حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ماہِ مبارک رمضان میں ہم ہر روز ’’احکامِ رمضان‘‘ کے عنوان سے آپ کی خدمت میں حاضر ہوتے ہیں۔ اس سلسلے میں رمضان المبارک سے متعلق شرعی احکام، مراجعِ عظام کے فتاویٰ کی روشنی میں اہلِ علم و دانش کے لیے پیش کیے جاتے ہیں۔
حجۃ الاسلام والمسلمین سید محمدتقی محمدی بیان کرتے ہیں:
جو افراد ماہِ مبارک رمضان میں سفر پر جاتے ہیں، مثلاً کوئی شخص قم سے تہران گیا ہو اور واپسی پر ہو، تو اگر واپسی کے دوران اذانِ ظہر ہو جائے اور وہ ابھی قم (اپنے وطن) نہ پہنچا ہو، تو اس کا روزہ باطل ہوگا۔
لیکن اگر وہ اذانِ ظہر سے پہلے شہر قم پہنچ جائے اور اس نے کوئی ایسا کام انجام نہ دیا ہو جو روزہ کو باطل کرتا ہے، تو اس صورت میں وہ روزے کی نیت کرے گا اور اس کا روزہ صحیح ہوگا۔
اب سوال یہ ہے کہ اگر اذان کے وقت وہ "حدِّ ترخص" تک پہنچ چکا ہو، یعنی تقریباً ۱۳۵۰ میٹر شہر قم سے پہلے ہو، لیکن ابھی شہر میں داخل نہ ہوا ہو، تو حکم کیا ہے؟
حضرت آیت اللہ مکارم شیرازی فرماتے ہیں: اگر وہ حدِّ ترخص تک پہنچ چکا ہو اور اسی وقت اذان ہو جائے، تو اس کا روزہ صحیح ہے۔
لیکن مشہور مراجع کا فتویٰ یہ ہے کہ اگرچہ اس کی نماز صحیح ہوگی، مگر روزہ باطل ہوگا، کیونکہ روزے کی صحت کے لیے شرط یہ ہے کہ اذانِ ظہر سے پہلے اپنے وطن (شہر) میں داخل ہو چکا ہو۔









آپ کا تبصرہ