جمعہ 30 جنوری 2026 - 04:00
خاندانی تربیت | ڈانٹ ڈپٹ سے اولاد سنورتی نہیں

حوزہ/ اگر باپ مسلسل بچے کو ٹوکتا رہتا ہے اور گھر کا ماحول تناؤ سے بھر جاتا ہے، تو درست راستہ یہ ہے کہ بچے کو مہارتیں سکھائی جائیں اور اس کے ساتھ تعاون کیا جائے، نہ کہ اسے سرزنش کیا جائے۔ ماں اپنے پُرسکون اور مؤثر لہجے کے ذریعے شوہر کو تربیتِ اولاد کے راستے میں ہم قدم بنا سکتی ہے۔ نرم گفتگو کا اثر، سزا اور بار بار کی نصیحت سے کہیں زیادہ مضبوط ہوتا ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حجت‌الاسلام والمسلمین سید علیرضا تراشیون، معروف خاندانی ماہر اور مشیر، نے موضوع “اولاد پر حد سے زیادہ تنقید اور سرزنش” پر سوال و جواب کی صورت میں گفتگو کی، جو قارئین کی خدمت میں پیش کی جا رہی ہے۔

سوال: میرا شوہر ہمارے آٹھ سالہ بیٹے کو ہر وقت ٹوکتا رہتا ہے اور اس میں عیب نکالتا ہے۔ میں جتنا بھی سمجھاؤں کہ یہ طریقہ غلط ہے، وہ بات نہیں سنتا اور اپنی روش پر قائم رہتا ہے۔ میرے شوہر مزاجاً غصہ ور، عیب جو اور کم گو ہیں۔ اس صورتِ حال کو بہتر طور پر کیسے سنبھالا جا سکتا ہے؟

جواب: عام طور پر تربیت کے معاملات میں بہت سے والدین درست طریقے اپنانے کے بجائے غلط اسالیب اختیار کر لیتے ہیں۔ یہی صورتِ حال بار بار ٹوکنے کے معاملے میں بھی سامنے آتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ ہم کیوں بغیر رُکے بچوں کو نصیحت اور تذکر دیتے رہتے ہیں؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمیں متبادل اور درست طریقے معلوم نہیں ہوتے۔ ہم کیوں مسلسل حکم دیتے اور منع کرتے رہتے ہیں؟ اس لیے کہ ہمیں صحیح تربیتی اصول اور بچوں کے رویّوں سے نمٹنے کے درست طریقے نہیں آتے۔

اگر میں ایک جملے میں اس خاندان کی صورتِ حال کو بیان کروں تو یہ کہنا درست ہوگا کہ یہاں تربیتی نابلدی پائی جاتی ہے۔

یعنی والدین، خاص طور پر والد، کے پاس جو واحد ہتھیار ہے وہ ہے: ٹوکنا، حکم دینا اور بعض اوقات سزا دینا۔ حالانکہ یہ تمام طریقے، جیسا کہ پہلے بھی عرض کیا گیا، دراصل “اینٹی تربیت” ہیں؛ یعنی تربیت کے بجائے الٹا اثر ڈالتے ہیں اور بچے کی شخصیت اور نفسیات کو نقصان پہنچاتے ہیں۔

لہٰذا سب سے پہلا قدم یہ ہونا چاہیے کہ والدین کے تربیتی علم اور مہارتوں میں اضافہ کیا جائے۔

جب کوئی بچہ غلطی کرتا ہے تو اس کی عموماً دو بنیادی وجوہات ہوتی ہیں:

پہلی وجہ: ممکن ہے وہ غلطی بچے کے اختیار میں نہ ہو، بلکہ کسی کمزوری یا ماحولیاتی وجہ سے سرزد ہو گئی ہو۔

مثال کے طور پر، کھیلتے ہوئے بچے کا پاؤں چائے کی ٹرے سے ٹکرا جاتا ہے اور چائے گر جاتی ہے۔ ایسی صورت میں نہ سرزنش کی ضرورت ہے اور نہ نصیحت کی؛ بلکہ ماحول کو محفوظ بنانا چاہیے، مثلاً آئندہ چائے کی ٹرے آمدورفت کی جگہ پر نہ رکھی جائے۔

دوسری وجہ: بعض اوقات بچہ کسی کام کی مہارت ابھی سیکھا ہی نہیں ہوتا۔

مثال کے طور پر جب والدین بار بار کہتے ہیں: “بیٹھو اور ہوم ورک لکھو” یا “تم ہمیشہ کام آخری وقت پر کیوں چھوڑ دیتے ہو؟”

تو درحقیقت وہ تربیت نہیں کر رہے بلکہ صرف ٹوک رہے ہیں۔

ممکن ہے بچہ ابھی منصوبہ بندی کی مہارت نہیں جانتا۔ یہاں والدین کی ذمہ داری یہ ہے کہ اسے وہ مہارت سکھائیں، نہ کہ اسے ملامت کریں۔

