حوزہ نیوز ایجنسی کے مطابق، میتا (گجرات) میں چہلمِ قائدِ مقاومت اور شہداءِ راہِ حق کی مناسبت سے ایک پروقار مجلسِ ایصالِ ثواب منعقد ہوئی۔ اس روحانی اجتماع میں مومنین، بالخصوص نوجوانوں نے بھرپور شرکت کی اور شہداء کے ساتھ اپنی وابستگی کا عملی اظہار کیا۔

مجلس کا آغاز حدیثِ کساء کی تلاوت سے ہوا، جس کے بعد قرآنِ مجید کی نورانی آیات کی تلاوت کی گئی۔ بعد ازاں شہداء کی عظیم قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کیلئے منظوم نذرانہ، ترانہ اور اشعار پیش کیے گئے، جنہوں نے مجلس کی فضا کو سوگوار بنانے کے ساتھ حاضرین میں جذبۂ ایمانی بھی تازہ کر دیا۔

پروگرام کے پہلے حصے میں حجت الاسلام مولانا فضل عباس صاحب (امام جمعہ والجماعت، میتا) نے خطاب کرتے ہوئے رہبرِ معظم انقلاب کی شخصیت، بصیرت اور شہادت کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ رہبری کا منصب اور شہادت کا بلند مرتبہ ملتِ اسلامیہ کی بیداری اور استقامت کا ضامن ہے۔

اختتامی مرحلے میں حجت الاسلام مولانا رضوان علی پلسانیہ صاحب نے ذکرِ امام حسین (ع) اور مصائبِ اہلِ بیت (ع) بیان کیے۔ انہوں نے اپنے خطاب میں جذبۂ شہادت کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ایران کی کامیابیوں کا راز دراصل کربلا سے حاصل ہونے والا یہی جذبہ ہے، جو قوموں کو ظلم کے خلاف ڈٹ جانے کی قوت عطا کرتا ہے۔ انہوں نے نوجوانوں کو قوم کا قیمتی سرمایہ قرار دیتے ہوئے اس امر پر زور دیا کہ آج کے جوان ایرانی قوم کی بیداری، استقامت اور پیشرفت سے سبق حاصل کریں۔
مجلس کے اختتام پر امامِ زمانہ (عج) کے ظہور کی دعا اور شہداء کے بلندیٔ درجات کیلئے خصوصی دعا کی گئی۔









آپ کا تبصرہ