۱۳ آذر ۱۴۰۱ |۱۰ جمادی‌الاول ۱۴۴۴ | Dec 4, 2022
بنت حوا فاونڈیشن بلتستان

حوزہ/ مقررین نے کہا کہ حجاب کے بہت سے فوائد ہیں جن میں خواتین کے لیے ذہنی  سکون،دوسروں کی غلط نگاہوں سے بچنے اور خواتین کی حرمت و احترام ،خاندان کے استحکام،معاشرہ میں امن وامان اور پاکیزہ نسل کے وجود میں آنے کا سبب ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،مرکزی امام بارگاہ حسن آبادشگر میں «عصرحاضر اور خواتین کا قرآنی واسلامی کردار »کے عنوان سے کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ کانفرنس سے حجۃ الاسلام شیخ اشرف شگری،ڈاکٹر محمد یعقوب بشوی،شیخ نیاز علی شگری اور شیخ سکندر بہشتی نے خواتین سے متعلق مختلف موضوعات پرگفتگو کی۔جبکہ بنت حوا فاونڈیشن کی سیکرٹری تعلیم وتربیت کنیز زہرا اور زکیہ بتول نے نظامت کے فرائض انجام دئیے۔

خواہر کنیز زہرا نے ابتدائی کلمات میں تمام علما کو کانفرنس میں خوش آمدید کہتے ہوئے کہا: اس کانفرنس کا اصل مقصد خواتین کو اسلامی تعلیمات کی روشنی میں اپنی ذمہ داریوں سے روشناس کرانے کراناہے۔تاکہ خواتین امام کے ظہور کی راہ میں اپنا واقعی کردار ادا کرنے کے قابل ہوسکیں۔اسی ہدف کے لیے بنت حوا فاونڈیشن مصروف عمل ہیں۔اس کے بعد خواہرمرضیہ بتول شگری نے خواتین کی ذمہ داریوں پر تقریر کی۔

حجۃ الاسلام شیخ اشرف شگری جنرل سیکرٹری وحدت مسلمین ضلع شگر نے فلسفہ حجاب کے موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ: قرآن کریم میں حجاب کا تصور صرف خواتین سے مخصوص نہیں بلکہ سورہ نور کی آیات میں پہلے مردوں کے لیے پھر خواتین کے لیے پردہ کاحکم دیاہے۔۔حجاب کی دوقسمیں ہیں۔ ظاہری اور باطنی حجاب؛ ظاہری حجاب میں جسم کو چھپانا جبکہ باطنی حجاب میں ایمان مضبوط کرنا،حیا،عفت اور شرعی حدود کی پابندی شامل ہے۔حجاب کی کامل رعایت ہوتو معاشرہ صالح ہوگا۔معاشرہ میں حلال وحرام کاتصور باقی رہے گا۔

شیخ اشرف شگری نے حجاب کے فوائد کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہاکہ: حجاب کے بہت سے فوائد ہیں جن میں خواتین کے لیے ذہنی سکون،دوسروں کی غلط نگاہوں سے بچنے اور خواتین کی حرمت و احترام ،خاندان کے استحکام،معاشرہ میں امن وامان اور پاکیزہ نسل کے وجود میں آنے کا سبب ہے۔

معروف اسکالر ڈاکٹر یعقوب بشوی نے خواتین کے قرآنی کردار پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ: آج دنیا میں دشمنان اسلام کی سازشوں کے باجود مسلم خواتین نے اسلام کا پرچم بلند کر رکھا ہے۔ خواتین کو اسلام میں بلند مقام حاصل ہے آپ اپنی عظمت کو جان لیں۔قرآن میں الہی نمائندہ اور حجت خدا کے محافظ کے طور پر تین خواتین کو نمونہ بنا کر پیش کیا ہے۔حضرت موسی کو وقت کے طاغوت اور خدائی کے دعویدار فرعون نے جب قتل کرنا چاہا توحضرت موسیٰ کی ماں،بہن اور فرعون کی بیوی نے مل کر آپ کو بچالی اور محافظ نبی بنیں۔یعنی عورت ماں ،بہن اور بیوی کی صورت میں محافظ نبوت ہیں۔

