ہفتہ 28 فروری 2026 - 04:00
عدالت و انصاف پر گفتگو کرنا ایک دینی اور سماجی ضرورت ہے

حوزہ / حجت الاسلام والمسلمین حبیب اللہ شعبانی نے کہا: تقویٰ صرف انفرادی رویّوں تک محدود نہیں۔ اجتماعی تقویٰ اُس وقت معنی اختیار کرتا ہے جب وہ ملک کے عملی میدانوں میں جیسے ملکی پیداوار کی حمایت، بدعنوانی کا مقابلہ اور اقتصادی عدالت کے نفاذ کی صورت میں ظاہر ہو۔

حوزہ نیوز ایجنسی کے نمائندہ سے گفتگو کرتے ہوئے حجت الاسلام والمسلمین حبیب اللہ شعبانی نے علماء کرام سے مخاطب ہو کر کہا: خطبۂ جمعہ کے منبر سے جو بھی مطالبہ پیش کیا جاتا ہے، وہ عوامی نوعیت رکھتا ہے۔ جب کسی مسئلے کو خطبوں میں بیان کیا جاتا ہے تو وہ درحقیقت عوامی مطالبہ بن جاتا ہے اور اسے دقت، حکمت اور قانون کی بالادستی کے دائرے میں رہتے ہوئے آگے بڑھایا جانا چاہیے۔

انہوں نے عدالت کے موضوع کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مزید کہا: عدالت و انصاف پر گفتگو کرنا ایک دینی اور سماجی ضرورت ہے لیکن بنیادی سوال یہ ہے کہ معاشرے میں عدالت کے تحقق کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے؛ عدالت محض ایک نعرہ نہیں بلکہ ذمہ داریوں کی دقیق تقسیم اور ہر ادارے کے قانونی فرائض کے مطابق عمل کی متقاضی ہے۔

صوبہ ہمدان میں نمائندہ ولی فقیہ نے کہا: تقویٰ کی دعوت صرف انفرادی امور تک محدود نہیں۔ تقویٰ کا ایک سماجی پہلو بھی ہے اور جب وہ معاشرے میں ظاہر ہوتا ہے تو اس کے تحقق میں متولیان اور انتظامی ذمہ داران کا کردار بنیادی ہوتا ہے۔

انہوں نے اسلامی معاشرتی ڈھانچے میں قانون کی بالادستی پر زور دیتے ہوئے کہا: آج ہمارا معاشرہ قانون، ذمہ داریوں کی تقسیم اور اختیارات کی تقسیم کی بنیاد پر چل رہا ہے لہٰذا عدالت خواہی کے تقاضوں میں سے ایک یہ ہے کہ انہی قانونی ساختوں کی پابندی کی جائے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha