حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حضرت آیت اللہ سید مجتبی حسینی خامنہ ای رہبر معظم انقلاب اسلامی کا پہلا پیغام جاری کر دیا گیا۔ جسکا مکمل متن مندرجہ ذیل ہے؛
بسم الله الرّحمن الرّحیم
"ما ننسخ من آیة أو ننسها نأت بخیر منها أو مثلها" (ہم جس آیت کو منسوخ کر دیتے ہیں یا بھلا دیتے ہیں تو اس سے بہتر یا اس جیسی لاتے ہیں)
اَلسَّلَامُ عَلَیْكَ یَا دَاعِیَ ﷲِ وَرَبَّانِیَّ اٰیَاتِہٖ
اَلسَّلَامُ عَلَیْكَ یَا بَابَ ﷲِ وَدَیَّانَ دِیْنِہٖ
اَلسَّلَامُ عَلَیْكَ یَا خَلِیْفَۃَ ﷲِ وَنَاصِرَ حَقِّہٖ
اَلسَّلَامُ عَلَیْكَ یَا حُجَّۃَ ﷲِ وَدَلِیْلَ اِرَادَتِہٖ
اَلسَّلَامُ عَلَیْكَ ٲَیُّھَا الْمُقَدَّمُ الْمَٲْمُوْلُ
اَلسَّلَامُ عَلَیْكَ بِجَوَامِعِ السَّلَامِ
السلام عليك يا مولاي صاحب الزمان عجل الله تعالی فرجه صلوات الله عليهم اجمعين
اپنی گفتگو کے آغاز میں اپنے مولا عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے حضور انقلاب کے عظیم الشان رہبر، عزیز، حکیم خامنہ ای کی دل سوز شہادت پر تعزیت پیش کرتا ہوں اور ان کی ذات گرامی سے دعائے خیر کی درخواست کرتا ہوں، جو عظیم ملت ایران بلکہ تمام عالم اسلام اور اسلام و انقلاب کے تمام خادموں، ایثارگروں اور شہدائے تحریک اسلامی اور بالخصوص حالیہ جنگ کے شہداء کے لواحقین اور میرے حق میں ہو۔
میری گفتگو کا دوسرا حصہ عظیم ملت ایران کو مخاطب ہے۔ سب سے پہلے میں مجلس محترم خبرگان میں اپنے ووٹ کے بارے میں اپنی حیثیت اور موقف کو مختصراً بیان کرنا چاہوں گا۔ آپ کا یہ خادم سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای بھی آپ ہی کی طرح اور آپ کے ساتھ ہی اسلامی جمہوریہ کے ٹیلی ویژن کے ذریعے مجلس محترم خبرگان کے نتیجے سے مطلع ہوا۔ میرے لیے ایسی جگہ بیٹھنا مشکل ہے جو دو عظیم الشان پیشواؤں، خمینی کبیر اور شہید خامنہ ای کے بیٹھنے کی جگہ رہی ہو۔ کیونکہ اس کرسی پر بیٹھنے کا سابقہ ایسی شخصیت کو حاصل ہے جو اللہ کی راہ میں ۶۰ سال سے زیادہ مجاہدہ کرنے اور ہر قسم کی لذتوں اور آسائشوں سے گزرنے کے بعد نہ صرف موجودہ دور بلکہ اس ملک کے حکمرانوں کی پوری تاریخ میں ایک تابندہ گوہر اور ممتاز چہرہ بن گئی۔ ان کی زندگی اور ان کی موت کا انداز، دونوں حق پر سہارے کی وجہ سے شان و عزت سے جڑے ہوئے تھے۔
مجھے یہ سعادت حاصل ہوئی کہ ان کے پیکر کی شہادت کے بعد زیارت کی۔ جو کچھ میں نے دیکھا، وہ کوہِ استقامت تھے اور میں نے سنا کہ ان کے صحت مند ہاتھ کی مٹھی بندھی ہوئی تھی۔ ان کی شخصیت کے مختلف پہلوؤں کے بارے میں باخبر افراد کو چاہیے کہ وہ طویل عرصے تک انکے بارے میں گفتگو کریں۔ اس موقع پر صرف اسی مختصر بیان پر اکتفا کرتا ہوں اور تفصیلات کو کسی اور مناسب موقع کے لیے چھوڑتا ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ ایسی شخصیت کے بعد رہبری کی کرسی پر بیٹھنا مشکل ہے۔ اس خلا کو پر کرنا صرف اللہ تعالیٰ سے استعانت اور آپ لوگوں کے تعاون سے ممکن ہے۔
