بدھ 8 اپریل 2026 - 18:04
ایران کی کامیابی، 'دوسری فتحِ خیبر' کی علامت: مولانا احمد رضا رضوی زرارہ

حوزہ/ مجلس علماء ہند شعبہ قم کے سربراہ مولانا سید احمد رضا رضوی زرارہ نے کہا کہ ایران اور امریکہ و اسرائیل کے درمیان حالیہ جنگ میں ایران کی فتح، تاریخی انصاف اور اتحاد و ایمان کی طاقت کی ایک واضح مثال ہے۔ انہوں نے اسے "دوسری فتحِ خیبر" قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ صرف ہتھیاروں کی نہیں بلکہ نظریات، حوصلے اور قربانی کی جنگ تھی، جس نے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ نظریاتی مضبوطی اور عوامی اتحاد ہی حقیقی طاقت ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مجلس علماء ہند شعبہ قم کے سربراہ مولانا سید احمد رضا رضوی زرارہ نے کہا کہ دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی طاقت کے نشے میں ڈوبی ہوئی قوتیں مظلوم اقوام پر اپنی برتری قائم کرنے کی کوشش کرتی ہیں تو آخرکار حق کی آواز ہی غالب آتی ہے۔ ایران امریکہ اور غاصب اسرائیلی خونخواروں کے درمیان حالیہ جنگ بھی اسی تاریخی تسلسل کی ایک کڑی تھی، جس کا انجام بالآخر ایران کی کامیابی اور فتح مبین کی صورت میں نکلا۔ اس کامیابی کو ہم نے “دوسری فتحِ خیبر سے اسلیے تعبیر کیا ہے کہ کچھ مھینوں پہلے مرحب و عنتر کی ناجائز اولادوں نے عالم اسلام کو چلینج کرتے ہوئے کہا تھا کہ فتح خیبر تمھاری آخری فتح تھی اب ہمارا دور ہے ابوسفیانی عالم اسلام کے علمبرداروں کی غیرت تو نہیں جاگی مگر کاروان حسینی کے پیروکار نے اس پوچ دعوے کو چند مھینہ کے اندر ہی دو مرتبہ شکست دیکر بتایا کہ نہ علی علیہ السلام کے ماننے والوں کے بازو شل ہوئے ہیں نہ تلوار کی کاٹ میں کمی آئی ہے اور عالم اسلام کی آبرو بچاکر حسینیوں نے اعلان کردیا ہے کہ ہماری غیرت و حمیت کو چیلنج کرنے سے پہلے اپنے آباؤاجداد کی تاریخ ضرور دھرا لینا آج حقیقی مدافعین اسلام نے اسلام کو استقامت، ایمان اور مزاحمت کی علامت بنا دیا ہے

انہوں نے کہا کہ فتحِ خیبر اسلامی تاریخ کا ایک عظیم واقعہ ہے، جہاں محدود وسائل کے باوجود مولائے کائنات نے اپنے عزم، خدائی طاقت اور یقینِ محکم کے ذریعے ایک مضبوط قلعہ فتح کیا۔ آج کے دور میں ایران کی کامیابی کو اسی تناظر میں دیکھا جانا چاہیئے وہ قلعہ بھی قوت و طاقت کا سنبل بنایا گیا تھا اور وہ بھی چالیس دن کے بعد فتح ہوا تھا اور یہ بھی چالیس دن کے بعد فتح ہوا ہے جہاں ایک طرف جدید اسلحے اور عالمی طاقت کی نمائندگی تھی، تو دوسری جانب خودداری، قومی غیرت اور نظریاتی قوت۔

مزید کہا کہ یہ جنگ صرف ہتھیاروں کی جنگ نہیں تھی بلکہ بیانیے، حوصلے اور نظریات کی جنگ تھی۔ امریکہ،اور غاصب اسرائیل جسے دنیا کی سب سے بڑی عسکری طاقت سمجھا جاتا ہے، اس نے اپنی برتری قائم رکھنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی۔ لیکن ایران نے ثابت کیا کہ جنگیں صرف ٹیکنالوجی سے نہیں بلکہ عزم و حوصلے سے جیتی جاتی ہیں۔ ایرانی عوام کا اتحاد، ان کی قیادت پر اعتماد، اور اپنے وطن کے دفاع کا جذبہ اس کامیابی کی بنیاد بنا۔

مجلس علماء ہند شعبہ قم کے سربراہ نے کہا کہ “دوسری فتحِ خیبر” کا تصور دراصل اس بات کی علامت ہے کہ تاریخ خود کو دہراتی ہے۔ جب بھی کوئی قوم اپنے اصولوں پر قائم رہتی ہے، تو وہ بڑی سے بڑی طاقت کو بھی شکست دے سکتی ہے۔ اس جنگ نے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ چھوٹی یا بڑی طاقت کا معیار صرف اسلحہ نہیں بلکہ نظریاتی مضبوطی اور عوامی حمایت بھی ہے۔

مولانا سید احمد رضا رضوی زرارہ نے کہا کہ اس کامیابی کے اثرات صرف خطے تک محدود نہیں رہے گیں بلکہ عالمی سیاست پر بھی گہرے اثرات مرتب ہونگے بہت سی دبائ گئ اقوام کو اس واقعے سے حوصلہ ملے گا اور اپنی خودمختاری کے لیے آواز بلند کرے گیں۔ یہ جنگ ایک نئی عالمی ترتیب کی طرف اشارہ کرتی ہے جہاں یکطرفہ طاقت کا دور ختم ہو رہا ہے۔

آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ “دوسری فتحِ خیبر” صرف ایک جنگ کی کامیابی نہیں بلکہ ایک نظریے کی فتح ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ جب ایمان، اتحاد اور قربانی ایک ساتھ جمع ہو جائیں تو تاریخ کا دھارا بدل سکتا ہے۔ یہی پیغام آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha