حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، عالمِ اسلام کے علما، مفکرین اور ممتاز افراد کے ایک گروہ نے ولیِ امرِ مسلمینِ جہان کے فرمان پر لبیک کہتے ہوئے وڈیو پیغامات جاری کیے اور انقلابِ اسلامی کے ۲۲ بہمن کی اسٹریٹجک اہمیت اور مقام پر زور دیا۔
رپورٹ کے مطابق ان پیغامات میں واضح کیا گیا کہ ۲۲ بہمن صرف ملتِ ایران سے مخصوص نہیں بلکہ پوری امتِ اسلامی کے لیے ایک تاریخی اور الہام بخش دن ہے۔ ان کے نزدیک ۲۲ بہمن عالمی استکبار کے مقابل امتِ اسلامی کی استقامت، عزم اور پائیداری کی علامت ہے۔
انہوں نے تاکید کی کہ انقلابِ اسلامی ایران جو ۲۲ بہمن کو کامیاب ہوا، امتِ اسلامی اور دنیا کے تمام آزاد انسانوں کے لیے ایک عظیم درس رکھتا ہے؛ ایسا درس جو یہ ثابت کرتا ہے کہ صرف استقامت اور مقاومت کے ذریعے ہی خالص اسلامی تشخص اور اسلامِ عزیز کی عزت و سربلندی کو آج کی آلودہ اور تسلط پسند دنیا میں محفوظ رکھا جا سکتا ہے اور اسے عالمی سطح پر متعارف کرایا جا سکتا ہے۔
ان علما اور برجستہ افراد نے انقلابِ اسلامی ایران کو کامیاب مقاومت کی ایک زندہ مثال قرار دیا اور ۲۲ بہمن کو اسلامی بیداری کی تاریخ میں ایک فیصلہ کن موڑ اور عالمِ اسلام میں آزادی خواہ تحریکوں کے لیے الہام بخش دن کے طور پر متعارف کرایا۔
علماء اور عالمِ اسلام کے ان برجستہ افراد کے اسامی درج ذیل ہیں:
- شیخ خالد الملا، عراق میں اہلِ سنت علما کی انجمن کے سربراہ
- شیخ غازی حنینہ، لبنان میں تجمعِ علمائے مسلمین کے بورڈ آف ٹرسٹیز کے سربراہ
- شیخ حسین قاسم، علمائے کونسل فلسطین کے سربراہ
- سید عدنان الجنید، یمن میں تصوف کے رہنما
- شیخ حسن البغدادی، حزب اللہ لبنان کی مرکزی کونسل کے رکن
- مولوی حبیب اللہ حسام، اسلامی اخوت کونسل افغانستان کے سربراہ
- شیخ بلال شعبان، تحریکِ التوحید الاسلامی لبنان کے سربراہ
- شیخ طلال عبدالرحمن، فلسطینی مجاہد اور حماس میں فلسطینی اسیران کے شعبے کے ذمہ دار
- شیخ یوسف مشلاوی، تیار المقاوم فلسطین کے سربراہ
- ڈاکٹر یحییٰ ابو ذکریا، الجزائر سے تعلق رکھنے والے سینئر بین الاقوامی تجزیہ کار
- محترمہ عالیہ الیاسر، عراق سے تعلق رکھنے والی میڈیا کارکن
- شیخ سید بہاء الدین نقشبندی، کردستانِ ایران و عراق میں سلسلۂ نقشبندیہ کے مرشد
- شیخ عبداللہ الدقاق، حوزہ بحرین کے مدیر









آپ کا تبصرہ