اس سلسلے میں ایک نکتے پر تاکید کرنا ضروری ہے جس کا میری اصل بات سے براہ راست تعلق ہے۔ وہ نکتہ یہ ہے کہ شہید رہبر اور ان کے بزرگ پیشرو کے فنون میں سے ایک، عوام کو تمام میدانوں میں شامل کرنا، انہیں مسلسل بصیرت اور آگاہی دینا اور عملی طور پر ان کی طاقت پر بھروسہ کرنا تھا۔ انہوں نے اسی طرح جمہور اور جمہوریت کے حقیقی معنی کو عملی جامہ پہنایا اور دل و جان سے اس پر ایمان رکھتے تھے۔ اس مضمون کا واضح اثر ان چند دنوں میں دیکھا گیا جب ملک بغیر رہبر اور بغیر کمانڈر ان چیف کے تھا۔ عظیم ملت ایران کی بصیرت اور ذہانت، حالیہ واقعے میں ان کی استقامت، بہادری اور میدان میں موجودگی نے دوست کو تحسین اور دشمن کو حیرت پر مجبور کر دیا۔ یہ آپ لوگ تھے جنہوں نے ملک کی رہبری کی اور اس کے اقتدار کی ضمانت دی۔ اس تحریر کے آغاز میں جو آیت درج کی ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کی کوئی نشانی ایسی نہیں جس کی مدت ختم ہو جائے یا اسے بھلا دیا جائے، مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ اس سے بہتر یا اس جیسی اور نشانی عطا فرما دے۔
اس آیت کریمہ کو استعمال کرنے کا مقصد یہ نہیں کہ یہ بندہ شہید رہبر کے مرتبے کا حامل ہے، یا یہ کہ میں ان سے برتر سمجھا جاؤں؛ بلکہ اس مبارک آیت کے ذکر کا مقصد آپ عزیز ملت کے اہم اور بھرپور کردار کی طرف توجہ دلانا ہے۔ اگر وہ عظیم نعمت ہم سے چھین لی گئی تو اس کے بدلے ایک بار پھر ملت ایران کی عمارانہ موجودگی اس نظام کو عطا ہوئی۔ یہ جان لیں کہ اگر میدان میں آپ کی طاقت ظاہر نہ ہو، تو نہ کوئی رہبر اور نہ کوئی اور ادارہ جس کا اصل مقام عوام کی خدمت ہے، مطلوبہ کارکردگی نہیں دکھا سکتا۔
اس بات کو بہتر طور پر عملی جامہ پہنانے کے لیے، اولاً اللہ وحدہٗ لا شریک کو یاد کرنا، اس پر توکل کرنا اور معصومین علیہم السلام کے انوار طیبہ سے توسل کرنا چاہیے، کیونکہ یہ ایک ایسا عظیم کیمیا ہے جو ہر قسم کی کشائش اور دشمن پر قطعی فتح کی ضمانت دیتا ہے۔ یہ وہ عظیم برتری ہے جو آپ کو حاصل ہے اور آپ کے دشمن اس سے محروم ہیں۔
ثانیاً، عوام کے مختلف افراد و طبقات کے درمیان اتحاد، جو عموماً مشکل حالات میں خاص طریقے سے نمایاں ہوتا ہے، اس میں کوئی خلل نہیں آنے دینا چاہیے۔ یہ اختلافی نکات کو نظر انداز کرنے سے حاصل ہوگا۔
ثالثاً، میدان میں مؤثر موجودگی برقرار رکھنی چاہیے، خواہ وہ اس طرح ہو جو آپ نے جنگ کے ان دنوں اور راتوں میں دکھائی، یا مختلف سماجی، سیاسی، تربیتی، ثقافتی اور حتیٰ کہ امنیتی میدانوں میں مؤثر کردار ادا کرنے کی صورت میں۔ اہم بات یہ ہے کہ صحیح کردار کو سمجھا جائے، معاشرتی اتحاد میں خلل ڈالے بغیر اسے بخوبی سمجھا جائے اور حد امکان تک اس پر عمل کیا جائے۔ رہبری اور بعض دوسرے ذمہ داروں کے فرائض میں سے ایک معاشرے کے افراد یا طبقات کو ان میں سے بعض کرداروں سے آگاہ کرنا ہے۔ اسی لیے یوم القدس کے مارچ میں موجودگی کی اہمیت پر تاکید کرتا ہوں کہ اس میں دشمن شکن عنصر پر سب کو توجہ دینی چاہیے۔
