حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، "عورت کا نمونۂ سوم" شہید رہبر انقلاب کے فکری نظام میں ایک ایسے نظریے کی نمائندگی کرتا ہے جو دو انتہاؤں سے آگے بڑھنے کی کوشش ہے؛ ایک طرف وہ روایتی طرزِ فکر جو عورت کو صرف گھریلو کردار تک محدود کرتا ہے اور دوسری طرف مغربی طرزِ فکر جو انفرادی آزادی پر زور دیتے ہوئے بعض اوقات خاندان اور خاندانی ذمہ داریوں کو پسِ پشت ڈال دیتا ہے۔
اس نظریے کے مطابق عورت نہ "گھر نشین" ہے اور نہ "گھر گریز"، بلکہ وہ خاندانی اور سماجی دونوں میدانوں میں مؤثر کردار ادا کر سکتی ہے۔ وہ بیوی اور ماں ہونے کے ساتھ ساتھ علمی، ثقافتی اور سماجی سرگرمیوں میں بھی فعال حصہ لے سکتی ہے۔
بین الاقوامی علامہ عسکری یونیورسٹی کی رکنِ علمی کمیٹی محترمہ ڈاکٹر راضیہ زارعی نے حوزہ نیوز ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: حضرت آیت اللہ خامنہ ای نے عورت کے بارے میں جو "نمونۂ سوم" پیش کیا ہے، وہ نہ مغربی نمونہ ہے اور نہ مشرقی، بلکہ ایک مستقل اسلامی طرزِ فکر ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ یہاں "مشرق" اور "مغرب" سے مراد جغرافیائی تقسیم نہیں بلکہ دو مختلف فکری نظام ہیں، جو دنیا کے کسی بھی خطے میں پائے جا سکتے ہیں۔
ڈاکٹر زارعی کے مطابق اس نمونے کی ایک اہم بنیاد "صنفی عدالت" ہے۔ اگرچہ فیمینسٹ نظریات بھی صنفی عدالت کی بات کرتے ہیں لیکن اسلامی نقطۂ نظر میں مرد اور عورت کے درمیان مشترکات کے ساتھ ساتھ فطری فرق کو بھی ملحوظ رکھا جاتا ہے جبکہ فیمینسٹ نظریات اکثر ان فطری فرقوں کو نظر انداز کر کے صرف برابری کے پہلو پر زور دیتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا: اس نمونے میں خاندانی تعلقات باہمی رضامندی اور تعاون پر استوار ہوتے ہیں۔ عورت گھر کے اندر بھی باوقار شناخت رکھتی ہے اور معاشرے میں بھی اس کے حقوق اور ذمہ داریاں تسلیم کی جاتی ہیں۔ اسلامی تہذیب ایسی عورت کی متقاضی ہے جو اپنی سماجی ذمہ داریوں سے بھی آگاہ ہو۔
حوزہ علمیہ خواہران کی استاد نے کہا: عورت صرف ماں یا بیوی نہیں بلکہ بے شمار صلاحیتوں کی حامل ایک مؤثر شخصیت ہے۔ اسلامی تہذیب کی ترقی اور شکوفائی کے لیے ضروری ہے کہ عورت کی صلاحیتیں بھی پروان چڑھیں اور وہ معاشرے میں فعال کردار ادا کرے۔
ڈاکٹر زارعی نے کہا: اگر خاندان اور سماجی ذمہ داریوں کے درمیان کسی قسم کا تعارض پیدا ہو تو حتی المقدور اسے ختم کرنے کی کوشش کی جانی چاہیے تاکہ دونوں میدانوں میں توازن برقرار رہے۔
انہوں نے کہا: طالبات اور دینی خواتین کی اہم ذمہ داری یہ ہے کہ وہ خود اس طرزِ زندگی کو اختیار کریں اور اپنی عملی زندگی میں اسے نافذ کریں۔ ایسی خاتون طالبہ جو اپنے خاندان اور اولاد کی تربیت کا خیال رکھتی ہو، ساتھ ہی اپنی علمی و سماجی ترقی پر بھی توجہ دے، حجاب و عفت کی پابند ہو اور اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے کی کوشش کرے، وہ خود اس اسلامی طرزِ زندگی کا بہترین نمونہ بن سکتی ہے۔









آپ کا تبصرہ