اس مرحلے پر بچے کے ساتھ ہمدردی اور تعاون کا رویہ اپنایا جا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر ماں یوں کہہ سکتی ہے: “بیٹا، میں یہ نہیں کہہ رہی کہ ٹی وی نہ دیکھو، تم دیکھ سکتے ہو۔ میں یہ بھی نہیں کہہ رہی کہ کھیل نہ کرو، کھیلنا تمہارا حق ہے۔ لیکن ساتھ ہی ہوم ورک بھی ضروری ہے۔ آؤ، مل کر ایک منصوبہ بناتے ہیں۔ بتاؤ تمہیں کون سا کارٹون زیادہ پسند ہے؟ کس وقت آتا ہے؟ چھ بجے؟ ٹھیک ہے، چھ بجے ٹی وی آن کر لینا اور پروگرام ختم ہوتے ہی بند کر دینا۔ پھر ہم کھیل کے لیے بھی وقت رکھیں گے۔ آؤ کوئی ذہنی کھیل کھیلتے ہیں، جیسے اتل متل یا نگار گیم۔ اس کے بعد اطمینان سے ہوم ورک کر لینا۔”

ایسے ماحول میں گھر پُرسکون ہو جاتا ہے اور کشیدگی کی جگہ تعاون اور شراکت داری لے لیتی ہے۔ یوں بار بار ٹوکنے کے بجائے منصوبہ بندی اور مہارت کی تعلیم دی جاتی ہے۔

اب اس ماں کے سوال کے جواب میں جو شوہر کے رویّے سے نالاں ہیں، یہ عرض کرنا چاہوں گا کہ اگر ممکن ہو تو گھر میں براہِ راست بحث یا تنقید کے بجائے، کچھ وقت تربیتی کتب کے مشترکہ مطالعے کے لیے نکالا جائے۔ یہ کام محبت اور سکون کے ماحول میں کیا جائے تاکہ تصادم کی کیفیت پیدا نہ ہو۔

میں عموماً خواتین کو مشورہ دیتا ہوں کہ وہ اپنی کلامی طاقت کو درست انداز میں استعمال کریں۔ اگر بیوی نرم، مؤثر اور محبت بھرے لہجے میں شوہر سے بات کرے تو اس کے رویّے اور سوچ پر گہرا اثر ڈال سکتی ہے۔

بعض اوقات خواتین انجانے میں سخت، حکم دینے والے یا تنقیدی لہجے میں گفتگو کرتی ہیں، جس کے نتیجے میں شوہر کے اندر چھپی ہوئی ضد اور مزاحمت جاگ اٹھتی ہے۔

ایک مشاورت کے دوران ایک خاتون نے بتایا: “کچھ عرصہ پہلے مجھے معلوم ہوا کہ میرے شوہر کا کسی دوسری عورت سے تعلق ہے۔ میں نے اس عورت کو ڈھونڈ لیا، اس سے جھگڑا کیا اور آخرکار شوہر کو گھر سے نکال دیا۔” جب میں نے پوچھا کہ یہ سب کیوں ہوا، تو کہنے لگیں: “حیرت کی بات یہ ہے کہ وہ عورت میرے شوہر سے تیرہ چودہ سال بڑی تھی، نہ زیادہ خوبصورت تھی اور نہ مالی لحاظ سے بہتر۔ مجھے سمجھ نہیں آتا کہ میرے شوہر اس کی طرف کیوں مائل ہو گئے تھے۔”

میں مسکرایا اور کہا: “شاید آپ خود ہی اس کا جواب جانتی ہیں۔”

اور حقیقتاً ایسا ہی تھا۔ اس عورت میں صرف ایک خوبی تھی: نرم اور شیریں زبان۔ وہ اپنے اندازِ گفتگو سے مرد کا دل جیتنے میں کامیاب ہو گئی تھی۔

یہ واقعہ ایک بڑا سبق دیتا ہے۔ بعض اوقات عورت تمام خوبیوں کے باوجود صرف اس وجہ سے شوہر پر اثر انداز نہیں ہو پاتی کہ اس کا لہجہ سخت یا تلخ ہوتا ہے، جبکہ دوسری عورت محض نرم اور مؤثر زبان کے ذریعے دل جیت لیتی ہے۔

امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ‌السلام فرماتے ہیں: “زبان کی طاقت تلوار سے زیادہ ہے۔

لہٰذا اگر کوئی عورت اپنی گفتگو کے انداز اور بیان کے طریقے پر کام کرے تو وہ شوہر کو اولاد کی تربیت کے سفر میں ایک مؤثر اور ہم قدم ساتھی بنا سکتی ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha