

اسی طرح اس ذکر کی بچوں کو تعلیم دینا، بچے، والدین اور معلم سب کے لیے آتشِ جہنم سے نجات کا سبب بنتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ «بسم‌اللہ» کو خوبصورت خط میں لکھنا بھی موردِ تاکید ہے اور ایک روایت میں اسے مغفرتِ الٰہی کا سبب قرار دیا گیا ہے۔ مزید یہ کہ ہر وہ اہم کام جو «بسم‌اللہ» کے بغیر شروع کیا جائے، ناقص اور بے انجام رہتا ہے، کیونکہ یہی عبارت وحی کا آغاز اور خداوندِ متعال سے ارتباط کا رمز ہے۔

حجت‌الاسلام والمسلمین شفیعی مازندرانی نے رحمتِ الٰہی کے نزول میں «بسم‌اللہ» کے کردار کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ جب بندہ اپنے کام کا آغاز اللہ کے نام سے کرتا ہے تو خداوندِ متعال نے وعدہ فرمایا ہے کہ وہ اس کے کام کو پایۂ تکمیل تک پہنچائے گا اور اس کی زندگی میں برکت عطا فرمائے گا۔ نیز قیامت کے دن یہی ذکر مؤمن کے لیے عذاب سے نجات کا نور بنے گا اور اسمِ اعظمِ الٰہی سے اس کی قربت ایسی ہے جیسے آنکھ کی سیاہی کو اس کی سفیدی سے۔

استادِ حوزہ نے امام حسن عسکری علیہ السلام سے منقول مؤمن کی نشانیوں کا ذکر کرتے ہوئے نماز میں «بسم‌اللہ» کو بلند آواز سے پڑھنے کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ اس عبارت کے حروف کی تفسیر بھی خداوندِ متعال کی عظمت اور اس کی خاص رحمت کی عکاس ہے۔

انہوں نے عملی پیغامات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں خود بھی «بسم‌اللہ» کے ذکر کا اہتمام کرنا چاہیے، اپنے اہلِ خانہ کو اس نورانی ذکر کی عادت ڈالنی چاہیے اور طہارت و اخلاص کے ساتھ اسے زبان پر جاری رکھنا چاہیے، جیسا کہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

«ہمیشہ باوضو رہو تاکہ اللہ تمہاری عمر میں برکت عطا فرمائے۔»

ساتھ ہی اس ثقافت کو دوسروں تک منتقل کرنا چاہیے اور یاد دلانا چاہیے کہ وہ دعا جو «بسم‌اللہ» سے شروع ہو، رد نہیں ہوتی۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha