حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، شہید سید حسن مدرس کے زمانے میں ایک ہوا چلی کہ فارسی زبان سے عربی زبان کے الفاظ کو نکال دیا جائے، اس موضوع پر اتنی باتیں ہونے لگیں کہ یہ کہ ایرانی پارلیمنٹ میں بھی اس پر بحث ہوئی، بات یہاں تک پہنچی کہ اس سلسلے میں ایک قانون بنایا جائے تا کہ عربی زبان کے الفاظ کا فارسی میں استعمال نہ ہو، مرحوم مدرس نے اس فکر کے خلاف قیام کیا اور ایک مذاق کے ذریعے اس قانون کو ہمیشہ کے لئے بحث سے خارج کر دیا۔
شہید مطہری نے مرحوم سید حسن مدرس کا ایک واقعہ نقل کرتے ہوئے کہا:
مرحوم سید حسن مدرس کے زمانے میں ایک ہوا چلی کہ عربی زبان کے الفاظ کو فارسی زبان سے نکال دیا جائے (البتہ ہر کچھ سال کے بعد یہ ہوا ایک بار ضرور چلتی ہے) اس زمانے میں یہ موضوع بہت شدت اختیار کر گیا تھا کہ فارسی زبان میں غیر فارسی خاص کر عربی زبان کے الفاظ کو نکال دیا جائے اور اصلاً دوسری زبان کے الفاظ کا استعمال نہ کیا جائے۔
اس موضوع پر پارلیمنٹ میں بھی بات چلی اور پارلیمنٹ کی جانب ایک قانون پاس ہونے والا تھا کہ فارسی زبان سے عربی زبان کے الفاظ کو نکال دیا جائے، مرحوم سید حسن مدرس نے اس کی مخالفت کی۔
بعض وقت ایک چھوٹا سا مذاق بھی اتنا اثر رکھتا ہے کہ دلیلوں کا انبار بھی اس ایک مذاق کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ سید حسن مدرس نے کہا کہ ٹھیک یے، دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے، انہوں نے جناب اسپیکر کی طرف رخ کرتے ہوئے کہا، آپ کا ہمارا نام حسن ہے، اور آپ کا نام حسین ہے۔
اب اس ناموں کو فارسی میں تبدیل کرتے ہیں،
لہذا میرا نام فارسی میں "نیک" ہو جائے گا اور حسین خون کہ عربی میں حسن کی تصغیر ہے لہذا آپ کا نام "نیکچہ" ہو جائے گا، جیسے دیگ اور دیگچہ! (اسی طرح کی کئی مثالیں پیش کیں)۔
یہ سن کو لوگوں میں قہقہے کی آوازیں بلند ہونے لگیں جس کے بعد یہ قانون مذاق ہی مذاق میں ختم کر دیا گیا۔
حوالہ: استاد مطہری، آشنایی با قرآن، ج6، ص 195









آپ کا تبصرہ