حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، بحرینی عالم دین اور قم میں بحرینیوں کے حوزہ علمیہ کے مدیر، حجۃ الاسلام والمسلمین شیخ عبداللہ الدقاق نے انقلاب اسلامی ایران کی سالگرہ کے موقع پر اپنے ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ یہ انقلاب کسی ایک ملک تک محدود نہیں بلکہ پورے عالم اسلام بلکہ دنیا کے تمام حریت پسندوں کا سرمایہ ہے۔
انہوں نے انقلاب اسلامی کی کامیابی یعنی11 فروری 1979ء (22 بہمن) کو ’’انفجارِ نور‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ انقلاب اسلامی ایک ایسی تاریخی تبدیلی تھی جس نے نہ صرف ایران بلکہ پوری دنیا کے مظلوم اور آزادی پسند اقوام کو نیا حوصلہ دیا۔
شیخ عبداللہ الدقاق نے کہا کہ 22 بہمن کا دن اس حقیقت کی یاد دہانی کراتا ہے کہ قومیں اس وقت تک آزادی حاصل نہیں کر سکتیں جب تک وہ خود میدان میں نہ آئیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ جب کوئی ملت قیام کرتی ہے تو اسے ثابت قدمی اور استقامت کا مظاہرہ بھی کرنا ہوتا ہے، کیونکہ جدوجہد کے بغیر عزت اور آزادی ممکن نہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ انقلاب اسلامی کا پیغام سرحدوں کا پابند نہیں ہے۔ یہ پیغام پوری امت مسلمہ کے لیے ہے کہ وہ عالمی استکبار کے مقابلے میں ثابت قدم رہے۔ ان کے بقول 22 بہمن ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ اگر اسلامی امت اتحاد اور پائیداری کا مظاہرہ کرے تو وہ دشمنوں کی سازشوں کو ناکام بنا سکتی ہے۔
بحرینی عالم دین نے اس بات پر بھی تاکید کی کہ انقلاب اسلامی کی کامیابی اس بات کا عملی ثبوت ہے کہ جب عوام متحد ہو کر ظلم و استبداد کے خلاف کھڑے ہو جاتے ہیں تو بڑی سے بڑی طاقت بھی انہیں شکست نہیں دے سکتی۔
انہوں نے اپنے پیغام کے اختتام پر کہا کہ 22 بہمن صرف ایک قومی دن نہیں بلکہ عالمی سطح پر آزادی، مزاحمت اور استقامت کی علامت ہے، جو تمام آزاد انسانوں کے لیے امید اور بیداری کا پیغام رکھتا ہے۔









آپ کا تبصرہ