حوزہ نیوز ایجنسی کے نمائندہ سے مشہد میں گفتگو کرتے ہوئے حوزہ علمیہ خراسان کی اعلیٰ کونسل کے رکن حجت الاسلام والمسلمین زمانیفرد نے ماہِ مبارک رمضان کے نویں دن کی دعا کے مضامین کی وضاحت کرتے ہوئے کہا: اس دعا میں تین اہم نکات بیان ہوئے ہیں جن میں سے ہر ایک انسان کی معنوی ترقی میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔
انہوں نے اس دعا کے پہلے محور کو خداوندِ متعال کی وسیع رحمت سے بہرہ مند ہونے کی درخواست قرار دیتے ہوئے کہا: خداوند «ارحم الراحمین» ہے اور اس کی رحمت اس کے غضب پر سبقت رکھتی ہے۔ روایات میں آیا ہے کہ قیامت کے دن رحمتِ الٰہی اس قدر وسیع ہو گی کہ حتیٰ شیطان بھی خدا کی رحمت کی طمع کرے گا کیونکہ پروردگارِ عالم بے شمار گناہ گاروں کو اپنی مغفرت اور بخشش میں شامل فرما دے گا۔
حوزہ علمیہ خراسان کی اعلیٰ کونسل کے رکن نے کہا: ماہِ مبارک رمضان میں رحمتِ الٰہی کے جلوے دیگر اوقات کے مقابلے میں زیادہ نمایاں ہوتے ہیں۔ اس دعا میں ہم خدا سے درخواست کرتے ہیں کہ ہمیں بھی اپنی وسیع رحمت سے نوازے۔
انہوں نے مزید کہا: بدترین گناہ خدا کی رحمت سے مایوسی ہے اور انسان کو کبھی بھی بارگاہِ الٰہی سے ناامید نہیں ہونا چاہیے۔ خداوندِ متعال قرآنِ کریم میں فرماتا ہے: اے میرے وہ بندو جنہوں نے اپنے اوپر زیادتی کی ہے، خدا کی رحمت سے ناامید نہ ہو۔
حجت الاسلام والمسلمین زمانیفرد نے کہا: ماہِ مبارک رمضان میں ہماری امید ہمارے اعمال سے زیادہ خدا کی لامحدود رحمت پر ہونی چاہیے کیونکہ جب اس کی رحمت شاملِ حال ہو جائے تو نجات کا راستہ خود بخود ہموار ہو جاتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا: ماہِ مبارک رمضان کو دلوں میں محبتِ الٰہی کے شعلے روشن کرنے کا ذریعہ بننا چاہیے کیونکہ جب خدا کی محبت دل میں جاگزیں ہو جائے تو دیگر تمام کمالات خود اس کے پیچھے آ جاتے ہیں۔
حوزہ علمیہ خراسان کی اعلیٰ کونسل کے رکن نے دعا کرتے ہوئے کہا: ہمیں امید ہے کہ خداوندِ متعال تمام روزہ داروں کے روزے اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ہمارے مولا حضرت ولی عصر علیہ السلام کے ظہور میں تعجیل فرمائے۔









آپ کا تبصرہ