ڈاکٹربشوی نے مزید کہا: تربیت کی پہلی درسگاہ ماں کی آغوش ہے۔حصول علم کا اصل مقصد اپنی ذمہ داری کو معلوم کرنا اور اپنے دین اور وقت کے امام کی معرفت ہے۔کیونکہ وقت کے پیشوا کی پہچان کے بغیر اعمال مقبول نہیں۔
قرآن کے مطابق« یوم ندعوا کل اناس بامامہم»ہر ایک اپنے امام کے ساتھ محشورہوگا تو دنیا میں جس امام کی پیروی کی ہے ۔قیامت میں اسی کے ساتھ اٹھایاجائے گا۔ اس لیے وقت کے امام کوپہچانیں،ان کے ظہور کے لیے آمادہ ہوں اور آپ خواتین کی ذمہ داری مشن حسینی اور زینبی آواز پر لبیک کہناہے۔ اس وقت مغربی دنیا آزادی کے نام پر بے حیائی اور گمراہی کی جانب لے جارہی ہے۔ ہمیں مغربی بے بند وباری کی ضرورت نہیں۔بلکہ حقیقی آزادی تعلیم،تربیت،شعور ،بیداری اور آگاہی ہے۔ اس لیے آپ خواتین اپنے مقصد زندگی کو جان کرکوشش ومحنت کریں۔ دنیاوی تعلیم پر اکتفا نہ کریں۔مقصد فقط نوکر بننا نہیں بلکہ ساتھ قرآن واہل بیت کی تعلیمات کو اہمیت دیں۔تاکہ آپ اسلامی خواتین کا نمونہ بن سکیں۔

شیخ سکندر بہشتی نے اسلام کی مثالی خواتین اور ذمہ داری کے موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا: الہی ادیان خصوصا اسلام نے عورت کوعظمت دی ہے۔تاریخ کے ہر موڑ پر جہاں دین،حق وباطل کے موقع پر مرد خاموش رہے ،وہاں وقت کے طاغوت کے مقابل خواتین نے ہی کردار ادا کیا اور باطل،ظلم اور طاغوت کے خلاف آواز حق بلند کی۔حضرت خدیجہ،حضرت زہرا،حضرت زینب اور عصر حاضر میں بھی۔اس کی بے شمار مثالیں موجود ہیں۔حضرت امام خمینی نے بھی خواتین کے کردار کو اسلام کی بقا اور تحفظ میں اہم قرار دیاہے۔آپ خواتین بھی اسلام کی مثالی خواتین کی تاریخ وسیرت کامطالعہ کریں،اپنے مقام،حقوق،ذمہ داری کو سمجھیں اور معاشرتی ذمہ داریوں پر عمل پیراہوں۔

مولانا نیاز علی شگری نے اپنے خطاب میں محافل ومجالس،مساجد،سکول ومدارس کو کوتربیت کے اہم مراکز قرار دیتے ہوئے کہا: افسوس ہے کہ تربیت کایہ عظیم فریضہ کماحقہ انجام نہیں پارہاہے۔اس لیے ہر ایک کو اس طرح کے تر بیتی پروگراموں کا اجرا کرنا وقت ضروری ہے۔ ان تمام کاموں میں اللہ کی خوشنودی کو مدنظر رکھیں۔اخلاص کے ساتھ عمل ہوتو کامیابی یقینی ہے۔

عصرحاضر میں خواتین کے فاطمی و زینبی کردارپر عمل پیراہونے کو ضروری قرار دیتے ہوئے ایم نیاز شگری نے کہا:حضرت زینب نے درباروں اور بازاروں میں جاکر پیغام حق پہنچا کر اسلام کی حفاظت کی۔آج کی خواتین کو بھی زینبی سیرت پر چل کر میڈیا اور دیگر گمراہیوں کے مقابلے میں فاطمی وزینبی اسوہ پرعمل کرنا شرعی ذمہ داری ہے۔اگر خواتین کو ترقی کے نام پر بگاڑنے کی کوشش ہوتو زینبی خواتین کو سیرت زہرا وزینب کو نمونہ عمل قرار دیتے ہوئے گمراہیوں کامقابلہ کرنا چاہیے۔

خطباء نے بنت حوا فاونڈیشن کی جانب سے مختلف تربیتی پروگراموں اور خواتین میں اسلامی بیداری کے سلسلے کو سراہتے ہوئے دیگر جگہوں پر بھی ایسے تقاریب کے انعقاد کی ضرورت پر زور دیا۔

عصر حاضر کی خواتین کے لیے قرآنی و اسلامی مثالی خواتین کی سیرت و کردار مشعل راہ ہیں

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
3 + 0 =