حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ماہِ مبارک رمضان کی بابرکت ساعتوں میں ہم آپ کے لیے خصوصی سلسلہ «احکامِ رمضان» پیش کر رہے ہیں۔ اس سلسلے کے تحت روزانہ رمضان المبارک سے متعلق اہم شرعی مسائل اور ان کے احکام، مراجعِ عظام کے مستند فتاویٰ کی روشنی میں اہلِ علم اور قارئین کی خدمت میں پیش کیے جا رہے ہیں۔
حجتالاسلام والمسلمین سید محمدتقی محمدی کے مطابق:
وہ افراد جو گزشتہ سال روزے نہیں رکھ سکے، خصوصاً بیمار افراد، تین قسموں میں تقسیم ہوتے ہیں:
پہلی قسم:
وہ افراد جو اس سال کے رمضان تک روزوں کی قضا کی قدرت نہیں رکھتے، یعنی جن کی بیماری مستقل نوعیت کی ہے۔ ایسے افراد پر روزوں کی قضا ساقط ہے۔ البتہ ہر روزے کے بدلے ایک مد طعام (یعنی تقریباً ۷۵۰ گرام) گندم، آٹا، روٹی، چاول یا کھجور کسی فقیر کو دینا واجب ہے۔
ہاں، اگر کوئی شخص ۵ سال، ۱۰ سال یا اس سے کم و زیادہ مدت تک بیمار رہا ہو اور بعد میں صحت یاب ہو جائے، تو جس وقت وہ ٹھیک ہو جائے گا، اسی وقت سے اس کی ذمہ داری بدل جائے گی۔ مثال کے طور پر اگر کوئی شخص رمضان ۲۰۲۵ تک بیمار تھا، لیکن رمضان ۲۰۲۶ میں صحت یاب ہو گیا، تو اب وہ روزہ رکھے گا۔
دوسری قسم:
وہ افراد جو گزشتہ سال کے رمضان میں چند دن بیمار رہے اور بعد میں صحت یاب ہو گئے۔ ان پر ان روزوں کی قضا واجب ہے۔ اگر انہوں نے قضا نہیں کی، تو قضا کے ساتھ ساتھ تاخیر کی کفارہ کے طور پر ہر روز کے بدلے ایک مد طعام دینا بھی واجب ہوگا۔
تیسری قسم:
وہ افراد جو بیمار تھے، پھر صحت یاب ہو گئے، قضا کی قدرت بھی رکھتے تھے مگر قضا نہیں کی، اور اب دوبارہ ایسی بیماری میں مبتلا ہو گئے ہیں کہ قضا ممکن نہیں رہی۔ ایسے افراد پر لازم ہے کہ ہر روز کے بدلے مد طعام ادا کریں اور وصیت کریں کہ ان کے انتقال کے بعد ان کے روزوں کی قضا ان کی طرف سے ادا کی جائے۔









آپ کا تبصرہ