رابعا: آپ کو ایک دوسرے کی مدد اور تعاون سے ہرگز گریز نہیں کرنا چاہیے۔ بحمداللہ زیادہ تر ایرانیوں کی ہمیشہ سے یہی عادت رہی ہے اور امید ہے کہ ان خاص دنوں میں، کہ جب فطری طور پر بعض افراد پر دوسروں کی نسبت یہ ایام زیادہ سخت گزر رہے ہوں گے، یہ بات زیادہ نمایاں ہوگی۔ اسی موقع پر میں خدمات انجام دینے والے اداروں سے درخواست کرتا ہوں کہ اس سلسلے میں عوام کے ان عزیز افراد اور عوامی امدادی ڈھانچوں کی کسی بھی قسم کی مدد اور اعانت سے دریغ نہ کریں۔
اگر ان پہلوؤں کا خیال رکھا گیا تو آپ عزیز ملت کا عظمت اور شان و شوکت کے دنوں تک پہنچنے کا راستہ ہموار ہوگا۔ اس کی قریب ترین مثال ان شاء اللہ موجودہ جنگ میں دشمن پر فتح ہے۔
میرے کلام کا تیسرا حصہ، ہمارے بہادر مجاہدین کا دل سے شکریہ ادا کرنا ہے جنہوں نے ایسے حالات میں جب ہماری عزیز قوم اور وطن پر استکبار کے محاذ کے سرداروں کی طرف سے مظلومانہ حملہ کیا گیا، اپنی کاری ضربوں سے دشمن کا راستہ روک دیا اور انہیں عزیز وطن پر تسلط اور ممکنہ طور پر اس کے ٹکڑے کرنے کی خام خیالی سے باہر نکال دیا۔
عزیز مجاہد بھائیو! عوام کی اکثریت کا مطالبہ، مؤثر اور دشمن کو پچھتانے پر مجبور کرنے والا دفاع جاری رکھنا ہے۔ نیز یقیناً آبنائے ہرمز کو بند کرنے کے ہتھیار کا استعمال جاری رہنا چاہیے۔ دوسرے محاذ کھولنے کے بارے میں، جن میں دشمن کا تجربہ نہ ہونے کے برابر ہے اور جہاں وہ شدید طور پر کمزور ہوگا، تحقیقات کی گئی ہیں اور جنگی صورتحال کے جاری رہنے اور مصلحت کی بنا پر اسے فعال کیا جائے گا۔
اسی طرح مزاحمتی محاذ کے مجاہدین کا دلی شکریہ ادا کرتا ہوں۔ ہم مزاحمتی محاذ کے ممالک کو اپنا بہترین دوست سمجھتے ہیں اور مزاحمت اور مزاحمتی محاذ کا معاملہ، انقلاب اسلامی کی اقدار کا ایک ناقابلِ تقسیم حصہ ہے۔ بلا شبہ اس محاذ کے اجزاء کا ایک دوسرے کے ساتھ تعاون، صیہونی فتنے سے نجات کے راستے کو مختصر کرتا ہے؛ جیسا کہ ہم نے دیکھا کہ بہادر اور باایمان یمن نے مظلوم عوام غزہ کے دفاع سے ہاتھ نہیں اٹھایا اور حزب اللہ لخت جگر اور عزیز، تمام رکاوٹوں کو دور کرتے ہوئے اسلامی جمہوریہ کی مدد کو آیا ہے اور عراق کی مزاحمت نے بھی بہادری سے یہی خط اختیار کیا ہے۔
چوتھے حصے میں میرا خطاب ان لوگوں سے ہے جو ان چند دنوں میں کسی نہ کسی طرح متاثر ہوئے ہیں۔ خواہ وہ جنہوں نے کسی عزیز یا عزیزوں کی شہادت کا غم جھیلا ہو، یا وہ جو زخمی ہوئے ہوں، اور خواہ وہ افراد جن کے گھر بار یا کاروبار کو نقصان پہنچا ہو۔ اس حصے میں اولاً میں شہدائے والامقام کے لواحقین سے اپنی گہری ہمدردی کا اظہار کرتا ہوں۔ یہ اس مشترکہ تجربے کی بنیاد پر ہے جو میں ان بزرگوں کے ساتھ رکھتا ہوں؛ میرے والد کے علاوہ، جن کی جدائی کا غم ایک عمومی مسئلہ بن گیا، میں نے اپنی عزیز اور پارسا اہلیہ کو جس سے مجھے امیدیں تھیں، اور اپنی فداکار بہن کو جس نے اپنے آپ کو والدین کی خدمت کے لیے وقف کر دیا تھا اور آخر کار اسے اپنا اجر ملا، نیز اس کے چھوٹے بچے کو اور اپنی دوسری بہن کے شوہر کو جو ایک عالم اور شریف انسان تھا، شہداء کے قافلے کے سپرد کیا ہے۔ لیکن جو چیز مصائب پر صبر کو ممکن اور آسان بھی بنا دیتی ہے، وہ صبر کرنے والوں کے لیے اللہ کے حتمی اور قطعی وعدۂ اجر پر توجہ ہے۔ لہٰذا صبر کرنا چاہیے اور اللہ تعالیٰ کے فضل اور مدد پر امید اور بھروسہ رکھنا چاہیے۔
ثانیاً میں سب کو یہ یقین دلاتا ہوں کہ ہم آپ کے شہداء کے خون کا بدلہ لینے سے ہرگز چشم پوشی نہیں کریں گے۔ ہمارے پیش نظر انتقام، قطعی طور پر انقلاب کے عظیم الشان رہبر کی شہادت سے متعلق نہیں ہے؛ بلکہ قوم کا ہر وہ فرد جو دشمن کے ہاتھوں شہید ہوتا ہے، خود انتقام کے مسئلے کا ایک آزاد موضوع ہے۔ البتہ اس انتقام کا ایک محدود حصہ ابھی تک عملی شکل اختیار کر چکا ہے لیکن جب تک اس کی مکمل حد حاصل نہیں ہو جاتی، یہ مسئلہ باقی مسائل پر فوقیت رکھے گا اور خصوصاً ہمارے بچوں اور ننھے بچوں کے خون کے بارے میں ہم زیادہ حساسیت رکھیں گے۔ لہٰذا دشمن نے مدرسہ شجرہ طیبہ میناب اور اسی طرح کے بعض دیگر واقعات میں جان بوجھ کر جو قتل عام کیا ہے، اس کی اہمیت اس معاملے میں خاص ہے۔
ثالثاً ان حملوں کے زخمیوں کو لازماً مناسب علاج معالجے کی خدمات مفت حاصل ہونی چاہئیں اور کچھ دیگر مراعات سے بھی فائدہ اٹھانا چاہیے۔
رابعاً جہاں تک موجودہ صورتحال اجازت دے، عمارتوں اور ذاتی املاک کو پہنچنے والے مالی نقصانات کے ازالے کے لیے مناسب، معین اور قابل عمل اقدامات کیے جائیں۔ آخری دو نکات محترم ذمہ داروں کے لیے ایک لازمی الاجرا ذمہ داری کی حیثیت رکھتے ہیں جسے انہیں پورا کرنا ہوگا اور مجھے اس کی رپورٹ دینی ہوگی۔
ایک نکتہ جسے یاد دلانا چاہوں گا وہ یہ ہے کہ بہر صورت ہم دشمن سے تاوان لیں گے اور اگر وہ انکار کرے تو جہاں تک ہم مناسب سمجھیں گے اس کے اموال میں سے لیں گے اور اگر وہ بھی ممکن نہ ہو تو اسی مقدار میں اس کے اموال کو تباہ کر دیں گے۔
کلام کا پانچواں حصہ، ہمارے خطے کے بعض ممالک کے سربراہان مملکت اور مؤثر سطحوں سے خطاب ہے۔ ہماری ۱۵ ممالک کے ساتھ خشکی یا آبی سرحد ہے اور ہم ہمیشہ ان سب کے ساتھ گرمجوشی اور تعمیری رابطے کے خواہاں رہے ہیں اور ہیں۔ لیکن دشمن نے برسوں پہلے سے ان میں سے بعض ممالک میں دھیرے دھیرے فوجی اور مالی اڈے قائم کیے تاکہ خطے پر اپنا تسلط یقینی بنا سکے۔ حالیہ حملے میں بعض فوجی اڈوں کا استعمال کیا گیا، جس پر ہم نے قدرتی طور پر، جیسا کہ ہم نے صریح وارننگ دی تھی اور ان ممالک پر کوئی حملہ کیے بغیر، صرف انہی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے۔ آئندہ بھی ہم یہ کام جاری رکھیں گے، اگرچہ ہم اب بھی اپنے اور ان پڑوسیوں کے درمیان دوستی کی ضرورت کے قائل ہیں۔ ان ممالک کو ہمارے عزیز وطن پر حملہ آوروں اور ہماری قوم کے افراد کے قاتلوں کے ساتھ اپنا تکلیف واضح کرنا چاہیے۔ میں سفارش کرتا ہوں کہ وہ جلد از جلد ان اڈوں کو بند کر دیں؛ کیونکہ اب تک وہ سمجھ گئے ہوں گے کہ امریکہ کی طرف سے امن و سلامتی قائم کرنے کا دعویٰ محض جھوٹ تھا۔
یہ امر انہیں اپنی ان قوموں کے ساتھ زیادہ تعلق جوڑنے میں مدد دے گا جو عام طور پر کفر کے محاذ کے ساتھ شامل ہونے اور اس کے توہین آمیز رویے سے ناخوش ہیں اور ان کی دولت اور طاقت میں اضافہ کرے گا۔ میں دوبارہ کہتا ہوں کہ اسلامی جمہوریہ نظام، خطے میں تسلط اور استعمار کو قائم کیے بغیر، تمام پڑوسیوں کے ساتھ اتحاد اور گرمجوشی اور خلوص پر مبنی باہمی تعلقات کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
چھٹے حصے میں میرا خطاب ہمارے شہید رہبر سے ہے۔ رہبر! آپ نے اپنے جانے سے سب کے دلوں پر ایک شدید غمگین کردیا ہے۔ آپ ہمیشہ اس انجام کے مشتاق تھے کہ آخر کار اللہ تعالیٰ نے ماہ رمضان المبارک کی دسویں تاریخ کی صبح قرآن کریم کی تلاوت کے دوران آپ کو عطا فرما دیا۔ آپ نے بہت سی مظلومیتوں کو پوری طاقت اور بردباری سے برداشت کیا اور کبھی پیشانی پر خم نہیں آیا۔ بہت سارے افراد نے آپ کی اصل قدر کو نہیں پہچانا اور شاید اب کافی عرصہ لگے گا جب طرح طرح کے پردے اور رکاوٹیں ہٹیں گی اور اس کے کچھ گوشے وا ہوں گے۔
ہم امید کرتے ہیں کہ آپ انوار طیبہ، صدیقین، شہداء اور اولیاء کے جوار میں آپ کو حاصل ہونے والے مقام قرب کی بنا پر، اس قوم اور مزاحمتی محاذ کی تمام قوموں کی ترقی کے بارے میں فکر مند رہیں گے اور اس کے لیے سفارش کرتے رہیں گے، جیسا کہ آپ اپنی دنیوی زندگی میں تھے۔ ہم آپ سے عہد کرتے ہیں کہ اس پرچم کی بلندی کے لیے، جو حق کے محاذ کا اصل پرچم ہے، اور آپ کے مقدس مقاصد کے حصول کے لیے پوری جان و تن سے کوشش کریں گے۔
ساتویں حصے میں ان تمام بزرگ ہستیوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے میری حمایت کی ہے، جن میں مراجع عظام تقلید اور مختلف ثقافتی، سیاسی، سماجی شخصیات اور عوام کے وہ افراد شامل ہیں جو نظام کے ساتھ دوبارہ بیعت کے اظہار کے لیے پر شکوہ اجتماعات میں حاضر ہوئے، نیز تینوں قوتوں کے ذمہ داران اور رہبری کی عارضی کونسل کا ان کے اچھے انتظامات اور اقدامات پر شکریہ ادا کرتا ہوں۔
امید ہے کہ اللہ تعالیٰ کی خاص عنایات ان بابرکت گھڑیوں اور دنوں میں تمام ملت ایران بلکہ تمام مسلمین اور عالم کے مستضعفین کا شامل حال ہوں۔
اور آخر میں اپنے مولا امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف سے درخواست کرتا ہوں کہ شب قدر اور ماہ رمضان المبارک کے بقیہ ایام میں اللہ تعالیٰ کے حضور ہماری قوم کے لیے دشمن پر قطعی غلبہ اور ساتھ ہی عزت، وسعت اور عافیت، اور ان کے رفقاء کے لیے اخروی مقامات اور عافیت کی دعا فرمائیں۔
والسلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ و تحیاتہ
سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای
1404/12/21 مطابق 22 / رمضان المبارک / 1437









آپ کا تبصرہ